Breaking News

روزگار کی تلاش میں دبوچ موت نے لیا

sabir mughal
صابر مغل

صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تربت کے علاقہ میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15فراد جو گھر سے روزگار کی تلاش میں نکلے اور موت نے انہیں نگل لیا انہیں گاڑی سے نکال کر اغوا کرنے کے بعد پہاڑ پر لے جاکر گولیوں سے بھون دیا گیا،کمشنر مکران بشیر احمد کے مطابق یہ اندوہناک واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تربت سے30کلومیٹر دور ملیدہ کے پہاڑی علاقے میں پیش آیااس بربریت کا شکار بننے والے تمام افراد احسن فیاض،غفور احمد،ظفر زاہد ،طیب رضا،وقاص احمد،محمد حسن ،ذوالفقار علی،خرم شہزاد ،اظہر وقار،غلام ربانی اور سیف اللہ کا تعلق پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ ،منڈی بہاؤالدین ،گجرات اور ایک واہ کینٹ کا رہنے والا تھا باقی چار کی شناخت نہیں ہو سکی،یہ تمام افراد جن میں دو کی عمریں تو20سال سے بھی کم تھیں 18روز قبل انسانی سمگلروں نوید احمد اور حاجی صابر حسین وغیرہ کے جھانسے میں آ کر والدین اور عزیز و اقارب سے مل کر بظاہر یونان مگر موت کے راستے پر نکلے وہ کیا جانتے تھے کہ ان کی لاشوں پر ان کے گھروں میں کیا کہرام مچے گا کیسے ماتم ہو گا ان کے بچے ،ان کے بھائی ،ان کی بہنیں ،ان کی مائیں ،ان کے باپ ،ان کی سہاگنیں ان سے کیسے کیسے لپٹ کر روئیں گے جن گھروں کو وہ آباد کرنے نکلے ہیں وہ ان کی واپسی پر کیسے اجڑ جائیں گے،اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی صبع کے وقت ایف سی کے افسران ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بلیدہ گواک پہنچ گئے مرنے والوں کے جسم کے مختلف حصوں میں انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئیں ،عسکری اداروں نے علاقہ بھر میں سرچ آپریشن کیا تاہم ابھی تک کسی بھی شدت پسند کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ،تمام مقتولین کی نماز جنازہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ زہری ،کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ سمیت کئی وزراء اور افسران نے شرکت کی بعد ازاں تمام میتوں کو C130کے ذریعے لاہور پہنچا کرپھر انہیں آبائی علاقوں میں بھیجا گیا، ضلع کیچ کا شمار ان حساس علاقوں میں ہوتا ہے جہاں اکثر و بیشتر مسلح افراد سیکیورٹی فورسز اور حکومت کے حمایت یافتہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں،صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسی طرح پسماندگی کے لحاظ سے بھی پہلے نمبر پر ہے یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں بلوچستان گذشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی اور تشدد کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں سیکیورٹی فورسز اور قومی املاک پر عسکریت اور علیحدگی پسندوں کی جانب سے حملے معمول بن چکے ہیں ،گذشتہ سال قلات کے علاقہ سے حاضر سروس بھارتی فوجی افسر کلبھوشن گرفتار ہو ا جس کے ذمہ امن و امان کی حالت کو بد تر کرنے کے علاوہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کا ٹاسک تھا قلات میں کئے گئے عسکری آپریشن میں فورسز نے اہم کمانڈر عبدالغنی بنگلزئی جو چیف جسٹس آف بلوچستان کے قتل میں بھی ملوث تھا 34دہشت گردوں سمیت ہلاک کیا گیا ،ضلعی انتظامیہ نے لاشوں کو ضلعی ہسپتال کیچ منتقل کر دیا ،بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے کہا تمام افراد غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپ جا رہے تھے کہ تربت کے علاقہ میں انسانی خوان کے پیاسوں کے ہاتھ لگ گئے ،ان بے گناہوں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ یہ افراد عسکری تعمیری کمپنی فرنٹئیر ورکس کے ملازمین تھے جو ضلع کیچ میں پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کر رہے تھے،بلوچستان کے سرحی علاقوں مند اور تفتان کے راستے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپ اور خلیجی ممالک جانے کے لئے ایران میں داخل ہوتے ہیں ،پاکستانی حکومت نے اس علاقے سے انسانی اسمگلنگ کے بہت دعوے کئے مگر تاحال اس میں کمی نہ آ سکی اور یہ خطرناک سلسلہ تا حال جاری ہے،کوئٹہ ایف آئی اے کے مطابق بلوچستان میں انسانی اسمگلنگ میں کئی با اثر شخصیات ملوث ہیں اور یہی وجہ بنتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے ایجنٹ گرفتار ہونے کے باوجود ثبوت اور گواہان نہ ہونے کی بنیاد پر معمولی عرصہ بعد عدالتوں ے رہا ہو جاتے ہیں،عسکری ذرائع کے مطابق اس المناک واقعہ میں پی ایل ایف کے ڈاکٹر اللہ نذر ملوث ہے،چند روز قبل ہی تفتان کے علاقہ سے ایرانی سیکیورٹی فوسز نے30پاکستانیوں کو پاکستان کے حوالے کیا جویورپ جانے کے لئے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوئے تھے،دو ماہ قبل ضلع مستونگ میں دو افراد کی لاشوں کا ڈھانچہ ملا یہ دونوں لاشیں ضلع مستونگ کے علاقے کابو سے برآمد کر کے کوئٹہ منتقل کی گئیں ان ڈھانچوں بارے حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ دونوں نعشیں ان مغوی چینی باشندوں کی ہو سکتی ہیں جنہیں شدت پسند تنظیم داعش نے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھاچین سے تعلق رکھنے والے ان چینی افراد کو رواں سال مئی میں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا ،ان کی بازیابی کے لئے سیکیورٹی فورسز نے تقریباً چھ ہفتے کا بہت بڑا آپریشن کیاجس میں مغوی چینی باشندوں کی بازیابی تو ممکن نہ ہو سکی تاہم مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں 12شدت پسند ضرور جہنم واصل ہوئے جن کا تعلق شدت پسند تنظیم سے تھا داعش نے اسی آپریشن کے بعد دونوں مغوی چینیوں کو ہلاک کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی،انہی دنوں سابق وفاقی وزیر داخلہ اور کوئٹہ پولیس حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دس کے قریب ایسے چینی باشندے ہیں جن کو کراچی بھیجا گیا جو مغوی چینیوں کے ساتھی تھے اور یہ لوگ کوئٹہ میں عیسائیت کی تبلیغ کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے،کیچ کے علاقے سے 15افرادکی لاشیں ملنے کی شام کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں موٹر سوار افراد نے جدید اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر کے قائم مقام ایس پی انویسٹی گیشن محمد الیاس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں ان کی اہلیہ فرزانہ،نوجوان بیٹا عدیل احمد ایڈووکیٹ ،5سالہ پوتا عبدالوہاب موقع پر ہی ہلاک جبکہ ان کی چار سالہ پوتی مروہ اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے ،ایک ہفتہ قبل ہی کوئٹہ کے حساس علاقے چمن ہاؤسنگ اسکیم روڈ پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل بلوچستان ٹیلی کمیونیکیشنز کے قافلے کو خود کش دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اس واقعہ میں ان کے علاوہ مزید دو پولیس اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوئے ،رواں سال مئی میں ہدہ کے علاقہ میں ڈی ایس پی عمرالرحمان کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جسے برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک دہشت گرد قرار دے چکے ہیں ،یہ کالعدم تنظیم سیکیورٹی فوسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے بی ایل اے کے دہشت گرد بچوں،خواتین ،مسیحی اور شعیہ برادری کے سب سے بڑے قاتل ہیں ،اس تنظیم کو سی پیک میں راہ میں بڑی رکاوٹ بنانے کے لئے انڈیا دیگر کئی ملکوں کے ساتھ مل کر بھاری فنڈنگ اور ہر قسم کی سپورٹ فراہم کر رہا ہے انڈیا اس حوالے سے اب تک کئی ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے ،چند ہفتے قبل برطانیہ کی ٹیکسیوں پر پاکستان مخالف نعروں کے پوسٹرز لگوائے گئے اب برطانیہ کے شہر لندن میں ڈبل ڈیکر بسوں پر فری بلوچستان جیسے نعروں کے پوسٹر ان پر چسپاں نظر آئے جسے پاکستانی ہائی کمشنرکے احتجاج پر ہٹایا جا رہا ہے دفتر خارجہ نے برطانوی دارلحکومت میں بسوں اور ٹیکسیوں پر لگائے گئے فری بلوچستان پوسٹر پاکستان کی ملکی سلامتی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے،رواں برس یہ دوسرا موقع ہے جب کسی یورپی ملک میں فری بلوچستان کے اشتہارات نظر آئے (اگر یہی کچھ برطانیہ یا امریکہ کے بارے پاکستان میں ہوتا تو پتا نہیں ہماری اپنی حکومت ہی کیا قیامت کھڑی کر چکی ہوتی )اس سے پہلے ستمبر میں سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں متعدد مقامات ،بسوں اور ٹیکسی کاروں پر ایسے پوسٹرز آویزاں کئے گئے تھے جن پر بلوچستان کی آزادی اور پاکستان میں اقلیتیوں سے مبینہ ناروا سلوک کے بارے میں نعرے درج تھے، دفتر خارجہ نے سوئس سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ بلا کر سخت احتجاج کیاگیا کہ سوئس حکام شدت پسند تنظیم کو اپنی سر زمین استعمال کرنے دے رہی ہے اوران پوسٹرز کو ایک ایسی تنظیم نے سپانسر کیا جسے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کالعدم قرار دے چکے ہیں اور سوئٹرز لینڈ کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ،سوئس حکام کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ کمال نے اپنے مراسلے میں کہا کہ بلوچستا ن ہمارا بڑا صوبہ ہے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی نمائندگی حاصل ہے جبکہ سوئٹرزلینڈ میں آزاد بلوچستان کا نعرہ پاکستان کی سا لمیت و خود مختاری پر کھلا حملہ ہے، اس انتہائی تشویشناک بات پر ہرپاکستانی رنجیدہ تھا مگر وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کہتے ہیں اس علیحدگی پسند تنظیم کی اس مہم کی کوئی اہمیت نہیں،حیرت ہے۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین