Breaking News

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم

dr sajid khakwani
ڈاکٹر ساجد خاکوانی

حال ہی میں امریکہ میں 145Restoring the Republic: Arguments for a Second American Revolution146.کے نام سے ایک کتاب لکھی گئی ہے۔’’تجدیدجمہوریہ؛امریکی انقلاب مکررپردستک‘‘نامی یہ کتاب امرکی فوج کے ایک کہنہ مشق افسر کی تحریرہے۔یہ امریکی فوجی افسر’’کرنل (ر)لارنس سلین‘‘نے اپنی زندگی کے 29سال امریکی فوج کی ملازمت میں گزارے۔کرنل سلین انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اور جہاں دیدہ شخص ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی خارجہ ودفاعی پالیسیوں پر بڑی گہری نظر رکھنے والا دانشور سمجھاجاتاہے۔نوجوان سلین نے 1973ء میں ’’سیٹن ہال یونیورسٹیSeton Hall University‘‘ سے ایم ایس بیالوجی کی سند حاصل کی،اسی مضمون حیاتیات(Physiology) میں اس نے 1978ء میں ڈاکٹریٹ کی سندبھی حاصل کرلی۔اس طرح اب اس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر کاسابقہ بھی لگنے لگا۔اپنے مضمون کی تحقیقات وجستجوئے مزیدمیں وہ یورپ کے ملک سویڈن کی خاک بھی چھانتارہا۔1980ء میں امریکی فوج کی نظر انتخاب نے اس نوجوان کومحقق و ماہرحیاتیات کی حیثیت سے میری لینڈکے آرمی میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (U.S. Army Medical research Institute Maryland)میں تعینات کردیا۔اپنی قابلیت و ذہانت کے باعث ڈاکٹرسلین نے امریکی قومی ادارہ صحت اوریوایس سائنس فاؤنڈیشن میں بھی خدمات سرانجام دیں۔بعدازاں برقیاتی تجارت(E-Commerce)اورانٹرنیٹ کی تکنالوجی کے عالمی پھیلاؤمیں بھی ڈاکٹرسلین نے خاطرخواہ کرداراداکیا۔امریکی فوج میں ڈاکٹرسلین نے کرنل کے عہدے تک ترقی پائی اور افغانستان میں مرکزی مشارتی گروہ کاکماندار(Commander of the Central Corps Advisory Group)اور(Chief of Staff, Special Operations Command, Pacific)بھی رہا۔اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس نے کئی سول اور فوجی اعزازات بھی حاصل کیے۔
مزکورہ بالا کتاب میں’145Restoring the Republic: Arguments for a Second American Revolution146‘میں کرنل سیلین نے پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کاکھل کر اظہارکیاہے۔کتاب کی حیثیت اگرچہ مشاورتی ہے لیکن امریکی روایات کے مطابق اسی طرح کی کاوشیں بالآخرامریکی حکومتی ترجیحات کی صورت اختیارکرلیتی ہیں۔مزکورہ کتاب میں مصنف نے افغانستان کے اندر ایران اور پاکستان کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ پر کھل کر بحث کی ہے اور ان دونوں برادراسلامی ملکوں کے درمیان اختلافات کابرملا استحصال کیاہے۔کتاب میں افغانستان کے اندر جنگ میں ایران اور پاکستان کو نبردآزماثابت کیاگیاہے۔قطع نظراس کے کہ پاکستان اور ایران کاافغانستان میں کیاباہمی کردارہے ،کتابی مندرجات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکہ چاہتاضرورہے کہ افغانستان کے میدان جنگ میں ایران کو پاکستان کے مدمقابل لاکھڑاکیاجائے۔اس طرح افغانستان کے ذریعے امریکہ ان دونوں برادراسلامی ممالک کوباہم دست و گریبان کرکے دونوں ملکوں میں عدم استحکام کے راستے اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کرسکے گا۔
اس کتاب میں امریکی کرنل(ر)سلین نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو اپنے قلم سے خوب خوب زخمی کیاہے۔لگتاہے بلوچستان پر تحریرکرتے ہوئے مصنف نے اپنے قلم کو نشترکاروپ دے رکھاتھاجس کے ذریعے وہ پاکستان کوچیرناپھاڑناچاہتاتھا۔قرآن مجید کے الفاظ میں’’تلک امانیھم‘‘ ترجمہ:’’یہ ان کی خواہشات محض ہیں‘‘کے مصداق ان کے ارادے اور ان کی نیتیں تو صاف طورپرسامنے آگئیں ہیں۔اس کتاب میں واشگاف طورپربلوچستان کو افغان جنگ میں طالبان کاگڑھ ہونے کاالزام لگایاگیاہے۔مصنف نے ایڑھی چوٹی کازورلگاکر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ افغان طالبان کی تمام ترعسکری و مالی مدد بلوچستان کے راستے سے کی جارہی ہے۔کتاب میں متعدد ایسے گروہوں اورافرادکاذکربھی کیاہے جنہیں شاید بلوچستان کے مقامی امن پسند عوام بھی نہ جانتے ہوں۔لیکن ہزاروں میل دوررہنے والے اس طرح کی فرضی کہانیاں بناکر دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکناکیاخوب جانتے ہیں۔مصنف نے ان فرضی گروہوں کوافغان طالبان سے منسوب کرکے ان کی افغانستان میں مداخلت اور امریکی و نیٹوافواج پر حملوں کاذمہ دارقراردیاہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نیٹوکے گروہ کے گروہ اپنے جدیدترین فوجی سازوسامان سمیت افغانستان کے اندرونی ردعمل کوقابوکرنے میں حددرجہ ناکام رہے ہیں بلکہ اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجوداور بے پناہ اخراجات کے بعد بھی حالات درجہ بہ درجہ امریکی مفادات سے مزید شدت سے ٹکراتے چلے جارہے ہیں۔
اس کتاب کے مصنف امریکی کرنل(ر)سلین نے بلوچستان کے مدارس دینیہ کوسعودی عرب اور ایران کی جنگ کاایندھن قراردینے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔کتاب کے مصنف نے بلوچستان کے مسلمانوں کے درمیان فروعی اختلافات کے جزوی واقعات کو بنیادبناکر انہیں اتنابڑھاچڑھاکر بیان کیاہے کہ گویا ابھی کے ابھی بلوچستان میں شیعہ سنی فسادات بس پھوٹنے ہی والے ہیں اور اتنی زیادہ آگ بھڑک چکی ہے کہ ان فسادات میں عوام کی بہت بڑی اکثریت جل جائے گی ۔اور امریکی مصنف کے خیالات میں بلوچی اہل تشیع کے عقب پر ایران کارفرماہے اور اس پاکستانی علاقے کے اہل سنت کے مدارس کو سعودی عرب بھرپور مدد دے رہاہے اور ان دونوں ملکوں نے مذہبی فسادات کے لیے بلوچستان کو میدان جنگ کے طورپر چن رکھاہے ۔ایران اور سعودی عرب کے اختلافات اگرہیں توان دونوں ملکوں کے درمیان ہی ہیں،پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کے لیے دونوں ممالک اپنی مذہبی و ثقافتی حیثیت میں قابل احترام ہیں ۔یہ احترام کا رشتہ امریکہ کو کتناناگوار ہے اس کااندازہ صاحب کتاب کے تجزیوں سے بخوبی کیاجاسکتاہے۔کہیں کہیں توکتاب کے اندر اس بے باکی سے زہراگلاگیاہے کہ صاف معلوم ہوتاہے کہ کتاب کی سطور میں واقعات و حقائق کی بجائے خواہشات کارفرماہیں۔
پاکستان دشمنی کااس سے بڑھ کراورکیاثبوت ہوگاکہ امریکی صاحب کتاب نے سی پیک منصوبے کی شاہراہ کوامریکی مفادات کے لیے بہت سنجیدہ خطرہ قراردے کر اس منصوبے کے خلاف سخت اقدامات پرزوردیاہے۔امریکہ جیسا اتنابڑاملک اور دنیاکی واحدسپرپاورکوہزاروں میل دورسات سمندرپارایک سڑک کی تعمیرپر نامعلوم اپنی جان کے لالے کیوں پڑ گئے ہیں؟؟؟صاحب کتاب نے پرزورطورپرسفارش کی ہے کہ سی پیک سے امریکی دفاعی مفادات بری طرح حرج ہوں گے ۔صاحب کتاب کوسی پیک منصوبے میں چین کی شمولیت پر امریکہ کو شدید تحفظات ہیں،کتنی ہی لمبی مباحث سے یہ نتیجہ نکالا گیاکہ اس منصوبے میں چین کی شمولیت کے باعث امریکی عسکری ترجیحات بری طرح غیرمتوازن ہو سکتی ہیں۔گویاامریکہ کی شدید خواہش ہے کہ لولالنگڑاپاکستان ہمیشہ صرف امریکہ کاہی دست نگررہے اورامریکہ سبزباغ دکھادکھاکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا خون نچوڑتارہے اور کہیں اور سے اگرپاکستان کو بادنسیم میسر آئے جس سے وطن عزیزکے گلشن میں آمدبہارکے امکانات پیداہوسکیں تو امریکہ کویہ قطعاََبھی کسی طور برداشت نہیں۔
امریکی کرنل (ر)سلین نے ان تمام فرضی حقائق کو بنیادبناکر بڑی جرات رندانہ سے پاکستان توڑنے کی بات کی ہے اور واشگاف انداز سے کہاہے کہ جب تک بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ نہیں کیاجائے اس وقت تک افغانستان کے حالات بھی سنبھالے نہیں سنبھلیں گے۔ صاحب کتاب نے تویہاں تک بھی کہاہے کہ امریکہ کو افغانستان کی بجائے بلوچستان پراپنی پوری توجہ مزکور کر دینی چاہیے تاکہ ظالبان کی محفوظ پناہ گاہیں اورتربیتی ادارے ختم کیے جاسکیں۔بلوچستان پرامریکی قبضے سے صاحب کتاب نے امریکی حکومت کو سمندروں تک براہ راست حصول شاہراہ کا ذریعہ بھی بتایاہے اور اس طرح پاکستان کی متوقع معاشی خوشحالی بھی کھٹائی میں ڈالی جاسکے گی اور یوں پاکستان ہمیشہ امریکی امدادکے سہارے ہی زندہ رہنے پر مجبورہوگااور اس طرح امریکی حکومت آسانی سے پاکستان اور پاکستانیوں سے اپنے مفادات کاتحفظ کرواسکے گی۔صاحب کتاب کے شیطانی خیالات کے مطابق بلوچستان پر امریکی قبضے سے شیعہ سنی فسادات کابھی قلع قمع ہوجائے گااورسعودی عرب ایران کی کشمکش سے بلوچستان کے عوام کونجات مل جائے گی اور یوں عالمی امن کی طرف ایک خاطرخواہ پیش رفت ہوپائے گاجس سے خطے کااستحکام یقینی ہوجائے گا۔اور سب سے بڑافائدہ یہ کہ چین اپنی حدود میں واپس لوٹ جائے گااورآزادسیکولربلوچستان سے پاکستانی اسلامی تشخص کو بھی ختم کرناآسان ہوجائے گا۔
وطن عزیزاسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں جس ملک کے پالیسی ساز افرادکے یہ خیالات ہوں اور پھربھی کچھ لوگ اس ملک کو پاکستان کاخیرخواہ سمجھیں توایسے لوگوں کے غداران ملت ہونے پر کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان بہر صورت ایک آزاداور خودمختارملک ہے،امریکہ سمیت دنیاکے کسی ملک کوپاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اورپاکستانی عوام کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی طرح کے فیصلے کرنے کاکوئی حق واختیارحاصل نہیں ہے۔امریکی اعلی عہدیداروں کاپاکستان میں مداخلت اور پاکستان کے نام نہادمصنوعی علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں اور ان کی فرضی پزیرائی کی خبروں کی اشاعت پاکستان سے کھلی دشمنی کے مترادف ہے اور پاکستانی قوم اسے کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔پہلے ہندوستانی کے مسلمان ہونے کے وقت سے بننے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان اس زمین کے سینے پر آخری مسلمان کے وجود تک برقراررہے گا اور اس کے مٹانے کی خواہش رکھنے والے ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے،انشااﷲتعالی

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین