Breaking News

عالمی لٹریسی ڈے اورپاکستان

sabir mughal
صابر مغل

ہر سال 8ستمبر کو عالمی سطع پر لٹریسی ڈے منایا جاتا ہے ، مسلمان تعلیم کے بانی تھے آج بھی یورپ کی یونیورسٹوں میں مسلمانوں کی کتابیں نصاب کا حصہ ہیں،تعلیم کسی بھی آدمی کے ذہن کو آنکھ عطا کرتی ہے اسی سے شعور جنم لیتا ہے اور باشعور ہی حقیقی معنوں میں انسان ہوتا ہے کیونکہ جو با شعور ہیں وہی بہترین انسان ہیں،گھر ،خاندان ،معاشرہ ،شہر او رریاست ایسے ہی با شعور افراد کی بدولت جنت کا نظارا پیش کرتا ہے ،کوئی بھی اندھا اور وہ بھی ذہنی طور پر نہ قوم کی رہنمائی کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کام کے قابل ہوتا ہے،اس وقت تک اندھیروں اور پسماندگی کے مہیب سائے اور گہرے بادل کسی صورت ہٹ نہیں سکتے جب تک تعلیم کو اولین تر جیح نہ دی جائے ،دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس بات کی واضح مثال ہیں کہ انہوں نے پوشیدہ معدنی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی صرف تعلیم کی بدولت انمول کردار حاصل کیا،قیام پاکستان کے بعد وطن میں نہ جانے کتنی تعلیمی پالیسیاں نافذ کیں مگر سب عدم توجہ ،فرسودہ ،پرانااور بچوں کے اذہان سے متصادم نصاب ،غیر معیاری منصوبہ بندی ،سیاسی مداخلت اور حکمرانوں کی عدم توجہ کرپشن اور مطلوبہ فنڈز کی کمی سے پروان نہ چڑھ سکیں ،کامیابی اور ترقی تو نہ ملی البتہ نوعیت کے نظام تعلیم میدان میں آ گئے جس نے قوم کو طبقات میں تقسیم کر دیاایک طرف میٹرک اور ایف اے اور دوسری جانب برٹش انگریزی ذریعہ تعلیم کے مطابق Oلیول اورAلیول ،پاکستان کی قومی زبان اردو مگر سارا سلیبس انگلش میں،یہ کیسا عجب نظام ہے جو صرف اعلیٰ طبقات کو ہی اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے محض کلرکی پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہیں،وہ اچھی ملازمتوں سے مجموعی طور پر باہر رہتے ہیں،بلاشبہ ہمارے نظام تعلیم کو دہشت گردوں کی بجائے بدعنوان عناصر سے زیادہ خطرہ ہے،پاکستانی آئین کی شق 25۔Aکے مطابق ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ 5۔6سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے مگر پاکستان میں پڑھا لکھا پنجاب اور تعلیم سب کے لئے جیسے اہداف حاصل کرنے کے لئے شرم ناک حد تک قومی بجٹ میں اس کا حصہ رکھا جاتا ہے،جی ڈی پی کے صرف دو فیصد سے کیا پاکستان جیسے ملک میں تعلیمی اہداف کا حصول ممکن ہے ؟ ایسا کیا جائے گا تو رزلٹ بھی ویسا ہی سامنے آئے گا، ایک انتہائی دلچسپ کارٹون نظر سے گذرا جس میں ایک کلہاڑے پر بجٹ فار ایجوکیشن لکھا جو کتاب کو دو لخت کر رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں بہت بڑی آبادی سکولوں سے باہر ہے یونیسکو رپورٹ کے مطابق54لاکھ سے زائد بچے بالکل سکول نہیں جاتے اور یہ تعداد جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے ، پاکستان کے مقابل انڈیا 7،افغانستان 4 اور روانڈا9فیصد تک جی ڈی پی کا تعلیم پر خرچ کرتے ہیں،ایران ،سری لنکا،نیپال ،بنگلہ دیش اور برما بھی لٹریسی ریٹ میں ہم سے آ گے ہیں ،2007میں 8.9فیصد مرد اور 3.5فیصد خواتین جامعات سے فارغ التحصیل ہوئے،پاکستان ان اعداد وشمار کو 2015میں 10فیصد اور2020تک 15فیصد تک لے جانے کا رادہ رکھتا تھا مگر پالیسی سازوں کی وجہ سے ناکام رہا،گذشتہ چند سالوں میں بچوں کی انرولمنٹ میں اضافہ ضرورہوا ہے مگر معیار کسی کام کا نہیں،اس وقت 69فیصد سرکاری جبکہ31فیصد نجی تعلیمی ادارے قائم ہیں ،ان میں500سے زائد انٹرنیشنل تعلیمی ادارے ہیں جیسے بیکن ہاؤس وغیرہ ،ایک عام پاکستانی شہری ایسے اداروں میں اپنے بچوں کو کیسے تعلیم دلوائے؟یہاں تو سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمین پر بنے کیڈٹس کالجز ایسے ہیں جن میں کوئی عام شہری بچے کو بھیجنے کا تصور تک نہیں کر سکتا وجہ میرٹ نہیں بلکہ فیس ہے،یہی ایلیٹ کلاس کے بچوں کو بہتر اداروں ،پر کشش ملازمتوں میں جانے کا اصل پلیٹ فارم ہیں ،5لاکھ سے زائد گریجویٹ جبکہ 10ہزارسے زائد کمپیوٹر سائنس گریجویٹ یونیورسٹیوں سے نکلتے ہیں مگر ملازمت با اثر افراد کے بچوں کے علاوہ کسی اور کو نصیب سے ہی ملتی ہے،ایشیا کی پہلی 300یونیورسٹیوں میں قائد اعظم یونیورسٹی،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (PIEAS)،آغا خان یونیورسٹی ،نیشنل یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (NUST)،یونیورسٹی آف کراچی،پنجاب یونیورسٹی ،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور شامل ہیں،ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کے 41ویں ایڈیشن میں پاکستان کی جامعات گذشتہ سال دنیا کی سر فہرست ایک ہزار جامعات میں شامل تھیں مگر رواں سال تین جامعات اس معیار پر پورا نہیں اتر سکیں اور اب صرف چار جامعات اس رینکنگ میں شامل ہیں تاہم قائد اعظم یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ دنیا کی سر فہرست500،بہترین جامعات میں نام درج کرا لیا ہے،پاکستانی ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں چین 60،بھارت30 اور ایران کی11جامعات دنیا کی پہلی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں ،ٹائمز ہائر ایجوکیشن گلوبل رینکنگ کے ڈائریکٹر فل بیٹی کے مطابق پاکستان کی یہ درجہ بندی مایوس کن جسے انہوں نے فنڈز کی کمی قرار دیا ہے، البتہ ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر سرکاری یونیورسٹیوں کے ریسرچ پروگراموں کی حالت کسی صورت اطمینان بخش نہیں بلکہ ریسرچ کے نام پر مذاق کیا جاتا ہے ان یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کے متعدد چور دروازے سامنے آئے ہیں اس کے علاوہ بڑے تعلیمی اداروں میں پروفیسرز مافیا کا مکمل راج ہے ،عید کے روز ایم کیو ایم کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کے بعد کراچی کی جامعات میں شدت پسند عناصر کا بہت بڑا تاثر ابھرا ہے جو بے حد تشویش ناک ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لٹریسی ریٹ 65فیصد بتایا جا رہا ہے جن میں میل69 اور فی میل 45فیصد ہیں ،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں یہ لٹریسی ریٹ 73.21،سندھ میں60.44،خیبر پختونخواہ میں65.32اور بلوچستان میں 57.4فیصد ہے ، شہروں میں کوئٹہ99 فیصد کے ساتھ پہلے ، سیالکوٹ98فیصد کے ساتھ دوسرے اور فیصل آباد 97فیصد سے تیسرے نمبر پر ہے سب سے کم لٹریسی ریٹ بلوچستان کے جھل مگسی کاصرف28فیصد ہے،یہ سرکاری اعدادو شمار کسی صورت درست نہیں ہو سکتے ،کیونکہ اس میں سب اچھا ہے کی رپورٹ کا عنصر زیادہ ہے،ایلیمنٹری تعلیم کی درجہ بندی کے لحاظ سے سندھ پاکستان کا سب سے پست علاقہ ہے،وہاں وڈیرہ شاہی تعلیم میں اصل رکاوٹ ہے،امتحانی نظام ہزار کوششوں کے باوجود بہترین نہیں ہو سکا تقریباً ہر ایک تعلیمی بورڈز اور جامعات میں نگران عملہ کئی دہائیوں سے مخصوص ہی چلا آ رہا ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کے لئے کسی ناسور سے کم نہیں ،یہ سب ریکارڈ سے ہی ظاہر ہو جائے گا کہ کون کون ہر سال امتحانی مراکز میں نا خدا ہوتے ہیں ،بعض تعلیمی ادارے جن میں سنٹرز بنتے ہیں وہاں تو پورے عملے کو خرید لیا جاتا ہے اور دوسرا سیکیورٹی کے نام پرگیٹ بند کرنے کی پالیسی سے پوزیشنوں کی منڈی لگ جاتی ہے قبل ازیں پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کوئی چیکنگ ٹیم آئی ہے مگر ویسا بالکل نہیں ہے،اعلیٰ سرکاری اداروں میں داخلہ کا NTSسسٹم انتہائی منظم انداز میں مسلط کیا گیا جس میں کئی با اثر اور طاقتور مافیاز کا بہت عمل دخل ہے ،قابل مگر غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے قابلیت کے باوجود رو دھو کر واپس آ جاتے ہیں اور پیسے کی چمک والے کم نمبر حاصل کرنے کے باوجود ڈاکٹرز،انجینئرزاور نہ جانے کیا کیا بن جاتے ہیں یوں لگتا ہے پاکستان میں سارے اہم ،بہترین اور اعلیٰ تعلیمی ادارے ہی خاص طبقے کے لئے ہیں وہاں کسی عام پاکستانی (اچھوت) کے بچے کا داخلہ ممنوع ہے،ڈاکٹرز بننے کے لئے پرائیویٹ کالج،انجینئر بننے کے لئے بڑے بڑے اعلیٰ تعلیمی ادارے،سول سروس کے لئے بھی الگ درسگاہیں،آرمی آفیسر بننے کے لئے مہنگی مہنگی اکیڈمیاں ،عام طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف5فیصد کوئی خوش قسمت بچے ہوں گے جو کسی نہ کسی طرح کسی بہتر عہدے پر پہنچ پاتے ہیں، ملک بھر کے اہم تعلیمی اداروں میں منشیات عام بکتی ہے ،حال ہی میں پشاور یونیورسٹی میں منشیات پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے ،تعلیمی اداروں منشیات کے خاتمہ کے لئے جامع اور مؤثر ترین اقدامات متقاضی ہیں،مرکزی اور صوبائی حکومتیں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے کر اس قوم پر رحم کریں تا کہ اس ملک کے بے شعور،ان پڑھ اور جاہل لوگوں میں ادراک اور آگاہی کی معراج جنم لے سکے،پسماندیوں کی گہری دلدل میں مزید دھنسنے سے محفوظ رہ سکیں،کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت ترقی ہمارا مقدر بن سکتی ہے ورنہ خالی نعرے تو ستر سال سے اس ملک کے درودیوار سنتے چلے آرہے ہیں،عملاً اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین