Breaking News

قبلہ اول بیت المقدس پر امریکی وار۔ دنیا بھر میں شدید رد عمل

sabir mughal
صابر مغل

امریکی صدر ڈونلڈمپ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بیت المقدس کو اسرائیلی دارالخلافہ منظور کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ کا تل ابیب سے بیت المقدس (یروشلم )منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے ٹرمپ نے کہا یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے یہ عمل ضروری تھا ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کے بعد فیصلے پر باقاعدہ دستخط کر کے اس کی منظوری دے دی ہے ،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہاہو نے کہا ٹرمپ کا یہ فیصلہ تاریخ ساز ہے،امریکی صدر کی جانب سے اس فیصلہ کے اعلان کے بعد فلسطین میں شدید مظاہروں کا آغاز ہو گیا جبکہ یہ سلسلہ پوری اسلامی دنیا تک پھیلتا نظر آ رہا ہے ،حماس نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اس فیصلے سے جہنم کے سارے دوازے کھول دئیے ہیں،عالم اسلام کی جانب سے اس فیصلہ پر شدید رد عمل سامنے آتا جا رہا ہے ،مصر نے تو کہہ دیا ہے کہ کسی صورت امریکی سفارتخانہ کو بیت المقدس منتقل نہیں ہونے دیں گے،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،ایران اور فرانس نے رد عمل میں کہا ہے کہ لہلولہان امت مسلمہ کے لئے یہ ایک اور کاری زخم ہے ،فرانس کے صدر ایما نوئیل میکر ن نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت افسوسناک ہے اور فرانس اس کی توثیق نہیں کرے گاایران کے صدر حسن روحانی نے ٹرمپ کے اعلان کو غیر قانونی ،اشتعال انگیز اور نہایت خطرناک قرار دیاچینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے باقاعدہ نیوز بریفنگ میں کہا کہ یروشلم کے حوالے سے امریکی منصوبے سے علاقائی اور دنیا بھر میں کشیدگی بدتر ہو،برطانوی وزیرخارجہ بروسن جونبسن نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اتحادیوں کی مشاورت اور تجاویز سے روگردانی مشرق وسطیٰ میں تشدد کی نئی لہر کو جنم دے گی اور برطانیہ اس طرح کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا ہم اپنا سفارت خانہ تل ابیب میں ہی قائم رکھیں گے،یورپی یونین کے شعبہ سیاسی امور سربراہ فیڈریکا موغرینی نے بھی صدر ٹرمپ کے منصوبے ر سخت تنقید کی اور کہا اس منصوبے سے امن عالم کو خطرناک دھچکا لگا ہے،پاکستانی دفتر کارجہ کے مطابق پاکستانی عوام اور حکومت اس اعلان کی دو ٹوک مخالفت کرتے ہیں پاکستان نے فی الفور اقوام متحدہ کے اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،ملائشیا،انڈونیشنا سمیت درجنوں امن پسند ممالک بھی اس اعلان پر سخت رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں ، اتلی اور فرانس سمیت آٹھ ممالک کی اس بین الاقوامی خلادف ورزی پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کر لیا ،اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ فیصلہ مذاکرات سے حل ہونا چاہئے،ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس 13دسمبر کو طلب کر لیا ہے ،امریکی صدر کا یہ فیصلہ جو دو ریاستی حل کے حوالے سے جانبدرانہ ساری حدیں پار کر گیا ہے پر دنیا بھر میں شدت پسندی کی ایک نئی لہر ابھرے گی دنیا کے امن و امان کو بے حد ساکھ پہنچے گی ممکن ہے یہ فیصلہ کسی بڑی اور عظیم جنگ کا پیش خیمہ بن جائے ،اس اعلان کے بعد ہی فلسطین اور ویسٹ بینک میں احتجاجی مظاہروں کا عمل شروع ہو گیا لوگ سڑکوں پر نکل آئے ابھی تو یہ عمل دنیا بھر میں پھیل جائے گا کیونکہ دنیا میں کسی بھی ملک ،کسی بھی نسل ،کسی بھی قوم نے اس منصوبے کی حمایت نہیں بلکہ تحفظات کا اظہار کیا ہے ،اسلامی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کو اس فیصلے کے اعلان سے قبل خبردارکیا تھا اس اقدام سے اسلامی اور مغربی دنیا کے تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے ،چند روز قبل امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ہفتہ بیت المقدس (یروشلم )کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کا اعلان متوقع ہے ،اس خدشہ کے تحت اقوام متحدہ اسرائیل کے زیر قبضہ بیت المقدس کے متنازع علاقہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتا ،چند روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کاروائی،دباؤ اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرارداد پیش کی گئی کیونکہ کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منقتل کرنے پر غور کر رہا ہے اس قرار داد کی حمایت میں 151ریاستوں ،مخالفت میں6ریاستوں امریکہ کینیڈا،مائیکرو نیزیاکی وفاقی ریاستوں،اسرائیل،جزائر مارشل اور ناواو نے حمایت جبکہ آسٹریلیا،کیمرون،اسطی جمہوری افریقہ ،ہونڈداس،پانامہ،پاپوانیوگی،پیرا گوئے ،جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے ووٹ دینے سے گریز کیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل میں اپنے سفارت کانے کو بیت المقدس منتقل کر دے گا کو عملی جامہ پہنچنانے کی اطلاعات پر فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکہ کو خبردار کیا کہ یہ فیصلہ کسی صورت بھی ناقابل قبول ہے وائٹ یاؤس کے اس فیصلہ سے خطے میں امن کے مستقبل کے لئے خطرات بڑھیں گے،اسرائیل نے1967میں جب بیت المقدس (یروشلم )پرقبضہ کیا تب سے وہ اسے بیت اپنا دارالخلافہ قرار دیتا ہے لیکن عالمی برادری کامؤقف ہے کہ شہر کی شناخت کا معاملہ امن مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے،حماس کی جانب سے بھی اس فیصلہ پر سخت مزاحمت کا اعلان کیا ہے کہ اگر بیت المقدس سے متعلق کوئی ظالمانہ فیصلہ اپنایا گیا تو فلسطینی عوام سے انتقاضہ(بغاوت)بحال کرنیکا مطالبہ کریں گے اور ایسا کوئی بھی فیصلہ امریکی انتظامیہ کا شہر پر بدترین حملہ ہو گا اور یہ اسرائیل کو اپنے جرائم جاری رکھنے میں مدد دینے کے مترادف ہے،اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی نے کہا کہ اگر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا تو اس کے خطرناک ترین نتائج ہوں گے اس قسم کا اعلامیہ نہ صرف عرب بلکہ اسلامی دنیا کو ناراضگی اور شدت پسندی پر ابھار سکتا ہے، امریکہ کی ڈیلام ویئر یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ امور کے ماہرڈاکٹر مقتدر خان کے مطابق اس اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی ایسی لہر آسکتی ہے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوگا، امریکی خفیہ ایجنسی کے مطابق فلسطینیوں کے علاوہ یروشلم سمیت اسرائیل میں 20فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے اس امریکی اقدام سے یہ عرب بھی اشتعال میں آکر شدت پسندی کی طرف مائل ہوں گے ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نشانے بنائے جانے کا خدشات کئی گنا بڑھ جائیں گے،امریکی نائب صدر مائک پنسین نے کہاامریکی صدر کو یہ اقدام ایک سنجیدہ سوچ میں دھکیل رہا ہے جس کا بہت نقصان ہو سکتا ہے،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر ماؤٹ کے مطابق ٹرمپ اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کیا اور بہت احتیاط سے کام لیں گے لیکن لگتا ہے اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کردہ قرار داد کی حیثیت مسترد کر دی جائے گی مگر ان تمام تر تحفظات ،احتجاج اور دھمکیوں کے امریکی صدر اپنے فیصلے سے باز نہ آئے اور بالآخر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے ہی دیا ،پہلی جنگ عظیم یکم دسمبر1910کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آبادکرنے کی عام اجازت دے دی ،یہود و نصاریٰ سازش کے تحت نومبر1947میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے اس خطہ کو فلسطینی عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا جب14مئی 1948کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑگئی جس کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد حصے پر قابض جبکہ مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضہ میں آ گئے،تیسری عرب اسرائیل جنگ جون1967میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جمالیا مسلمانوں کا قبلہ اول تا ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے،یہودیوں کے مطابق 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دوہزار سال سے یہودی زائرین آکر رویا کرتے تھے اسی لئے اسے ،دیوار گریہ،کہا جاتا ہے اب یہودی مسجد اقصیٰ کوگرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے ناپاک منصوبے بناتے رہتے ہیں ،21اگست1969کو ایک آسٹریلوی یہودی مائیکل دومان نے قبلہ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مغرب میں قبلہ کی طرف بڑا حصہ گر گیا محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیاجسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا،صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریباً16جنگیں لڑیں،مسجد میں آتشزدگی کے اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اس سانحہ کے بعد اسلامی ممالک نے مؤتمر عالم اسلامی (او آئی سی )قائم کی تھی مسجد الاقصیٰ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے جس پر یہودیوں کا قبضہ ہے یہ بیت المقدس کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5میں ہزار سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں حضور پاکؐ سفر معراج کے موقع پر مسجد حرام سے یہاں پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے تھے،مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول معراج شریف میں نماز کی فرضیت کے بعد16سے17ماہ تک مسلمان اس کی جانب رخ کر کے ہی نماز ادا کرتے رہے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ بن گیا،یروشلم یا القدس فلسطینیوں کا شہر اور دارالحکومت یہودیوں ،مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے یہاں حضرت سلیمان ؑ کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کے قبلہ ہے یہیں حضرت مسیح ؑ کی پیدائش کا مقام اور ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز تھایہ مکہ مکرمہ سے تقریباً1300کلومیٹر دور ہے بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں یروشلم کہتے ہیں بیت المقدس سے مراد وہ مبارک گھر جس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہو اجاتا ہے پہلی صدی ق م میں رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا توانہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا،بیت المقدس پہاڑوں پر آباد ہے اورا نہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صیہون ہے جس پر مسجد اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ واقع ہیں ،کوہ صیہون کے نام پرہی یہودیوں کی عالمی تحریک صیہونیت قائم کی گئی،سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے بھتیجے حضرت لوطؑ نے عراق سے بیت المقدس کی جانب ہجرت کی ،حضرت یعقوب ؑ نے وحی الہٰی کے مطابق مسجد القدس کی بنیاد ڈالی اور بیت المقدس آباد ہواپھر عرصہ دراز کے بعدحضرت سلیمان ؑ کے حکم پر مسجد اور شہر کی تجدیدکی گئی اسی لئے یہودی اسے ہیکل سلیمانی کہتے ہیں،یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں ہوئی رومی جنرل ٹائٹس نے یروشلم اور ہیکل سلیمانی دونوں کو مسمار کر دیااور رومی شہنشاہ نے یہودیوں کو بیت المقدس سے جلا وطن کر دیا چوتھی صدی ء میں رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی اور یہاں گرجے تعمیر کئے624ھ تک بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ رہا عہد فاروقیؓ میں عیسائیوں کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا،خلیفہ عبدالمالک کے عہد میں یہاں مسجد اقصیٰ کی تعمیر عمل میں آئی ،1099میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا جس کے دوران70ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا1187میں مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کو مار بھگا کر قبضہ واپس لیا، بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور دونوں ریاستیں ہی دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ شہر ان کا داراحکومت ہے اسی وجہ سے آخری انتقاضہ یا بغاوت 2000میں ہوا جب اسرائیلی رہنماء ایریل شیرون نے مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا جس کے نتیجہ میں 3ہزار فلسطینیوں کو شہید جبکہ ایک ہزار یہودیوں کی ہلاکت سامنے آئی،رواں سال جولائی میں اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز جمعہ کے بعد فائرنگ کر کے 3فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور چند روز بعد ہی فائرنگ کر کے مسجد کے امام شیخ اکریمہ صابری سمیت11افراد کو زخمی کر دیا،اکتوبر2015سے جاری ہونے جھڑپوں میں اب تک تین سو سے زائد فلسطینیوں کو احتجاج ،مظاہروں اور فضائی حملوں میں شہید کیا گیا یہ فسادات مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر سے شروع ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس علاقہ میں 300مکانات کی تعمیرکا اعلان کیا تھا،یہودیوں کے ساتھ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وعدہ اصل اپناانتخابی وعدہ پورا کرنا کسی نئی جنگ اور بڑی جنگ کی شروعات پر منتج ہوں گا،

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین