Breaking News

پی ایس ایل 3کا تاج اسلام آباد یونائٹیڈ کے سر سج گیا

sabir mughal
صابر مغل

روشنیوں کے شہر کراچی کے باسیوں نے رات چاند رات کی طرح بسر کی اور صبع شدید گرمی میں اپنے جذبہ جنون،بھر پور چوش و خروش یوں کہ جیسے واقعی کراچی والوں کی عید ہو ،شدید گرمی بھی ان کے جوش و خروش پر غالب نہ آئی بلکہ انہوں سب بالائے طاق رکھتے ہوئے سٹیڈیم کا رخ کیا اسٹیڈیم کے قریب قطاریں لگ گئیں ،گرمی اور سخت سیکیورٹی کے باوجود شائقین کرکٹ نے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا رش اورسیکیورٹی کی وجہ سے سٹیڈیم کے گیٹ پانچ کی بجائے سات بجے تک کھلے رکھے گئے،شہر بھر کو دلہن کی طرح سجایا گیا دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ وہ لمحہ آن پہنچا جب پہلے پاکستانی فنکاروں نے افتتاحی تقریب میں اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا پھر پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے کپتان ڈیرن سیمی اور جین پال ڈومینی ٹاس کے لئے میدان میں اترے،ٹاس پشاور زلمی نے جیت لیا توڈیرن زلمی نے پہلے بیٹنگ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا بیٹنگ وکٹ پر اس اہم میچ میں بڑا ٹوٹل کھڑا کرنا چاہتے ہیں،جین پال ڈومینی نے کہا ہم اگر ٹاس جیت بھی جاتے تو باؤلنگ کو ہی ترجیح دیتے،پشاور زلمی کے مرد میدان کامران اکمل ساتھی اوپننگ بیٹسمین آندرے فلیچر کے پہنچے ،اسلام آباد یونائٹیڈ کی جانب سے باؤلنگ کاآغاز سمیت پتیل نے کیا،پہلے اوورمیں انہوں نے صرف ایک سکوردیا،دوسرا اوور محمد سمیع نے کیا تاہم پزاور زلمیکو پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ٹورنا منٹ کے بہترین بیٹسمین اور جیت کی امیدوں کے سب سے بڑے مرکز کامران اکمل کو سمیت پتیل نے ایل بی ڈبلیو کر دیاانہوں نے 9گیندوں پر صرف ایک رن بنایا،تیسرے اوور میں پروفیسر 8 سمیت پتیل کو ہی اپنی وکٹ دے بیٹھے،ابھی پزاور زلمی صدمے میں ہی تھی کہ شاداب خان نے آندرے فلیچر کوشکار کر لیا،فلیچر ایک مشکوک فیصلے کا شکار ہوئے، فلیچر تیسرے اوور میں اپنی اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیاتھا میچ کا پہلا چوکا بھی انہوں نے لگایاانہوں نے15گیندوں پر 21رنز جوڑے تھے،،اسکے بعد کرس جورڈن اور لیاس ڈالسن نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے 53رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کی امیدوں کو سہارا دیا ،کرس جورڈن نے عماد بٹ کو چھکا مار کر اپنے عزائم ظاہر کئے تو اگلی ہی گیند پر ایک اونچا شارٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے،اگلے بیٹسمین ثمین گل آئے اس کے فوری بعد حسین طلعت نے سعد نسیم کو پویلین واپس بھیج دیا،وہ لمحات پشاورر زلمی کے لئے مزید انتہایہ تکلیف دہ تھے جب شاداب خان کی دوسرے سپیل میں واپسی ہوئی نے اپنی دو لگاتارگیندوں بپر ڈیرن سیم اور عمید آصف کو چلتا کیا،محمد سمیع نے اچھی بیٹنگ کامظاہرہ کرنے والے لیاس ڈاؤس کی وکٹیں محمد سمیع نے بھکیر دیں،پاشور زلمی نے17ویں اوور میں اپنا سکور کا مجموعہ پورا کیا،حسن علی نے 4سکورثمین گل نے دورنز بنائے،جبکہ وہاب ریاض نے جارحانہ بیٹنگ کرتے وئے اپنی ڈوبتی ٹیم کوسہارا دیا اور مجموعی سکور کو 148تک پہنچ دیا،شاد خان نے4اوور میں 25رنز دے کر 3وکٹیں ،سمیت پتیل نے چار اوور میں 26رنز دے کر 2وکٹ،عماد بٹ نے 18رنز دے کر 2وکٹ ،حسین طلعت نے بھی 2وکٹیں حاصل کیں،جبکہ محمد سمیع اور فہیم اشرف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ،پشاور زلمی کی ٹیم نے اپنی اننگز میں مجوعی طور پر 12چوکے اور6 لگائے ،ان کی طرف سے کرس جورڈن 36،لیاس ڈاؤسن33اور وہاب رہاض 28رنز کے ساتھ نمایاں رہے ،پشاور زلمی کے 7کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نہ ہو سکے،اسلام آباد کی ٹیم ہدف کے تعاقب کے لئے میدان میں آئی تو امیدوں کے مرکز لیونک رونکی نے آتے ہی لاٹھی چارج شروع کر دیااس نے حسن علی کے پہلے ہی اوور میں دو چھکے لگا کر خطرے کی گھنٹی بجا دی،ڈیرن زلمی نے پہلے اوورز میں تمام باؤلرز آزما ڈالے مگر وہ رونکی کو جارحانہ موڈ میں دراذ نہ ڈال سکے،اوپنر ز نے پنی ٹیم کے مجوعے کو بغیر کسی نقصان کے 96رنز تک پہنچا دیا اس وقت تک میچ یکطرفہ لگ رہا تھا کہ اسی دوران اسلام آباد یونائٹیڈ کی چار وکٹیں یکے بعد دیگرے اڑیں تو میچ کی سنسی خیزی میں داخل ہو گیا ایک لمحے پر تو یوں لگ رہا تھا کہ پشاور زلمی اب پوری طرح میچ میں واپس آ چکا ہے مگر اسی دوران وہ ہوا جو کامران اکمل سے کبھی نہیں ہوا اس نے آصف کا آسان ترین کیچ ڈراپ کر دیا یہ کیچ ڈراپ نہیں تھا بلکہ ٹرافی ہی ڈراپ کر دی گئی تھی چانس لینے والے محمد آصف نے حسن علی کے خلاف چھکوں کی ہیٹرک کر کے میچ کو پشاور زلمی سے چھین لیا،اس میچ میں حسن علی سب سے زیادہ مہنگے باؤلر ثابت ہوئے جنہوں نے چار اوور میں 53سکور دئیے حالانکہ انہوں نے ہی حریف ٹیم کے باؤلر شاداب خان کی طرح ایک ہی اوور میں دو وکٹ حاصل بھی کئے ان کی گیند پر باؤنڈر کے قریب کھڑے کرس جورڈن نے سمیت پتیل کا ناقابل یقین کیچ لے کر شائقین کو متحیر کر دیا،اسلام آباد یونائٹیڈ نے اپنی ففٹی چوتھے جبکہ 100دسویں اوور میں مکمل کر لیا تھا،فاتح ٹیم کی اننگز میں 11چوکے اور 10 شامل تھے،دونوں ٹیموں کا ایک ایک کھلاڑی عمید آصف اور والٹن 0پر آؤٹ ہوئے،پشار زلمی کے چار کھلاڑی ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے،پی ایس ایل کا400واں چھکا جورڈن نے لگایا ،اس میچ میں 18وکٹیں باؤلرز کے حصہ میں آئیں جبکہ واحد ففٹی سکور لیونک رونکی نے کیا،آخری اوورز میں چانس ملنے کے بعد محمد آصف کی دھلائی نے میچ کو جیت میں بدلا،شدید دباؤ میں تین چھکے لگانے والے محمد آصف کے مطابق چھکے مارنا میرا نیچرل گیم ہے مجھے دباؤ میں کھیل کر مزا آتا ہے،گشذتہ سال بھی زلمی نے فائنل میں 148رنز کا ہدف دیا تھا جس کے تعاقب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 90سکور پر ڈھیر ہو گئی ،اب اسلام آباد یونائٹیڈ نے پشاور زلمی کو ہر ا کر دوسری بار جیت کا سہرا اپنے سر سجا لیا ہے،اسلام آباد یونائٹیڈ اور پشاور زمی کے باہمی مقابلوں میں الام آباد یونائٹیڈ کو معمولی برتری حاصل ہے اس سے قبل 7میچوں میں سے4اس نے جیتے جبکہ تین میں پشاور زلمی نے فتح حاصل کی،،پہلے ایڈیشن میں پہلے دونوں میچ پشاور زلمی جبکہ ایک میچ اسلام آباد نے جیتا ،دوسرے ایڈیشن میں دونوں میچوں میں پشاور زلمی کو شکست ہوئی اس بار پلے آف سے قبل ایک ایک میچ دونوں ٹیموں نے جیتا،مجموعی طور پر پی ایس ایل میں میں پشاور زلمی 19اور اسلام آباد18میچز جیت کر پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے اس لحاظ سے یہ فائنل پی ایس ایل کی دو بہترین ٹیموں کے درمیاں کھیل گیا،اب دونوں ٹیموں کے میچ جیتنے کی شرح برابر ہو گئی ہے،لیونک رونکی نے مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز کا اعزاز حاصل کیا انہوں نے اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ سکور 435بنائے جن میں ناٹ آؤٹ94جن میں 5نصف سینچریاں اوسط 43،اسٹرائیک ریٹ 182جبکہ 51چھکے اور 25چوکے ان کے کھاتہ میں ہیں لیونک رونکی کو حنیف محمد کیپ کے علاوہ20ہزار ڈالر اور200سی سی ہیوی بائیک انعام میں دی گئی،، دوسرے نمبر پر سکور اگلنے والے کامران اکمل ہیں جنہوں نے 425سکور کئے انہیں پی ایس ایل ایڈیشن تھری کا بہترین بیٹسمین قرار دیا گیا،بہترین باؤلر کا اعزاز اسلام آباد کے فہیم اشرف نے18وکٹ لے کر حاصل کیا وہاب ریاض نے بھی 18ہی وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ فہیم نے یہ وکٹیں 12اور وہاب ریاض نے13میچوں میں حاصل کیں فہیم کی اوسط 17.2اور وہاب کی اوسط 19.1رہی،بہترین فیلڈر کا اعزاز جین پال ڈومینی نے حاصل کیا انہوں نے10میچوں میں8کیچ پکڑے تھے،بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز ملتان سلطان کے کمارا سنگا کارا نے حاصل کیا ،پی ایس ایل فائنل کے لئے کراچی میں انتہائی شاندار انتظامات کئے گئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ سہیل انور سیال ہر بات کی مانیڑرنگ کرتے رہے،سٹیڈیم کی سیکیورٹی رینجرز کے ذمہ تھی نیشنل سٹیڈیم کے اطراف کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ،شہر بھر میں سیکیورٹی ادارے گشت پر رہے ،میچ اور روٹس کی فضائی نگرانی جاری رہی ،ایس یو ایس کے806کمانڈوز کو تعینات کیا گیاسراغ رساں کتوں سے سٹیڈیم کی مکمل چیکنگ کی گئی ،خواتین پولیس اہلکار بھی سٹیڈیم میں موجود رہیں،سٹیڈیم اور اطراف میں مجموعی طور پر8ہزار سے زائد پولیس اہلکار جبکہ5ہزار تعینات کئے گئے،یہ ہائی وولٹیج میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی کی زینت بنا تو 2009میں سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ کے بعد پہلا بڑا میچ تھا ، افتتاحی تقریب میں شہزاد رائے ،آئمہ بیگ،فرحان سعید ،شہزاد رائے ،اسٹگرزز بینڈ نے بہترین فن کا مظاہرہ کیا ،آتش بازی کا زبردست انتظام کیا گیا تھا،کراچی کے ہر چوک میں نوجوان بھنگڑے ڈالتے رہے،انہوں نے ثابت کیا کہ ہم جیسا کوئی میزبان ہے تو سامنے آئے،یوں کراچی کی روشنی ایک بار پھر لوٹ آئی ،شہر کے ہر اہم مقام پر میچ دیکھنے کے لئے بڑی بڑی سکرینیں نصب کی گئیں،میچ دیکھنے کے لئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،گورنر سندھ محمد زبیر،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،بلاول بھٹو زرداری ،ائی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور بھی سٹڈیم پہنچے،جنرل آٖ غفور نے کراچی میں فائنل مقابلہ منعقد کرانے پر پی سی بی ،حکومت ،انتظامیہ ،سیکیورٹی اداروں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ کے انعقاد نے روشنیوں کے شہر کراچی کی رونقوں کو چار چاند لگا دئیے،ہم پر جو دہشت گردی مسلط کی گئی اب وہ اپنے اختتام کے راہ پر ہے پاکستانی قوم پائیدار امن اور استحکام حاصل کرنے کی اپنی صحیح منزل کی طرف گامزن ہے،آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی اسلام آباد کی ٹیم کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مقابلے میں کرکٹ جیت گئی،شاہد خاقان عباسی ،عمران خان،آصف زرداری،سراج الحق،وفاقی وزراء اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد دی، پی ایس ایل کا تیسرا ایڈیشن اپنی انمٹ یادوں،تمام تر رعنائیوں ،جذبوں اور خوشیوں کے بعد اختتام پذیر ہو چکا ہے،تمام پاکستانی قوم پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتی ہے تاہم ڈیرن سیمی اس وقت سب سے زیادہ پاکستانیوں کے دل میں گھر کر چکے ہیں،

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین