Breaking News

سی پیک،نا اہلی،معاشی بحران،خارجہ پالیسی اور امریکہ

sabir mughal
صابر مغل

چین میں برکس (BRICS)بننے کے بعد سے عالمی معاشی جنگ کا منظم انداز میں آغاز ہو گیا برکس کے تحت چین میں بننے والے ڈویلپمنٹ پاکستان نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی نیندیں حرام کر دیں،چین،بھارت،برازیل،جنوبی افریقہ اورروس کے اتحاد سے بننے والی برکس میں پاکستان کو شامل نہ کیا گیا کیونکہ چین کو پاکستان سے بے پناہ دوستی کے باوجود علم تھا کہ ہمارے حکمرانوں کے لئے اقتدار کے تانے بانے یورپ اور امریکہ کے ساتھ انتہائی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں،اس عالمی پیش رفت پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھارت کو برکس ممبر ہونے کے باجود ورغلا لیا،اسی دوران چین سمیت برکس کے دیگر ممالک کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کی بنا پر اس سے کنارہ کشی ہر لحاظ سے انہتائی خسارہ ہے،تب سی پیک کے منصوبے پر پاکستان اور چین کے درمیان مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو گئے اس بدلتی صورتحال پر مغرب اور امریکہ کے تیور ہی بدلتے چلے گئے مگر وہ مایوس نہ ہوئے اور نہ اب مایوس ہیں مگر آج بھی لاتعداد ریشہ دوانیاں پاکستان کو جکڑنے،گھیرنے اور خوفزہ کرنے میں جاری و ساری ہیں،قیام پاکستان کے بعد با الخصوص گذشتہ 40سال سے پاکستانی اقتدار کا راستہ عوام کی بجائے امریکہ اور برطانیہ سے منسلک ہو گیا،اگرتاریخ کا جائزہ لیا جائے تو عالمی سطع پر جتنی تابعداری اور اتحادی پن کا ثبوت دنیا میں پاکستان نے دیا شاید ہی کسی اور ملک نے امریکہ کے لئے ایسا کیا ہوگا،پاک چین اقتصادی راہداری پر ایک طرف بات جاری تھی دوسری جانب عالمی بینک،آئی ایم ایف،برطانیہ،امریکہ سمیت دیگر مالیاتی اداروں نے رقوم کے دروازے پاکستان کے لئے کھول دئیے،یہی وجہ بنی کہ آج یہی قرضہ پاکستان کے گلے میں کی ہڈی بن چکا ہے پاکستانی تاریخ میں جتنا بیرونی سرمایہ قرضہ کی شکل میں موجوہ سیاسی جماعت کے دور میں آیا اس سے ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، ان قرضوں کی بدولت حکومت قرض کی دلدل میں بری طرح پھنس گئی مگر دوسری جانب ان قرضوں پر ترقی کے خوب ڈونگرے برسائے گئے مگر حقیقت میں یہ قومی ترقی نہیں بلکہ عالمی سطع پر پاکستانیوں کو رہن میں رکھنے کی ترقی تھی،سی پیک کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا تو ہماری سیاسی حکومت اور چین کئی بار مذاکرات کو کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچا سکے،ہمارے حکمران اندرونی طور پر امریکی لابی جس میں بھارت بھی شامل تھا کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے رہے تھے،با لاآخر پاک فوج کو میدان میں آنا پڑاسابق سپہ سالارراحیل شریف نے متعدد ممالک کے دورے کئے دونوں اطراف کے نقصان و فوائدکا موازنہ کیا اور پھر چینی حکومت کو ہر قسم کی گارنٹی دے کر اسے عملی جامہ پہنایا،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سی پیک کا کارنامہ صرف ہماری حکمران جماعت کا ہے تو وہ بہت بڑی بھول میں ہیں یہ واضح ترین حقیقت ہے کہ سیاسی حکومت ایک تو سی پیک کے حتمی منصوبے پر سائن کرنے کو ہی تیار نہیں تھی دوسرا چین بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان کے ساتھ براہ راست کوئی منصوبہ اور وہ بھی سی پیک جیسا بغیر کسی ضمانت کے کر لیا جائے،اوپر سے پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آگیا جس کی زد میں صرف پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کے ہزاروں افراد آ گئے پاکستان میں سب سے زیادہ شکار شریف فیملی ہوئی اس سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس خاندان کاسرمایہ کہاں کہاں تک پھیل اور وسیع ہو چکا ہے، طویل سماعت کے بعدنوز شریف نا اہل ہو گئے اب شریف خاندان کے خلاف ناجائز اثاثہ جات پر کیس نیب کورٹ میں ہیں اسی طرح وزیر خزانہ بھی سارا خزانہ پتا نہیں کہا ں لے گئے اب تو عدالتیں ہی یہ ثابت کریں گی،آخر کچھ ثبوت آئے تو یہ قانونی کاروائی شروع ہوئی،نا اہلی کے فیصلہ کے بعد اسے عالمی سازش،عدلیہ اور بغیر نام لئے فوج کو بھی نہیں بخشا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے،چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک اور کیس کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ،پانامہ فیصلہ ایک جھلک ہے تہہ میں گئے تو پھر شکایت نہ کیجئے گا اور نااہلی کا فیصلہ درست فیصلہ تھا جیسا کرو گے ویسا بھرو گئے ہمیں پتا ہے کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار عدلیہ مخالف مہم چلارہے ہیں،بیگم کلثوم نواز کی علالت پر نواز شریف لندن پہنچ گئے وہاں انہوں نے الطاف حسین جیسے غدار وطن اور بھارت کے نئے نامزد ہائی کمیشن اجے سے بھی ملاقات کی یہی اجے الطاف حسین کا دوست ہے جس نے اس ملاقات میں اہم کردار ادا کیا،اسی دوران انڈیا کی کنٹرول لائن اور مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی انتہا کر دی اور اب بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا سلسلہ تھما نہیں،امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں ان کے خاتمہ کے لئے ہم ہر حد تک جائیں گے امریکہ کی جانب سے اس نوعیت کی خطرناک ترین دھمکی پہلی بار سامنے آئی یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی حکمرانی تھی تب امریکہ نہ بولااور جب پا ک فوج نے ان ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ دیا،اس علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا اس وقت امریکہ کو ایسا بیان دینے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟امریکہ سی پیک کے خلاف اس حد تک چلا گیا اور جو سی پیک منصوبے کے بانی دعویدار ہیں ان کے نکلنے پر چین کیوں خاموش ہے؟ امریکہ تو وہ عالمی قاتل اور غنڈہ ہے جس نے9,11 کے بعد چند ہزار امیریکیوں  کی ہلاکت پر لاکھوں مسلمانوں نہ صرف شہید کر دیا بلکہ کئی اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی تمام اہم اور سفاکانہ کاروائیو ں کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے منسلک تھے اوریہ سب دہشت گرد امریکہ کی حفاظت میں افغانستان بیٹھے ہیں، یوم پاکستان کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا،اب ہمارے لئے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائیں امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہئے آنے والی نسل کو دہشت گردی اور کرپشن سے پاک پاکستان دیں گے اب دشمن کی پسپائی اور ہماری کامیابی کا وقت ہے کشمیر کی آزادی کے لئے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، امریکی سیکرٹری دفاع جنرل جیمز میٹس نے کہا سی پیک پر ہمیں اعتراض ہے کیونکہ سی پیک متنازعہ علاقے کشمیر سے گذررہا ہے،اس بیان کو پاکستان اور چین نے رد کر دیا مگر پاکستان سے پہلے چین نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کہا سی پیک کے حوالے سے کشمیر پر چین کا اصولی مؤقف کبھی تبدیل نہیں ہو گا پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے آئینی بھائی پاکستان کے ساتھ ہیں،،احسن اقبال کہتے ہیں نواز شریف کو سی پیک کی سزا دی گئی اگر ایسا ہوتا تو چین ان کی حمایت کے لئے کم از کم ایک بیان ہی دے دیتا،امریکہ،بھارت،برطانیہ اور اسرائیل کے اس گٹھ جوڑ میں خواجہ آصف کا عجب بیان سامنے آیا کہ ہمیں بھی پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنی چاہئے جس پر چوہدری نثار نے کہا گھر کی صفائی ضرور کریں مگر پاکستان کو دنیا میں تماشہ نہ بنائیں چوہدری نثار علی خان کا یہ بیان بھی اب بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسے سی پیک منصوبے کی اصلیت،سیاسی حکومت کا امریکی جھکاؤ اور اب امریکی عزائم کا پتاتھا یہی جو حساس سیکیورٹی معامالات ہیں جن کی طرف ان کا اشارہ تھا،، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا۔امریکہ پر انحصار کے دن گذر گئے پاکستان پر پابندیوں سے خطے کا توازن خراب ہو گا ایسی کوئی پابندی خود امریکہ کے لئے نقصان دہ ہو گئی افغان امن عمل میں بھارت کو شامل کر کے امریکی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اب ہم قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے بھارتی مہم جوئی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کو بھرپور جواب دیں گے،اسی روز وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکہ مشترکہ آپریشن کرنے کی شرمناک پیشکش کر دی حالانکہ امریکہ بھارت کااسٹریجیٹک پارٹنر ہے ہمارا نہیں ہمیں تو وہ دھمکیاں دے رہا ہے اور ہم اسے پاکستان میں آپریشن کی دعوت دے رہے ہیں خواجہ آصف نے ہی کہا تھا کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے یہاں تو ایسے کرداروں کو نہ کوئی شرم ہے نہ کوئی حیا،،خواجہ آصف نے حافظ سعید کے بارے کہا وہ ہم پر بوجھ ہیں عجب بات ہے جو شخص پاکستان کے طول عرض میں انسانیت کی بھلائی کے لئے کوشاں ہے وہ بوجھ اور جو امریکی پٹھو وہ حب الوطن؟ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کا نہ ہونا بھی امریکی پالیسی پر عمل درآمد ہے، عمران خان نے کہاخواجہ آصف کا یہ بیان پاکستان کی سلامتی کے لئے دھچکا ہے،پاکستان کو اس حد تک معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے اب مہنگائی کا سیلاب اور بد ترین معاشی بحران ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے،ورلڈ بینک کہتا ہے ناقص مائیکرو فنانس (مالی اور اقتصادی)پالیسی کے نتیجے میں مالی سال 2017کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں اور مالیاتی خسارہ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ تنزلی مزید لڑھکتی جا رہی ہے،اب مقامی بینکوں سے بھی حکومت قرضہ لینے میں مزید تیزی لا چکی ہے،شیخ رشید احمد ایل این جی معاہدہ جسے حکومت آج تک منظر عام پر نہ لائی کے کاغذات حاصل کر چکے ہیں ان کے مطابق یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے جس میں 200ارب روپے کی کرپشن کی گئی،آئی بی نے مبینہ طور پر 37اراکین پالیمنٹ کو دہشت گردوں سے روابط کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے،ختم نبوت پر ترمیم پھر اس کی واپسی،نا اہل شخص کے لئے آئین میں ترمیم،اس آئین کو ختم کرنے کے لئے اب سینٹ میں قرارداد پاس ہو چکی ہے،قارئین اس بات کو یاد رکھیں کہ نوازشریف کے پاس پارٹی صدارت کا عہدہ اب کسی مہمان کی طرح ہے،بھارت نے تو اب آبی جارحیت کا بھی آغاز کر دیا ہے،کیپٹن (ر) صفدر نے قومی اسمبلی میں ختم نبوت ترمیم پر پالیسی کے تحت نیا پنڈورا بکس کھول کر فرقہ ورایت کی نئی راہ کھول دی ہے، نواز شریف جس نے امریکہ اوریورپ میں لابنگ کے لئے فرم ہائر کر رکھی ہے کہتے ہیں عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے سے پاکستان دو لخت ہواپھر کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے،خدا نہ کرے،آرمی چیف کادشمن کے لئے یہ واضح پیغام کہ سوچ لیں اگر رہے تو سب رہیں گے نہیں تو سب مٹ جائے گا،بیرونی عناصر سیکیورٹی ترجیحات پر کنٹرول کرنا چاہے ہیں جو ان کی حماقت ہے،

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین