Breaking News

سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور سلگتے دلوں کو انصاف کی آس

sabir mughal
صابر مغل

کراچی شہر کے مغربی حصے میں واقع بلدیہ ٹاؤن جو 8 یونین کونسلز پر مشتمل بہت بڑی ٹاؤن ہے جس کے مشرق میں سائٹ اور اورنگی ،شمال مغرب میں کیماڑی جبکہ آر سی ڈی شاہراہ اس کی مغربی سرحد بناتی ہے، 11ستمبر 2012منگل کے روز محنت مزدوری کرنے والے مر د و خواتین حسب معمول فیکٹری پہنچے حاضری لگوائی اور کام کا آغاز کر دیا کوئی چار سو کے قریب مزدور اس فیکٹری میں کام کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ،وہ اپنے کام میں مگن ساتھ ساتھ ساتھیوں سے گپ شپ میں بھی مصروف وہ نہیں جانتے تھے کہ اسی شہر کی روشنیاں چھیننے والے مگر بظاہر مہاجر کمیونٹی کے مسیحاجو سیاست کا لبادہ اوڑ کر ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ہر کسی نے انہیں لگام دینے کی بجائے ان کے در پر حاضری دینے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے نزدیک عوام نہیں صرف اقتدار کا حصول ہی اولین ترجیح تھا ،ان کے گھروں میں ان کی آسوختہ لاشے بھیجنے کے لئے بڑی بھیانک سوچ کوپروان چڑھانے جا رہے ہیں،شام ہو گئی چند لمحے ان کی ڈیوٹی کے رہ گئے تو ایک دم انہیں تپش سی محسوس ہوئی یہ کیا ہر کوئی متحیر ہر کوئی حیران ہر کسی کو جان بچانے کے لالے پڑ گئے،دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے بڑے اور بلند ہوتے شعلوں نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر وہ وقت آن پہنچا جب صبع سویرے ہنستے گپیں لگاتے فیکٹری میں داخل ہونے والے آگ کا ایندھن بننا شروع ہو گئے،ہر طرف آہ و پکار،مد د ،مدد کی آوازیں کہتے کہتے ان کے جسم آگ کی زینت بنتے گئے،جھلستے گئے ،کوئلہ بنتے گئے،اتفاق سے اسی روز لاہور میں ہی ایک فیکٹر ی میں آگ بھڑکی جس نے 25گھرانے اجاڑ دئیے،میڈیا کا سارا دھیان لاہور کی جانب تھا مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے سانحہ کی بازگشت سنائی دینے لگی ،فیکٹری کو آگ لگانے والوں نے فیکٹری کے سارے دروازے بند کر دئیے تھے تا کہ کسی کا باپ ،کسی کا بھائی ،کسی کا سہاگ،کسی کا بیٹا،کسی کی بیٹی ٹھیک طرح جل مر جائے،کوئلہ ہو جائے،آگ کی شدت اس قدر شدید تھی کہ تمام امدادی کاروائیاں بھی فیکٹری کے اندر سسک سسک کر بے بسی کے عالم میں مرنے والوں کی کچھ مدد کرنے سے مکمل قاصر رہیں، موت کا رقص جاری رہااور ان کے ورثاء باہر کھڑے بے بسی اور وحشت کے عالم میں زارو قطار کرتے رہے بین کرتے کرتے رہے اور اپنوں کے جلنے کی خوشبوناک میں محسوس کرتے رہے،شام ساڑھے6بجے لگنے والی آگ کے شعلے دوسرے دن صبح تک جاری رہے پھر کیا تھا جو بھی امدادی کارکن اندر جاتا اس کے کاندھوں پر کسی نہ کسی کی لاش ہوتی 258افراد کو اس آگ نے زندگی سے محروم کر دیا،سارا دن فیکٹری سے لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری رہابعض سوختہ لاشیں اس حد تک ہڈیوں میں بدل چکی تھیں کہ ان کی جنس کا ہی نہیں پتا چل سکا کہ یہ کسی مرد کا لاشہ ہے یا کسی عورت کا،اس واقعہ کے بعد حسب معمول ایم کیو ایم ہمدرد بن کر میدان میں آ گئی،صوبائی وزیر صنعت عبدالرؤف صدیقی نے تو نہ صرف فیکٹر مالکان کو قرار دیتے ہوئے کہاکہ فیکٹری میں آتشزدگی کا سانحہ بدترین مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے بلکہ عبدالعزیز،ارشد بھاٹیلہ اور راشد بھاٹیلہ کے خلاف مقدمہ بھی درج کرا دیا، جب ملز ملازمین نے انکشاف کیا کہ ملزمان نے علی انٹر پرائزز مالکان سے 20 کروڑ کا بھتہ مانگا تھا اور کمی اور انکارپر بھتہ خوری کی صداکچھ گونجی تو ایم کیو ایم کے ایک بڑے رہنماء خواجہ اظہار نے فرمایا ہم نے تحقیق کی ہے مگر اس واقعہ میں بھتہ خوری سامنے نہیں آئی ،تحقیقات کے بعد بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان میں سے ایک ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولاکو انٹر پول کی مدد سے گذشتہ سال 16نومبرمیں بنکا ک سے گرفتار کیا گیا جس سے تفتیش کے بعد ایف آئی اے نے کراچی منتقل کر دیا،ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج بھولا نے22دسمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں بتایاکہ اس نیزبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کراچی کے سربراہ حماد صدیقی کے کہنے پر آگ لگائی کیونکہ فیکٹری مالکان نے بھتے سے انکار کیا تھا،بیان کے مطابق اس قبیح فعل کے بعدرؤف صدیق اور حماد صدیقی نے مقدمہ درج کروا کر مالکان کو پھر بلیک میل کرتے ہوئے 40سے50لاکھ روپے وصول کئے تا کہ ہاتھ ہولا جائے، الطاف حسین نے 21مئی2013کو تنظیمی کمیٹی ختم کردی تو حماد صدیقی بیرون ملک جا کر غائب ہو گئے ،وہ گذشتہ کئی سال سے متحدہ عرب امارات میں ہی روپوش تھے جہاں ایم کیو ایم کے سابق رہنماء نے مارکیٹنگ مینجر کا ویزہ حاصل کر کے اماراتی اقامہ حاصل کر رکھا تھاحماد صدیقی کے ہمراہ ایک عورت کی گرفتاری کی بھی اطلاع ہے ،15ستمبر2015کو انسداد دہشت گردی کراچی کی عدالت نمبر3 میں جج سلیم رضا بلوچ کے روبرو گرفتار ملزم عامر عرف سرکٹا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی 12مئی 2012کو محبت ریلی پر حملہ کیا تھااس ریلی کا اہتمام لیای فٹ بال گراؤنڈ سے پریس کلب کراچی تک عوامی تحریک ،سنی الائنس،مسلم لیگ(ن)اور عوامی نیشنل پارٹی نے کیا تھا جس پر نیپپئر روڈ پر شر پسندوں نے حملہ کرکے ایک خاتون سمیت11 افراد کو ہلاک اور30کو زخمی کر دیا زخمیوں میں صحافی بھی شامل تھے اس منظم ہنگامہ آرائی میں 10گاڑیاں،15موٹر سائیکلیں،8دکانیں 3گھر اور متعدد پتھارے نذر آتش کر دئے گئے،اب حماد صدیقی نے پاکستان آنے سے قبل ہی دوران تفتیش زبان کھولتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بلدیہ ٹاؤن کے چار افسران شاہنواز بھٹی،مرزا آصف بیگ ،اکمل صدیقی نے فیکٹری نذر آتش کرنے میں مکمل معاونت فراہم کی تھی ،پاک سر زمین پارٹی کے انیس قائم خانی نے کہا حماد صدیقی کسی صورت سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ملوث نہیں ،اسی پارٹی کے سربراہ مصطفےٰ کمال نے نجی ٹی پروگرام میں کہا حماد صدیقی اگر اس سانحہ میں ملوث ہوا تو سب سے پہلے مجھے پھانسی دی جائے کیونکہ میں اس وقت حماد صدیقی کی یہاں بیٹھا وکالت کر رہا ہوں ،اب حماد صدیقی نے اعتراف جرم کر لیا ہے تو پاک سر زمین کے رہنماء اس سفاکانہ عمل سے کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟اس بات میں کچھ شبہ نہیں کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں عقوبت کھانے کھل رکھے تھے،بوری بند لاشوں کے تحفے دینے اس نے شروع کئے،کراچی میں بد امنی اور قتل و غارت کا بازار گرم کئے رکھا،بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان روزمرہ کا معمول تھا،مگر ستم یہ کہ ہر آنے والی حکومت نے ان سفاک درندوں کو ،بھیڑیوں کو،ملک دشمنوں کو،سنگین جرائم میں ملوث افراد کو،بھارتی خفیہ ایجنسیRAWسے روابط رکھنے والوں کو ،پاکستان کی معاشی شہ رگ کو کاٹنے والوں کواپنے سینے سے لگایا،ان کے نخرے برداشت کئے انہیں مراعات دیں،وزارتیں دیں،ان کے در پر حاضری کو شرف سمجھا،اگر ایمانداری سے اس بات کی جائے تو بتایا جائے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم کے تمام سابق ارکان و رہنماء اور دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما کیسے بری الذمہ کیسے ہو سکتے ہیں ،ایسا تو کسی جنگل میں بھی نہیں ہوتا جو کچھ پاکستان میں ہوگیا،یہ قاتل ،یہ ظالم ،یہ درندے،یہ سفاک کتنی ڈھٹائی سے اب بھی نیوز چینلز پر پاکستانی عوام کی بات کرتے ہیں ،مرنے والوں کے ورثاء سلگتے دلوں سے انصاف کی راہ تکتے تکتے تھک چکے ہیں ،آج تک کسی نے سنا کہ پاکستان کی کسی بڑی سیاسی جماعت نے اس سانحہ پر انسانوں کی طرح آواز اٹھائی ؟جیتے جاگتے اور بے گناہ انسانوں کو آگ کے شعلوں کی نذر کر دینے پر کوئی اقدامات کئے؟یہاں کیسا نظام ہے ؟کیا سسٹم ہے؟جہاں دن دیہاڑے انسانوں کو موت کی وادی میں پہنچانے والے اقتدار کی راہدایوں میں نظرآتے ہیں،جس کسی نے بھی ایسے سفاک درندوں کا ساتھ دیا وہ سب سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں ،وہ قاتل ہیں کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق قاتلوں کے ساتھی ،انہیں پناہ دینے والے یاان کے خلاف کاروائی نہ کرنے والے بھی قاتل ہی ہوتے ہیں،آج تک کتنے ٹارگٹ کلر پکڑے گئے؟ان کاتعلق کس سیاسی جماعت سے تھا؟اسلحے کے ڈھیر کن سے برآمد ہوئے ؟مرنے والوں کے ورثاء اور عام پاکستانیوں کو ان سوالوں کو جواب کون دے گا؟وہ تو کبھی نہیں دیں گے جو کبھی ان کے ساتھی تھے یا جنہوں نے ہمیشہ ان پر شفقت کا ہاتھ رکھا مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے بے گناہوں کا خون ضرور رنگ لائے گا قاتل کسی صورت نہیں بچ سکیں گے بلکہ وہ بھی جنہوں نے ایسے قاتلوں کو کھلی چھٹی دی روشنیوں کا شہر اجاڑنے کے لئے اسے ان کے حوالے کیا،پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم میں شامل پہلے کس فورم پر یکجا تھے وہیں جہاں سے یہ سب کچھ ہوتا رہایہ مسیحانہیں ہیں ،یہ اب دھل نہیں گئے ،کون ہے جو اب بھی ان سانحہ کے تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے عبرتناک انجام تک پہنچائے گا؟

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین