Breaking News

استاد شا عر حبیب الر حمن حبیب ؔ مر حوم کی یاد میں

ameen farooqi
امین فاروقی

شا عری انسان کے اندر نئی دنیا دریا فت کر نے کا جو ش بر پا کر تی ہے ۔شا عری نے دنیا میں اپنی الگ شنا خت ، افا دیت اور مو جو دگی کا لو ہا منوا یا ہے ۔ شعر کہنا اور شا عری کی تعلیم دینا دو نو ں شعبے اپنی اپنی جگہ پر انتہا ئی اہمیت کے حا مل ہیں ۔ ضلع گجرات شعر و ادب کے لحا ظ سے بہت زر خیز ہے ۔انجم خیا لی سے شر یف کنجا ہی تک بے شما ر نا مور شعرا ء نے اسی دھرتی پر جنم لیا ۔ ضلع گجرات کی سب سے چھو ٹی تحصیل سرا ئے عا لمگیر کے نوا حی گا ؤ ں چک نتھاسے تعلق رکھنے وا لے شا عر ڈا کٹرراجہ حبیب الر حمن حبیب ایک استاد شا عر تھے ۔ انہو ں نے سرا ئے عا لمگیر میں شعر و ادب کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ آج انکی وفات کے بعد ان کے شاگردان کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار ہو چکی ہے۔ استاد حبیب الر حمن حبیب مر حوم کی محنتوں اور ادب سے بے پنا ہ لگا ؤ کا اندازہ اس با ت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ انہو ں نے سرا ئے عا لمگیر کے شعرا ء کو اوزان و بحور سبقاََ پڑھا ئی۔ مجھ نا چیز سمیت استاد حبیب الر حمن حبیب کے شا گردوں میں سید انصر (صا حبِ دیوان )دلشاد ادیب (صاحبِ دیوان) اے شکور مرزا (صا حبِ دیوان ) امجد میر (صا حبِ دیوان ) مبارک غزالی ، ڈا کٹر غلام فر ید طا ہر ، پرو فیسر حفیظ وارثی (صا حبِ دیوان) سمیت دیگر بے شما ر شعرا ء ہیں ۔ سرا ئے عا لمگیر میں شا ید ہی کو ئی شاعر ایسا ہو جھنو ں نے بلواسطہ یا بلا واسطہ استاد حبیب الر حمن حبیب سے شا عری میں فنی تر بیت نہ لی ہو ۔ استاد حبیب الر حمن حبیب ہو میو پیتھک ڈا کٹر تھے ۔ لیکن انہو ں نے با قاعدہ کبھی پر یکٹس نہیں کی ۔ آج سے تقریباََ پندرہ سال قبل سرا ئے عا لمگیر میں ہی دلشاد ادیب (حا ل مقیم امر یکہ) کی وسا طت سے استاد حبیب الر حمن حبیب سے ملا قات کا شرف حا صل ہوا ۔ دبلے پتلے ، لا غر اور چہرے پر چھو ٹی چھو ٹی دھڑی ایک ہا تھ میں سگریٹ سلگا یا ہوا اور آنکھو ں میں محبت اور پیار کے بے شمارجذبات لیے ہو ئے ایک عظیم شخصیت سے ملا قات میری زندگی کا اثاثہ بن گئی ۔ اس دن سے استاد حبیب الر حمن حبیب کی وفات 18اکتو بر 2003تک ایک شفیق استاد کے ساتھ ایک فر مانبردار شا گرد کا تعلق قائم رہا ۔ مجھے آج بھی یا د ہے جب میں نے اپنے ہا تھو ں سے اپنے شفیق استاد حبیب الر حمن حبیب کے جسدِخا کی کو قبر میں اتاراتو میرے دا ئیں طرف سید انصر کھڑے تھے اور ہما ری آنکھو ں سے آنسو جا ر ی تھے اور میں نے سید انصر صاحب کی طر ف متو جہ ہو کر کہا کہ شا ہ صاحب آج آپکا یہ شعر مکمل طور پر صادق آرہا ہے کہ
آہیں رکتی ہیں نہ اشکو ں کی لڑی ٹوٹتی ہے کو ن یو ں شعلہ و شبنم کو بہم کھینچتا ہے ۔
استاد حبیب الر حمن حبیب سے روحا نی تعلق آج بھی قائم و دائم ہے ۔ شعرو ادب میں اوزان کو کلیدی حیثیت حا صل ہے اور استاد حبیب اوزان کو نہ صرف پر کھنے کی بے پناہ صلا حیت رکھتے تھے بلکہ اوزان و بحور کو اس انداز سے سکھا تے تھے کہ سیکھنے وا لا کبھی بھی بھو ل نہیں پا تا ۔ میں وثوق سے کہتا ہو ں کہ سرا ئے عا لمگیر میں شعر کہنے وا لے شعرا ء بے وزن شعر نہیں کہتے۔ اس کی بنیادی وجہ استاد حبیب صاحب کی تربیت کا اثر ہے ۔استا د حبیب نے کبھی بھی ادبی بد دیا نتی کا مظا ہرہ نہیں کیا ۔ شعر و ادب میں ایک عظیم اور امین خادمِ ادب ہو نے کا ثبوت دیا ہے ۔ استاد حبیب الر حبیب کے بڑے بھا ئی پروفیسر فضل الر حمن عظیمی مر حوم اردو اور فا رسی کے پختہ شا عر تھے جبکہ استاد حبیب الر حبیب کے چھو ٹے بھا ئی ڈا کٹر غلام فرید طا ہر بھی بہت عمدہ شعر کہنے وا لے ہیں ۔ حبیب صاحب نے سرا ئے عا لمگیر میں ادب کی بے لو ث خدمت کی ۔انہو ں نے ادبی تنظیم ’’سرا ئے سخن‘‘ کا قیام عمل میں لا یا جس میں راقم سمیت دلشاد ادیب (حال مقیم امر یکہ )اے شکور مرزا ؔ ، ڈا کٹر غلام فرید طا ہر ،مشتاق خلیل سمیت دیگرشعراء شامل تھے ۔حبیب الر حمن حبیب صاحب کا شعری مجمو عہ انکی زندگی میں تو منظرِ عام پر نہ آسکا لیکن اب انکے چھو ٹے بھا ئی ڈا کٹر غلام فرید طا ہر اس با رِ گراں کو اٹھا نے کے لیے کو شاں ہیں امید ہے کہ استاد حبیب صاحب کا منفرد اور خو بصورت لب و لہجے سے مزین شعری مجموعہ جلد منظرِ عا م پر آ جا ئے گا۔ ایک شا گرد ہو نے کے نا طے میرے بھی جذبات اپنے استاد کے لیے ویسے ہی ہیں جیسے ایک روحا نی بیٹے کے ہو نے چا ہیے۔ میں بر ملا اس با ت کا اظہار کر تا ہو ں کہ مجھ نہ چیز کو آج جو شعر و ادب کی تھو ڑی بہت سوجھ بو جھ ہے وہ استاد حبیب صاحب کی شفقت کا اثر ہے ۔ سرا ئے عا لمگیر میں مشاعروں کا با قاعدہ انعقاد اور شعری نشستوں کا تواتر سے ہو نا بھی استاد حبیب صا حب کی تربیت کا اثر ہے ۔ استاد حبیب اکثر کہا کر تے تھے کہ اچھا خیا ل اور عمدہ شعر خو دبخود دل میں اتر جا تا ہے اور یہ اللہ تعا لی کی بہت بڑی دین ہو تی ہے ۔ استاد حبیب روائیتی استاد شعرا ء کی طر ح نہیں تھے کہ جن کے پا س کو ئی نو آموز اصلا ح کی غر ض سے چلا جا ئے تو وہ استاد نما شاعر اسے چھٹی کا دودھ یا د دلا دیں۔ میں نے با رہا مرتبہ ایک ہی نشست میں نو آمو ز شعرا ء کے کلام کی اصلاح کر تے ہو ئے بھی استاد حبیب صاحب کو دیکھا ہے اور بد لے میں کسی بھی مفاد ، دادیا صلے کی طلب نہیں رکھتے تھے ۔ سرا ئے عا لمگیر میں ادب کی بے لو ث خدمت کر نے وا لو ں میں استاد حبیب الر حبیب کا نام سر فہرست ہے ۔ 18اکتو بر 2003کو استاد حبیب الر حبیب اس دارِ فا نی سے کو چ کر گئے انہیں ان کے آبا ئی گا ؤ ں چک نتھا تحصیل سرا ئے عا لمگیر میں سپردِ خا ک کر دیا گیا ۔ استا د حبیب الر حمن حبیب گو کہ اس وقت ہم میں مو جو د نہیں لیکن انکی ادبی خو شبو کو ہم ہر ادبی تقریب ، مذاکرے ، مشا عرے اور ادبی فضا ء میں محسوس کر تے ہیں ۔ دعا ہے اللہ تعا لی مر حوم استاد حبیب الر حمن حبیب کو اپنی رحمتوں کے سایے میں جگہ دے ۔آخر میں استاد حبیب الر حبیب مر حوم و مغفور کے کلام کا کچھ حصہ آپ قارئین کی نذر
جہاں کہیں بھی کیا ہے قیام شام کے بعد
سکوتِ شب سے کیا ہے کلام شام کے بعد
میں شام تک تو رہا آفتاب کی زد میں
چراغِ شب نے لیا انتقام شا م کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پکا رے قندِ وفا سے زبان بھر کے مجھے
کر ے ہے قتل مری جان، جان بھر کے مجھے
ابھی تو پہلے ستارے پہ پا ؤں رکھا ہے
ابھی تو بڑھنا ہے آگے اڑان بھر کے مجھے
کہاں وہ شخص جو پتھر میں جان بھر تا ہے
حبیب ؔ سنگ پکا رے چٹان بھر کے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو یہ سوچ کے چڑھتا نہیں گھر کی چھت پر
کیو ں کسی غیر کے گھر میں مرا سایہ جا ئے

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین