Breaking News

عید میلادالنبی ﷺ کے حوالے سے سیزن ؟۔جید علماء کے نام کھلا خط

sabir mughal
صابر مغل

محرم الحرام کے بعد ماہ صفر میں ہی عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلہ میں محافل کا آغا ہو جاتا ہے،سید الانبیاء ،رحمت العالمین ،محبوب سبحانی ،وجہ تخلیق کائنات ﷺ کی دنیا میں آمد پر خوشی و شادمانی کا اظہار ایک فطری عمل ہے،کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ،ماہ صفر سے شروع ہونے والا محفل کا سلسلہ یوں تو ماہ محرم کے علاہ تقریباًسارا سال جاری و ساری رہتا ہے،مسلمانوں کی نبی آخرالزمان ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضہ ہے کوئی اس سے انکاری یا ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا اور کسی بھی وجہ سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ،میرے چند دوست ہر سال مل کر عید میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے بہت بڑی محفل کا اہتمام کرتے ہیں ،نبی مکرم ﷺ کی ولادت پاک ،ان کی شان ،ان سے محبت ان سے عقیدت میں ایسی محافل کا انعقاد بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ،ایک دو دفعہ مجھے بھی ان میں شرکت کا موقع ملا مگر میں وہاں سے اٹھ آتا دوستوں کو یہی گلہ رہتا کہ آپ ایسی محفل میں کیوں نہیں بیٹھتے؟آپ وہابی ذہنیت کے مالک ہیں جواب دیتا کہ ہر وہ فرد جو کلمہ گو ہے مسلمان ہے اس کی عبادت کا طریقہ الگ الگ ہو سکتا ہے آپ کا یہ اعتراض ٹھیک نہیں ذرا بتاؤ ان کے کچھ کام اگر نا پسندیدہ ہیں تو کیا جو آپ کرتے ہو کسی بھی لحاظ سے شریعت کے مطابق ہیں؟ان محافل میں متعدد نعت خواں،دو علماء کرام ،سامنے گاؤ تکیے پر بیٹھے پیر صاحب ہرچند منٹ بعد لوگ اٹھتے اور پیر صاحب کے پیرں کو چھوتے ہوئے نعت خواں یا خطیب پر نوٹوں کی برسات کر دیتے ہیں کیا یہ دین اسلام کی تعلیمات ہیں؟ الراقم کئی ایسے افراد کو بھی جانتا ہے جو انتہائی کرپٹ،بد کردار مگر وہ ایسی محافل کا انعقاد محض اسی وجہ سے کراتے ہیں کہ معاشرے میں انکی ویلیو رہے بدقسمتی تو یہ بھی ہے کہ ماضی میں صوفیاء کرام یا بزرگان دین کے نزدیک وہی ان کا عقیدت مند زیادہ معتبریا پیارا ہوتا جو شرعی تقاضوں کے مطابق بہتر طور پر اپنی زندگی بسر کرتا مگر آج پیروں کے نزدیک سب سے معتبر،پسندیدہ اور قابل عزت ہیں وہ لوگ ہیں جن کے پاس پیسا بہت ہے اوروہ شان و شوکت کو دنیاوی طور پر مزید بلند کرنے کے لئے پیسے نچھاور کرتے رہتے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے موجودہ دور میں یہ بہت بڑا المیہ ہے،فی زمانہ ایسی محفلوں کا انعقاد مکمل رواج کی شکل اختیار کر چکا ہے جن میں غیر اسلامی طور طریقے بڑھ چڑھ کر کئے جاتے ہیں اور جو پیر صاحب وہاں تشریف فرما ہوتے ہیں وہ انہیں ایسی باتوں سے روکنے کی بجائے الٹا خود لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں،الراقم نے ان دوستوں سے پوچھا کہ یہ جو نعت خوان اور خطیب اس محفل میں آتے ہیں کیا یہ مفت میں آتے ہے ؟میری بات سن کر وہ ہنس کربولے بھائی آپ کس زمانے میں رہتے ہیں یہ لوگ تو بڑی منت سماجت ،سفارش اور معاوضہ طے کر کے آتے ہیں،میں نے کہا میں اسی زمانے میں ہی رہتا ہوں مجھے پتاہے میں نے تو تمہاری عقل پر ماتم کرنے کے لئے یہ سب پوچھا ہے مگر وہ کچھ سمجھ نہ سکے اصل میں یہ سب بھی معاشرتی طور پر خود نمائی کے بری طرح قائل تھے کہ دیکھو فلاں فلاں نے کیسے کیسے اور کتنی بڑی محفل کا اہتمام کیا حالانکہ یہی لوگ حضور نبی اکرم ﷺ کے فرمان مبارکہ سے مجموعی طور پر کوسوں دور ہیں،خیر میں نے کہا یار جب بھی آپ ان نعت خواں حضرات یا کسی علماء سے ٹائم لینے جائیں مجھے بھی ساتھ لیتے جانا ،چند دن پہلے دوست مجھے بکنگ کے لئے ساتھ لے گئے ہم چار نعت خوان اور ایک بڑے پردھان عالم دین سے ملے،پہلے نعت خوان کے پاس گئے تو جواب ملا بھائی آپ بہت دیر سے آئے آپ کو پتا تو ہے کہ یہ ہمارا سیزن ہوتا ہے ہمیں رسولﷺ کے چاہنے والے بہت پہلے بک کر لیتے ہیں ،میں اس کی زبان سے سیزن کا لفظ سن کر ششدر رہ گیا خیر بڑی منت سماجت کے بعد میرے دوستوں نے اپنی محفل کو اس کے ٹائم مطابق دو دن آگے گیا اور وہ پھر بھی 50 ہزار میں طے کر کے آنے پر رضامند ہوا،اسی طرح باقی شان رسالت ﷺ کے پروانے نعت خوانی کرنے والوں سے ملے سب سے معاوضہ طے کر کے ہی بات بنی ایک نے توپوچھ لیا وہاں نعت پڑھنے پر کتنے پیسے پھینکے جانے کی امید ہے ،دوست جھٹ سے بولا فکر نہ کرو اتنے کہ آپ پھر بھی کہیں گے مجھے ادھر جانا ہے،آخر میں ہم اس عالم دین سے ملے جس نے نعت خوانی کے بعد بے شعور،ان پڑھ،جاہل،گنوار،بے نمازیوں اور جنہیں شان رسالت ﷺ کا ادراک نہیں تھا کو اپنے فن خطابت سے سبھی کچھ بتانا تھا، انہیں سمجھانا تھا، ان کے کند ذہنوں کو زرخیز کرنا تھاسے ملاقات حاصل ہوا ،وہ بولے بھائی ٹائم نہیں ہے مگر آپ لوگ اتنی دور سے آئے ہیں جواب بھی نہیں دیا جا سکتا ،کافی بات چیت اور منت سماجت کے بعد وہ حضرت بھی پچاس ہزار روپے کے عوض مان گئے ،میں اس تمام ترملاقاتوں میں مکمل خاموش رہا ان کے جشن عید میلادالنبی ﷺ کے منانے کے طریقہ کار پر اور وہ جنہوں نے محفل میں نعت گوئی اور خطاب کرنا تھا کی سوچ دیکھ کر سن کر بہت افسوس ہوا، دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما،ہم اس بکنگ کے بعد فارغ ہو کر گھر لوٹے تو ایک پیر پرست نے کہا یار ٹائم تو بن گیا اب کیوں نہ پیر صاحب کے علم میں یہ دن اور تاریخ دیتے جائیں ساتھ سلام بھی ہو جائے گا،گاڑی وہاں سے کوئی 70کلومیٹر کا سفر کر کے وہاں پہنچی ،سب دوستوں نے وہاں پہنچتے ہی رومال نکال کر سر ڈھانپ لئے حالانکہ ان میں سے اکثریت شاید ہی کبھی مسجد گئی ہو اور اگر کوئی وہاں نظر آیا بھی تو بغیر سر ڈھانپے نماز پڑھتا نظر آیا کیسا عجیب تضاد ہے اللہ کے حضورپیش ہونے پر سر ڈھانپنے کی کچھ ضروت محسوس نہیں کرتے اور پیر کے سامنے ؟،خیر ہمیں ایک برآمدے میں پڑی چٹائی پربٹھا دیا گیا ،کوئی ایک گھنٹہ بعدہلچل سی مچی تو سب یوں کھڑے ہوگئے جیسے نماز نیت لی گئی ہو پیر صاحب آئے تو ہر کوئی ان کے پاؤں پرگر رہا ہے( کئی ایک کا انداز تو شرمناک حد تک تھا )پھر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور پیر صاحب شان بے نیازی سے ان کے اتنی عقیدت کے باوجود خاموش رہتے ہوئے اپنی مخصوص جگہ بیٹھ گئے ،کچھ دیر بعد میرا ایک دوست بولا کہ حضور ہم نے فلاں فلاں نعت خواں اور ممتاز عالم دین سے ٹائم لے لیا ہے اب آپ بھی مہربانی فرمائیں،پیر صاحب بولے تم سے ہم سے پوچھ تو لیتے ،یہ سن کر میرے دوستوں کا رنگ اتر سا گیا اور ہندؤں کی طرح ہاتھ جوڑ کو بولے حضور یہ محفل تو ہم آپ کی وجہ سے ہی کر رہے ہیں آپ نہیں آئیں تو ہماری محفل ہی نہیں سجے گی ۔الراقم یہ سن کر متحیر رہ گیاکہ عید میلاد النبی ﷺ کو حضور اکرم ﷺ کی پیدائش مبارکہ کی خوشی میں منایا جاتا ہے یہ کہہ رہے ہیں کہ پیر صاحب ہم تو یہ محفل ہی آپ کی وجہ سے کر رہے ہیں ،قارئین یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا بھی لکھتا جاؤں کم ہے صرف یہاں میرا ایک سوال بلکہ یہ ان علماء کرام کے نام کھلا خط ہے جو صاحب علم ہے ،شریعت کو بخوبی جانتے ہیں اس پر عمل پیرا ہیں ،کیا پیسے دے کر کسی بھی نعت خواں کو بلانا جائز ہے؟کیا کسی عالم دین کو خطاب کے لئے رقم طے کر کے لانا دین اسلام کے نزدیک جائز ہے؟ کیا وہ محفل جو حضور نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس سے متعلق ہو وہاں کسی بھی پیر کا ہونا اور یہ کہہ کر کہ یہ محفل تو آپ کی وجہ سے ہے درست ہے؟اس محفل میں بجائے دورو شریف اور ذکر و اذکار کے صرف پیروں کے پاؤں چوم کے لاکھوں روپے پیشہ وربہروپیوں پر نچھاور کرنا اسلام کی اساس کے مطابق ہے؟کوئی تو ان باتوں کا جواب دے اگر ہم غلط ہیں تو ہمیں سمجھایا جائے ۔یہاں یہ وضاحت کرنا بے حد ضروری ہے ورنہ میری اس تحریر کو بھی سمجھنے کی بجائے تعصب کی نظرسے دیکھا جائے گا الراقم پہلے مسلمان ہے اور فرقہ کے لحاظ سے اسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے جو یہ سب کرتے ہیں ،اللہ کے نیک بندوں کی محفل میں بیٹھنا ان سے نیک باتوں کے سن کر پلے باندھنا ، اولیاء اور صوفیا کرام کے مزارات پر جانا بہت اچھی بات ہے اور جانا بھی چاہئے،

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین