Breaking News

لاہور میں دہشت کی علامت عابد باکسر کس کا آلہ کار تھا ؟

sabir mughal
صابر مغل

نوے کی دہائی میں پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا نہ ہونے پر پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو نہیں پتا تھا کہ شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے کیا ہو رہا ہے ،کون ہے جو پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ انڈر ورلڈ کا ایک نامی گرامی کردار ہے،صرف وہی لوگ کسی حد تک جانتے تھے جو اخبار بینی کے عادی تھے،اس وقت الراقم خود آئے روز خبروں میں رہنے والے اس کردار کے بارے میں بہت متجسس تھا کہ آخر پولیس کا یہ بادشادہ سلامت کیا چیز ہے؟جسے نہ کسی کا ڈر ہے نہ خوف ،نہ کوئی اسے پوچھنے والا ہے نہ وہ کسی کو جواب دہ ہے،پولیس انسپکٹر عابد باکسربلاشبہ اس وقت لاہور میں دہشت کی سب سے بڑی علامت تھا2007میں منظر عام سے غائب ہونے والے پولیس کے اس نامور کردار کو انٹرپول نے دوبئی سے گرفتار کیا تو کراچی کے انکاؤنٹرسپیشلسٹ راؤ انوار سے بھی کہیں شہرت یافتہ اب دوبئی میں زیر حراست ہے دو روز قبل وہ ملائیشیا سے دوبئی پہنچا تو ائیر پورٹ پر انٹر پول نے تصویر اور اشتہاریوں کی فہرست میں نام کی موجودگی کی تصدیق پر اسے گرفتار کر کے دوبئی پولیس کے حوالے کر دیا،بعض ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ شکنجہ کسے جانے پر عابد باکسر نے سرنڈر کرتے ہوئے خود گرفتاری دی ہے اور وہ اپنی زندگی کی ضمانت اور عدالت تک رسائی کے بعد اہم شخصیات کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا،اس سے پہلے اطلاعات آتی رہیں کہ وہ بنکاک،ہامگ کانگ ،ملائیشیا ،دوبئی یا مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر ہے،دو ماہ پہلے تقریباًبیرون ملک رہائش پذیر250اشتہاری ملزمان کے ریڈ ورانٹ انٹر پول بھیجے گئے ایک ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا جسے ٹاسک دیا گیا کہ وہ بیرون ممالک فرار اشتہاریوں کی گرفتاری کو یقینی بنائے اس پرکئی اشتہاری دوبئی سے بھی دیگر ممالک فرار ہو گئے اور عابد باکسر بھی ملائیشیا چلا گیا،لاہور پولیس نے ابھی تک عابد باکسر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے، آئے روز کسی نہ کسی پولیس مقابلے کے علاوہ اسے اغنڈہ گردی سے انتہائی شہرت ملی جب اس نے شوبز کی دنیا کی نامور اداکارہ نرگس کو ناراضگی پر شدیدزدوکوب کیا سر کے بال اور بھنویں تک مونڈ ڈالیں،عابد حسین قریشی گورنمنٹ کالج سے تعلیم یافتہ اور باکسنگ کاکھلاڑی ہونے پر بطورسب انسپکٹر پنجاب پولیس میں بھرتی ہوا ،باکسر ہونے کی وجہ سے اس کا نام عابد باکسر سے ہی مشہور ہو گیا،عابد باکسر محکمہ پولیس میں جانے کے بعد بہت جلد اعلیٰ پولیس افسران اورحکومتی شخصیات کا منظور نظر بننے میں کامیاب ہو گیا،جلد ہی لاہور کے مختلف تھانوں میں ایس ایچ او کی کرسی اس کے لئے خالی کر دی جاتی ،لاہور کے تمام جرائم پیشہ گروہ بھی اس انوکھے اور دبنگ پولیس افسر کے رابطوں میں آنے لگے،اعلیٰ سیاسی شخصیات کی سرپرستی پر وہ کسی بھی نوعیت کی بازپرس سے محفوظ ہو گیا،پولیس مقابلے اس کی پہچان بنتے گئے ،کراچی کے راؤ انوار کی طرح آئے روز لاہور میں کسی نہ کسی پولیس مقابلے کی خبر اخبارات کی زینت بنتی جن میں عابد باکسر ہی نمایاں ہوتا،ایک محتاط اندازے کے مطابق عابد باکسر نے چھ سالہ پولیسی فرعونیت میں کم از کم65پولیس مقابلوں میں درجنوں افراد کو پار کیا،عابد باکسر نے شوبز انڈسٹری کا رخ کیا تو کئی بڑے بڑے ناموں سے اس کی دوستی ہوگئی معروف ڈانسر نرگس بھی اس کے دوستوں میں تھی مگر اختلاف پیدا ہونے پر اس نے نرگس کو سر عام تشدد کا نشانہ بنایا،اس واقعہ کا مقدمہ 28مارچ2002کو ٹاؤن شپ میں درج ہوابدترین تشدد کے باوجود نرگس ڈر کے مارے پولیس کے پاس نہیں گئی بلکہ ایک گینگسٹر کے پاس گئی کہ اسے عابد سے بچایا جائے نرگس اور عابد باکسر کے درمیان صلح کرانے میں اہم کردار ممتاز نغمہ نگار اور شاعر خواجہ پرویز نے ادا کیا جس کے بعد نرگس شوبز کی دنیا کو خیر باد کہہ کر زبیر شاہ نامی شخص کے ساتھ شادی کر کے کینیڈا رہائش پذیر ہو گئیں،اس واقعہ کے بعد عابد باکسر شوبز انڈسٹری میں بھی ڈان بن کر ابھرا،عابد باکسر زمینوں،بنگلوں اور ہاؤسنگ سو سائٹیوں میں قبضہ مافیا کا بھی سرغنہ بن گیا بھتہ خوری بھی اس کے لئے لازم و ملزوم تھی،جن جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ اس کے بہترین تعلقات تھے ان میں طیفی بٹ،گوگی بٹ گروپ اور ملک احسان گروپ نمایاں ترین تھے جو اس کے اندرون و بیرون ملک رہائش سمیت تمام دیگر اخراجات بھی برداشت کرتے تھے،قانون کا یہ رکھوالا خود کو ہر قسم کے قانون سے بالاتر سمجھتا اس کے نام کی دھاک لاہور میں بیٹھ گئی ،اس کے راستے میں جو بھی آیا اسے اس نے قانون کی طاقت کو غلط استعمال کرتے ہوئے روند ڈالا، طالب علم رہنماء طاہر پرنس ،اداکارہ ماروی ،سٹیج اداکارہ قسمت بیگ کو بھی اسی نے اگلے جہان پہنچایا،گلبرگ تھرڈ میں حالی روڈ پر 7E..1میں برگیڈئیر (ر)نسیم شریف (مرحوم )کے قیمتی پلاٹ پر قبضہ کر لیا اس کے بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوہ نورین شریف کو گھر سے اغوا کر کے اس سے پلاٹ کی دستاویزات پر زبردستی دستخط کروانے کے بعد اسے قتل کر دیا گیا اس واقعہ میں اس کے ماموں ظفر عباس ،ماموں زاد بھائی علی عباس باکسر اور ندیم عباس بھی شامل تھے جو لاہور کا بہت بڑا قبضہ مافیا تھا،ندیم عباس اور علی عباس اس قبضہ کیس میں گرفتار ہوئے جنہیں21جولائی 2011کو کیمپ جیل میں ایڈیشنل سیشن جج ایم شہزاد کیانی نے موت و عمر قید کی سزا سنائی گئی عابد باکسر اس کیس میں گرفتار نہ ہوااسے جج نے اشتہاری قرار دے دیا،لاہور کے ایک اور معروف بچہ سکینڈل میں عابد نے ماموں ظفر عباس کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیا لی،مراکہ میں عابد باکسر نہ صرف994کنال پر مشتمل گجا گارڈن پر قبضہ کیا بلکہ وہاں اس نے ایک گجر خاندان کو ہی غائب کر دیا،عابد باکسر کے ماموں اور ماموں زاد بھائیوں کو ایس پی عمر ورک نے گرفتار کیا تھا اس کے ماموں ظفر عباس پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گئے تھے عابد باکسر نے بھتہ نہ ملنے پر تھانہ گجر سنگھ کے علاقہ میں سینما مینجر کو قتل کر دیا،ڈائریکٹر آف کوآپریٹو بینک کا قتل بھی اس کے کھاتہ میں ہے،عابد باکسر اندرون شاہ عالم مارکیٹ کے معروف ٹرنسپورٹر امیر عارف عرف ٹیپوٹرکاں والا پر ایوان عدل میں قاتلانہ حملہ کے کیس جس میں پانچ افراد ہلاک اور ٹیپو زخمی ہوا کے مقدمہ میں بھی نامزد ہیں،اس کے بیرون ملک ہونے کے باوجود بطور ڈان اس کی کاروائیاں جاری رہیں اسے باقاعدگی سے بھتہ ملتا رہا گذشتہ برس اس نے سمن آباد میں کیبل آپریٹر جواد کا قتل ہوا تو اس کیس میں عابد باکسر نامزد ہوا کہ اس نے جواد کو بیرون ملک بیٹھ کر قتل کرایا ہے،عابد باکسر کے خلاف اسلام پورہ،قلعہ گجر سنگھ،مسلم ٹاؤن،ملت پارک،جوہر ٹاؤن،ٹاؤن شپ،سمن آباد ،سبزہ زاروغیرہ میں قتل،اقدام قتل،اغوا،بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں،یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئیں تھی کہ1998میں پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت کی جانب سے عابد باکسر کی گرفتاری اور پھر پولیس مقابلے میں اس کی ہلاکت کا ٹاسک ڈی ایس پی عاشق مارتھ (مرحوم)کو سونپا گیا مگر جس دن یہ پلان بنا اسی دن حکومت تبدیل ہو گئی اس سے قبل 1996میں بھی بہاولنگر میں تعینات ضلعی پولیس آفیسر کو ایساٹاسک ملا مگر اس نے انکار کردیاتو اسے فیڈرل کنٹرول روم میں تبدیل کر دیاگیا،1999میں اسے ایک دفعہ گرفتار بھی کیا گیا مگر وہ با اثر پولیس آفیسر بچ نکلا اور اسے شیخو پورہ تبدیل کر دیا گیا اسی دوران اسے آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر نے نوکری سے برخاست کر دیا،بعد میں انڈر ورلڈ رہا اور2007کے بعد وہ پاکستان چھوڑ گیا،بعد میں وہ کئی بار بیرون ملک سے منظر عام آتا رہا اور حکومتی شخصیات کے ساتھ پولیس افسران پر الزامات عائد کرنے کا دعویٰ کرتا رہااس نے جتنے بھی جعلی پولیس مقابلے کئے ان میں اعلیٰ افسران اور پنجاب کی ایگزیکٹو اتھارٹی شامل ہوتی تھی،سبزہ زار میں بھی اسے ایک پولیس مقابلے کا حکم ملا مگر اس انکارکیا تو یہاں جعلی پولیس مقابلے میں ایس پی عمر ورک نے پانچ افراد کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارا جن میں دو مزدور بھی شامل تھے جو فٹ پاتھ پر سورہے تھے اسی پولیس مقابلے کے مقدمہ میں وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف کا نام بھی شامل ہے ، معلوم ہوا ہے کہ عابد باکسر کی گرفتاری کی خبر سن کر پولیس افسران ،کاروباری اور شوبز کی شخصیات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ Kبلاک ماڈل ٹاؤن میں رہائش پذیر اس کے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا ہے انٹرپول نے اس کے ساتھی شہباز المعروف سائیں کو بھی گرفتار کر لیا ہے تاہم ان کا ایک خطرناک ساتھی افضال گھونو ابھی تک فرار ہے، 11سال بعد قانون کی گرفت میں آنے والے اس ڈان کے حوالے سے پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے،بہرحال یہ وقت بتائے گا کہ عزیر بلوچ ،راؤ انوار کی طرح عابد باکسر کس کا آلہ کا رتھا۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین