Breaking News

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

dr sajid khakwani
ڈاکٹر ساجد خاکوانی

حال ہی میں امریکی صدرکے طے شدہ دورہ برطانیہ کو منسوخ کردیاگیاہے،یہ دورہ اگلے ماہ فروری 2018میں ہوناطے پایا تھالیکن دوروزقبل کے اعلانیے کے مطابق یہ دورہ منسوخ کردیاگیاہے۔اس دورے میں لندن میں امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت کاافتتاح ہوناتھا۔اس کے علاوہ برطانوی وزیراعظم سے مزاکرات اور ملکہ برطانیہ کے ساتھ ظہرانے کے اہم پروگرام بھی شامل تھے۔امریکی صدرکی ٹویٹ کے مطابق اس دورے کے منسوخ ہونے کہ وجہ سابقہ امریکی صدر بارک اوباماکی برطانیہ میں امریکی سفارت خانے کی فروخت ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق سابقہ صدر نے سفارت خانے کی گزشتہ عمارت اونے پونے داموں فروخت کردی تھی اور اس کی بجائے ایک خطیررقم سے سفارت خانے کی موجودہ عمارت تیارکی گئی۔صدر ٹرمپ چونکہ اس کاروباری بیع و شراسے مطمئن نہیں اس لیے یہ دورہ منسوخ کردیا۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کامنصوبہ 2008ء میں تیارہواتھاجب جارش ڈبلیوبش کے ہاتھ میں امریکہ کی عنان اقتدارتھی۔بہرحال صدر ٹرمپ چونکہ اس کاروباری معاہدے سے مطمئن نہیں ہیں اورسابقہ صدر بارک اوباماسے انہیں شدید اختلاف ہے اس لیے وہ اس نئی عمارت کافیتہ کاٹنے کے روادار بھی نہیں ہوسکتے۔امریکہ وبرطانیہ کی سفارتی تاریخ میں یہ ناخوشگوار فیصلہ شاید اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ بڑی بدتمیزی سے طے شدہ دورہ منسوخ کیاگیااور سفارتی آداب کے عین برخلاف اگلے دورے کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔برطانوی عہدیدارسے جب پوچھاگیاکہ امریکی سفارت خانے کا افتتاح کیونکرہوگاتواس نے جواب دیاکہ یہ امریکی حکومت کامعاملہ ہے۔
قومی و بین الاقوامی معاملات میں امریکہ کی حالیہ قیادت کے متعدد فیصلوں کو دنیابھرمیں بڑی حیرت و استعجاب کے نظروں سے دیکھاجارہاہے۔عالمی معاملات کے ماہرین امریکی ایوان اقتدارسے برآمدہونے والے فیصلوں کو غیرسنجیدہ قراردیتے ہیں اوران فیصلوں پر انگشت بدنداں رہتے ہیں۔قدرت بعض اوقات بہت جلدبھی انتقام لے لیاکرتی ہے۔امریکی خفیہ ادارے دنیابھرمیں سازشوں کے ذریعے دوسرے ملکوں پرجس طرح کے حکمران مسلط کیاکرتے تھے اب خود ان کے اپنے اندرشاید اسی طرح کاحکمران براجمان ہوچکاہے۔موجودہ امریکی صدر کے بعض رویوں کے پیش نظر تو خود امریکہ کی جامعات سے ان کے ذہنی توازن پربھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔امریکی کرنسی اور امریکی فوج بہرحال دنیاپر بلاشرکت غیرے حکومت کررہے ہیں،ان حالات میں امریکی قیادت کے فیصلے،ان کے بیانات اور ان کی ترجیحات کو پوری دنیامیں طرح طرح کے پیمانوں میں تولا جاتا ہے ۔ذمہ داری کاتقاضاہے کہ دنیاکوساتھ لے کرچلنے والے اپنی حیثیت کو پہچانیں اور بچگانہ رویوں سے پرہیز کریں،لیکن امریکی جیلوں میں قیدیوں پر ہونے والے بے پناہ ظلم و ستم کے باعث اب امریکی عروج کے دن بھی گنے جاچکے ہیں۔برطانیہ نے ہمیشہ امریکہ کاساتھ دیاہے اور ’’عالمی برادری‘‘کے نام پر یہی دونوں ممالک پوری دنیاپر اپنی کاذبانہ ومنافقانہ پالیسیاں بزورقوت مسلط کرتے رہے ہیں۔اب امریکی قیادت نے عالمی ظلم میں شریک اپنے اسی ملک کادورہ منسوخ کردیاہے۔جب کہ موجودہ برطانوی وزیراعظم نے حصول اقتدارکے بعد سب سے پہلے امریکہ کاہی دورہ کیاتھااور امریکی صدر سے ملاقات کی اور انہیں برطانیہ دورے کی دعوت بھی دی تھی۔
برطانوی دارالحکومت لندن کے مسلمان رئیس البلدیہ ’’صادق خان‘‘نے دورے کی منسوخی پر خوشی کااظہارکیاہے اوربہت چھبتاہواتبصرہ بھی کیاہے،انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ’’ شایدامریکی صدر کو لندن کے باسیوں کا پیغام پہنچ گیاہے‘‘۔لندن کا رئیس البلدیہ جوکہ علاقے کے کل شہریوں کانمائندہ ہے نے کھل کر اپنی ناپسندیدگی کااظہارکیاہے کہ یقیناََلندن کے شہری امریکی صدر ٹرمپ کو حد درجہ ناپسند کرتے ہیں اور ان کی دلی خواہش تھی کی امریکی صدر لندن کواپنے پاؤں سے میلا نہ کریں۔رئیس البلدیہ کے مطابق امریکی صدر لندن کے شہریوں کے دل کاحال گویا جان گئے ہیں اور اسی لیے شاید انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیاہے۔صادق خان نے یہ بھی بتایا اگلے ماہ امریکی صدر کے دورے کے دوران لندن کے شہری ان کے خلاف ایک خاموش اور پرامن مظاہرہ کرنے کے لیے تیار تھے۔لندن کے عوامی نمائندے نے کھل کر بتایاکہ برطانیہ کے شہری امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں اور پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں اورانہیں انتہائی ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔جمعۃ المبارک 12جنوری کو دیے گئے بیان میں صادق خان نے کہا برطانوی شہریوں کے مطابق امریکی صدر کے متعدد فیصلے ان کی روایات اورباہمی مفاہمت کے بالکل منافی ہیں۔لندن کے شہریوں کایہ ردعمل گویاپوری دنیاکے لوگوں کی سوچ کی آئینہ داراور نمائندہ ہے کہ امریکی منصوبہ بندیوں کے بارے میں پوری دنیامیں ایک عام نفرین پائی جاتی ہے اور امریکی فوج،امریکی حکومت اور امریکی موجودہ حکمران کو بالعموم حقارت اور ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھاجاتاہے۔
دوسرے ملکوں میں امریکی مداخلت کاایک دلچسپ واقعہ بھی شایدان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی سردمہری کا پس منظرہوسکتاہے۔لندن میں ایک مقام پر جب رئیس البلدیہ نے خطاب کرناتھا توٹرمپ نواز غنڈوں نے جناب صادق خان کوپکڑنے اور گرفتارکرنے کی کوشش کی۔امریکہ باقی ملکوں میں تواس طرح کی بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر بدمعاشی کرتاہی ہے لیکن برطانیہ کے لیے شاید یہ ناقابل برداشت تھا۔ان غنڈوں کو شکایت یھی کہ صادق خان ایک اور موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کودھوکے باز،بے وفا اورظالم کہ کربے عزت کیاہے۔ٹرمپ کے بارے میں ان خیالات کااظہارصادق خان نے شاید اس موقع پر کیاتھا جب امریکی صدر نے مسلمانوں کے بارے میں سخت گیر منصوبوں کااعلان کیاتھا۔ہفتہ 13جنوری2018ء کو جب لندن کے رئیس البلدیہ تقریر کے لیے اپنے مقام پر تشریف لائے توایک غنڈہ ’’ڈیوے رسل‘‘(Davey Russell)اپنے نصف درجن بھرساتھیوں کے ساتھ لکڑی کے ایک چھاتے کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے ان پر لپکے اورانہیں پکڑنے اور گرفتارکرنے کی نازیباکوشش کی۔انہوں نے ہال کے اندر شورمچایا،جب انہیں پکڑنے کی کوشش کی گئی توانہوں نے کہاکہ ہم ٹکٹ لے کرآئے ہیں۔ہنگامہ کرتے ہوئے یہ لوگ اسٹیج تک بھی پہنچ گئے۔ان میں سے ایک غنڈہ صادق خان کی میز کے سامنے جاپہنچااوراپنی پشت سے امریکی پرچم نکال کر صادق خان کے سامنے تان دیا۔اس دوران حاضرین میں سے بھی کچھ لوگ آگے بڑھے اور پھر پولیس نے ان غنڈوں کو باہر نکالاجس کے بعد رئیس البلدیہ نے اپنی تقریر مکمل کی۔رسل نامی اس شخص نے اپنے گروہ کانام بھی بتایا جب کہ اس سے پہلے یہی شخص ’’رسل‘‘ایک ریڈیومیں خلاف اسلام پروگرام کیاکرتاتھا۔رسل نے اخباری نمائندوں کو بتایا بحیثیت مسلمان صادق خان دہشت گرد ہے اور اسے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے کاکوئی حق حاصل نہیں ہے۔رسل نے بڑی بدتمیزی سے کہاکہ لندن کے رئیس البلدیہ کواپنی ناک ریاست سے باہر نہیں نکالنی چاہیے اور صرف اپنے شہر کے اندر کے معاملات ہی دیکھنے چاہییں۔
اس دورے کی منسوخی کے اصل محرکات کیاتھے؟؟اس پر سے توتاریخ ہی پردہ اٹھائے گی۔لیکن ایک امریکی عہدیدارنے کہاکہ برطانیہ کی طرف سے مسلسل سردمہری اس دورے کی منسوخی کی وجہ بنی،دیگرتجزیہ نگاروں کی اکثریت کاخیال ہے کہ برطانیہ میں ڈونلڈٹرمپ کی آمدپر امریکہ کے خلاف طے شدہ بڑے پیمانے پر مظاہروں کاخوف امریکی صدرکودامن گیرتھا۔ایک خیال یہ بھی بتایاجاتاہے کہ برطانیہ میں اخباری نمائندوں کے تیزوتندسوالوں کے خوف نے بھی امریکی صدرکوقلعہ بندرہنے پر مجبورکردیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ایک سال کے دورانیے میں برطانوی حکومت کی طرف سے دی گئی تنہائی کی شکایت بھی موجودہے۔کم و بیش 1.8ملین افرادنے محضرنامے پر دستخط بھی کیے تھے جس میں اس دورے کی منسوخی کامطالبہ درج تھااور بعض اطلاعات کے مطابق پارلیمان میں بھی یہ موضوع گونجتارہا۔بی بی سی کے مطابق اب یہ دورہ اس سال کے آخر تک وقوع پزیر ہوسکتاہے،لیکن ممکن ہے یہ لوگوں کامنہ بندکرنے کے لیے کہاگیاہو۔
مل کرکاروائیاں کرنے والے کتنے ہی ہم آہنگ کیوں نہ ہو تاریخ شاہد ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی ضرورٹوٹتے ہیں۔امریکہ اور برطانیہ نے مل کر دنیاکے امن کوسبوتاژکیاہے۔امن عالم کے نام پر اور پیشگی دفاع کے مفروضوں پر اور دہشت گردی کاشور مچامچاکر اقوام متحدہ کے انگوٹھے لگے کاغذوں کوبنیادبناکر اس وقت مشرق و مغرب میں نیٹوکی افواج نے کشت و خون کابازارگرم کررکھاہے اور کوئی قوم اور کوئی ملک ان کے سودی یاعسکری یاتہذیبی یلغارسے محفوظ نہیں ہے۔ان دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں نے دنیابھرمیں اپنے پنجے گاڑ کر حکومتوں کی ناک میں دم کررکھاہے۔ عالم انسانیت ان کے خونین پنجوں میں سسک سسک کر عرصہ حیات پوری کررہاہے۔استعمار کے درمیان یہ دراڑیں اقوام عالم کے لیے گھپ اندھیرے میں روشنی کی پھوٹتی ہوئی ایک خوش آئند کرن ثابت ہوگی۔ان دونوں ممالک کے بل بوتے پر عالم اسلام پر مسلط مصنوعی قیادت بھی بہت جلد کمزوری کاشکارہوچکے گی اوریوں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی منزل قریب تر آ لگے گی۔اﷲتعالی نے چاہاتوآنے والا دورامت مسلمہ کی قیادت میں کل انسانیت کے لیے رحمت و برکت اور امن واستحکام کاحامل ہوگا،انشااﷲتعالی۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین