Breaking News

گھریلو ملازم محمد اختر کا بہیمانہ قتل

sabir mughal
صابر مغل

اندرون دہلی گیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی ممبر صوبائی اسمبلی (خواتین کی مخصوص نشست نمبر307سے منتخب شدہ)بیگم شاہجہاں کے گھر اس کی بیٹی فوزیہ کے مبینہ تشدد سے اوکاڑہ کے رہائشی 16 سالہ گھریلو ملازم اختر علی کی ہلاکت درندگی اور سفاکیت کی انتہا ہے،پولیس تھانہ اکبری گیٹ نے مقتول کی تشدد زدہ لاش خاتون ایم پی اے کے گھر سے برآمد کرکے پوسٹمارٹم کے لئے ہسپتال پہنچائی ،مقتول اختر اور اس کی چھوٹی بہن عطیہ دونوں ہی اس گھر میں گذشتہ چار سال سے ملازم تھے ایم پی اے کی صاحبزادی فوزیہ اکثر ان گھریلو ملازمین پر تشدد کا پہاڑ کھڑا کیا کرتی تھی ،اس روز بھی فوزیہ نے اختر علی کو لوہے کا راڈ اور چمچوں کے ساتھ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ساتھ ہی اس کی بہن عطیہ پر بھی خوب تشدد کیا،اختر علی زخموں کی تاب نہ لا سکا اور دیارے غیر میں سسک سسک اور تڑپ ترپ کر جان دے دی ،اس قتل کے بعد ایم پی اے کے گھر کو تالے گ گئے زخموں سے چور اس کی بہن کی پکار پر اہل محلہ نے پولیس کو اطلاع کی تو تالہ بند گھر سے لاش برآمد ہوئی،پولیس نے مقتول اختر علی کے والد محمد اسلم کی مدعیت میں ایم پی اے شاہجہاں کی بیٹی فوزیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا ہے ،ملزمہ نے برقعہ پوش ہو کر سیشن عدالت سے عبوری ضمانت کرا لی ،پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتول محمد اختر پر تشدد ثابت ہو گیا ہے جسم کے چوٹوں کے درجنوں نشانات کے علاوہ ٹانگ ٹوٹنے کے باعث سوجی ہوئی تھی اس کا معدہ خالی البتہ مقتول موت سے قبل بہیمانہ تشدد کے باعث الٹیاں کرتا رہا،اس کی بہن پر بھی تشدد کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں ،اس قتل پر وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے مکمل انصاف کا حکم دیا ہے،پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے میاں محمود الرشید نے اس واقعہ پر توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا ہے،مقتول محمد اختر اوکاڑہ شہر سے شمال کی جانب دریائے راوی کے قریبی گاؤں ۔لکھن۔کا رہائشی ہے یہ پسماندہ سا گاؤں نیشنل اسمبلی کے حلقہ 143،صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 185اور پولیس اسٹیشن ۔راوی۔میں واقع ہے ،قومی اور صوبائی اسمبلی کے یہاں سے منتخب ارکان ایم این اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ اور ایم پی اے ثمینہ نور کھرل ہیں جن کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے،مقتول محمد اختر کی لاش اس کا پاب جیسے بے بسی کے عالم میں گاؤں پہنچا تو ایک کہرام مچ گیا ،معصوم کی المناک موت جس سے معاشرتی ناہمواری اور بے انصافی کی تصویر آویزاں تھی پر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ،وزیر اعلیٰ کے حکم پر چیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن صبا صادق (جنہیں بھی شاید اپنی ذمہ داری کا اس وقت احساس ہوا جب خادم اعلیٰ نے انہیں اوکاڑہ پہنچنے کا سپیشل حکم جاری کیا) ایم این اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ اور یہاں سے منتخب خاتون ایم پی اے والد رائے نور محمد کھرل کے ہمراہ وہاں پہنچیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنماء صمصام بخاری اور رائے حبیب اللہ کے ہمراہ ۔لکھن ۔پہنچے انہوں نے مقتول خاندان کو عمران خان کا پیغام پہنچاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی ہر طرح کی امداد جاری رکھیں گے، 3جنوری2014کو عسکری نائن لاہور میں ہی دس سالہ گھریلو ملازمہ ۔ارم۔جس کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہی تھا کو لوہے کے راڈ سے مار مار کر ہلاک کر گیا تھا،یتیم ارم کا والد انتقال کر گیا جبکہ ایک حادثے میں اس کی والدہ معذور ہو گئی تھی اور پانچ بہن بھاائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ،اسی ہفتے لاہور میں گھریلو ملازمہ پر تشدد سامنے آیا جس میں عذرا نامی 15سالہ بچی کو اس کے مالک نے جنسی زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا،پاکستانی معاشرے میں جہاں کم عمر بچوں سے محنت مزدوری کرانے کا کلچر عام ہے وہیں حالیہ کچھ سالوں میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں بھی تشویشناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس دوران مالکان کے ہاتھوں تشدد کا شکار بننے والے بچوں میں سے30کے قریب موت کی وادی میں چلے گئے جبکہ تشدد کے ہزاروں ایسے واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ نہ ونے کے سبب ۔دب ۔جاتے ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق روزی کے لئے کم از کم ڈیڑھ کروڑ بچے سڑکوں یا اجنبیوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں،ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟کیا برتاؤ کیا جاتا ہے ؟ان پر کیا مظالم کے کیاکیاپہاڑ توڑے جاتے ہیں؟ کسی کو کچھ علم نہیں ،اسلام آباد شہر میں سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں طیبہ تشدد کیس سامنے آیا جس پر سب ٹھیک ہے کی رپورٹ سانے آئی مگر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر یہ کیس کچھ آگے چلا،حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایسے واقعات کا تدارک یا روک تھام نہیں ہو سکی حکومت مناسب قانون سازی کے ذریعے گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے مگر وہ اس حوالے سے بری طرح ناکام نظر آئی ،2015میں سینٹ میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے حوالے سے ایک بل پاس ہوا لیکن جس قانون سازی کی اس وقت ضرورت ہے وہ اس پاس ہونے والے۔بل۔سے کافی مختلف ہے،ملک میں ایسے واقعات کی شرح کا بڑھنا بہت افسوسناک ،شرمناک اور خطرناک ہے کیونکہ ہر گھر میں معصوم بچے ہی کام کر رہے ہیں جن کے بنیادی حقوق اور تحفظ کا کچھ خیال نہیں رکھاجاتا حالانکہ یہ حکومتی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے در حقیقت اس قانون سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ طبقاتی نظام ہے،ان واقعات میں مجموعی طور پر غریب طبقے کے ہی بچے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں ان میں قانونی جنگ لڑنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ تشدد کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے والے معصوموں کے والدین اور ورثاء ۔ظالموں ۔سے صلح کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،گھریلو ملازمین پر تشدد کے حوالے سے ایسا قانون وضع کیا جائے کہ یہ ناقابل صلح جرم ہو،حکومت کے ساتھ ساتھ این جی اوز،انسانی حقوق کی تنظیموں کا کارکنان بھی اس طرح کام نہیں کر سکے جیسا کہ انہیں کرنے کی ضرورت تھی سول سوسائٹی اور یہ این جی اوز ان واقعات کے سامنے آنے پر تو بہت آواز بلند کرتی ہیں ان کی طرف سے مظلوم خاندان کی مدد اور ناکافی قانون سازی پر حکومت کے خلاف آوا ز بلند کرنے کے بڑے دعوے سامنے آتے ہیں مگر جیسے مرنے والے پر سکوت طاری ہوتا ہے ویسے ہی حکومت اور انسانی حقوق کی علمبردار این جی اوز پر بھی سکوت چھا جاتا ہے،پتا نہیں اس ملک میں مظلوم کو انصاف کس صدی میں ملے گا،امید ہے اس انتہائی افسوسناک واقعہ میں محمد اختر کی ہلاکت پر مقامی ایم این اے چوہدری ندیم عباس ربیر ہ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے کے باجود ضرور اس غریب خاندان کا ساتھ دیں گے

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین