Breaking News

بلوچستان میں مزدوروں کے لاشے اور حکومتی بے حسی

sabir mughal
صابر مغل

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے گاؤں 49,2Lاور ککراں سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانوں کے نوجوان غربت اور بے روزگاری سے تنگ ،گھر میں فاقہ کشی اور چندخواوں کی تعبیر کے لئے کوئی15سوکلومیٹر سفر کر کے محنت مزدوری کرنے گئے وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ روزی کی طرف نہیں بلکہ موت کی طرف سفر کر رہے ہیں،حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ اس اسلامی ریاست میں بے روزگاروں کو محض چند ہزار روپے کے لئے بھی سینکڑوں میل دور اور وہ بھی پر خطر علاقوں میں جانا پڑتا ہے جہاں نہ ان کا کوئی بھائی،نہ بہن،نہ ماں نہ باپ نہ رشتہ دار اور نہ دوست ہوتے ہیں اگر ان کا باپ ،ماں،بہن،بھائی ،کزن،چچا ماموں یا کوئی اور نزدیک کا رشتہ دار موت کی حد پار کر جائے تو یہ ایسے بیچارے اپنے پیاروں کا منہ تک نہیں دیکھ سکتے بلکہ دعا بھی وہ ادھر ہی بے بسی اور ہچکیوں میں مانگ لیتے ہیں اور رو دھو کر صبر و شکر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،ضلع اوکاڑہ کے یہ بد قسمت بھی ایک نجی کمپنی میں چند ہزار پر ملازم ہوئے وہ بلوچستان کے ضلع خاران جوکوئٹہ سے مستونگ،نوشکی ،احمد آباد اور آگے دارلبندین جانے والی این اے40 شاہراہ سے احمد آباد اور دارلبندین کے درمیان ایک روڈ سیدھا جنوب جانب خاران کو جاتا ہے خشک پہاڑوں کے علاقے میں خاران کے قریب پہاڑ کی وجہ سے چکر کاٹ کر شہر میں جانا پڑتا ہے،اس ضلع کا مجموعی رقبہ 8958مربع کلومیٹر جبکہ2017کی مردم شماری کے مطابق آبادی1لاکھ 56ہزار 152افراد ہے،خاران کی تحصیلوں میں مشخیل،خاران،ناگ،وسوق اور بسیمہ شامل ہیں یہاں کئی مقامات پر آبادی دوردور تک نہیں ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موبائل فون ٹاورز لگانے کا کام شروع کر رکھا تھا پھر ایک ایسا دن ابھر ا جب وہ روزانہ کی ہشاش بشاش اٹھے ناشتہ کیا اور کام میں لگ گئے وہ نہیں جانتے تھے کہ جیسے جیسے سورج مغرب سے مشرق کی جانب رواں ہے اسی طرح موت بھی ان کی جانب گامزن ہے پھر وہ وقت آ گیا جو بظاہر انسان مگر اندر سے بھیڑئیے جدید اسلحہ سے لیس وہاں آن پہنچے ان شدت پسندوں کو کچھ احساس نہ ہوا کہ بھلا ان بیچاروں کا قصور کیا ہے؟سینکڑوں کلومیٹر دور آکر نہتے اور غریب محنت کشوں نے ان کا بگاڑا کیا تھا؟وہ تو بے ضرر سے لوگ تھے صبع اٹھتے کام کرتے رات کو تھکے مارے اپنے پیارں کو یاد کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ،بلو چستان کے شہرخاران سے نوے کلومیٹر دور لحجے کے مقام پر یہ بے بس لوگ درندوں کے نرغے میں آئے توتب موت کو یوں اچانک بے بسی کے عالم میں حملہ آور ہوتے دیکھ کر ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے سارے پیاروں کی شکلیں سامنے آگئیں ،انہوں نے انتہائی بے بسی حملہ ٓوروں کو دیکھا مگر ان کی نظروں میں نہ انسانیت تھی نہ رحم تھا انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے فائر کھول دیا بارود کے ان جان لیوا گولیوں کی بوچھاڑ نے فخر،وقاص،مجید اور دو سگے بھائیوں جاوید اور امانت کو دیکھتے ہی دیکھتے ہمیشہ کی نیند سلا دیاصرف ایک خوش قسمت جان سے تو نہ گیا مگر کافی حد تک بیکار ضرور ہو چکا ہے مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی تھی،ایک کی بیس مئی کو منگنی تھی ان کی لاشیں ضروری کاروائی کے بعد اوکاڑہ شہر سے چند کلومیٹر دور دو دیہات میں پہنچیں تو وہاں کہرام مچ گیا ہر ایک کی آنکھ میں آنسو،دکھ سے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں اس دوران بہیں بھائیوں کے لاشوں سے لگ کر آہ و زاری کرتے ہوئے حکمرانوں سے یہ سوال ضرور پو چھ رہی تھیں کہ آخر ان کے پیاروں کا قصور کیا تھا ؟ وہ کیا جرم کر بیٹھے کہ انہیں زندہ سلامت گھرآنے کی بجائے ایمبولینسز میں ان کے لاشے بھیج دئیے گئے،ایک ساتھ مزدورں کی لاشیں وہ بھی ایک ہی علاقہ میں پہنچنے کے بعد ہر آنکھ نم اور غم زدہ تھی،ماضی میں بھی کئی بار بلوچستان کے علاقہ میں مزدوروں اور وہ بھی ان کو جن کا تعلق پنجاب سے ہوتا موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ،یہ صوبائیت اور لسانیت کو ابھارنے کی ایک انتہائی منظم سازش ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسی RAWکر وا رہی ہے مگر لیویز اور ایف سی نے اس حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل کیں،دشمن کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملایا مگر ان شدت پسندوں کو مکمل لگا نہیں دی جا سکی پاک فوج اس بات کا کئی بار اظہار کر چکی ہے کہ وہ بلوچستان میں انتہا پسندی کو جڑوں سے اکھاڑنے میں مصروف عمل ہے،ان گھناؤنی،المناک ،بھیانک واردات کے دوسرے روز بعد کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی دو کانوں کو بیٹھ جانے سے23مزدور اپنے گھر والوں سے اتنی دور چلے گئے جہاں سے کسی کی بھی واپسی ممکن نہیں،صرف دو دنوں میں 6انتہا پسندوں اور23کاروباری انتہا پسندوں کی بھینٹ چڑھ گئے ،کوئٹہ سے 60کلومیٹرکے فاصلے پر پاکستان مینرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ملکیت سر رینج میں کولے کی کان مٹی کا تودا گرنے سے کان میں موجود سات کان کن ہلاک ہو گئے ،جبکہ اسی روز مارواڑ میں میر کول کمپنی کی لیز نمبر 7میں تقریباً27 مزدور کان کنی میں مصروف تھے کہ کان کے اندر گیس بھر جانے سے اچانک دھماکہ ہوا اور 16کان کن یہاں جھلس کر ہلاک ہو گئے ، پہلے واقعہ میں 17جبکہ دوسرا واقعہ جو سپین کاریز میں پیش آیا میں23لاشیں نکالی گئیں،لاشوں اور زخمیوں کا نکالنے کا کام دن رات جاری رہا جس میں لیویز ،ایف سی اور کوئیک رسپانس فورس نے کام لیااورایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے، ان ہلاک ہونے والے کان کنوں میں صرف دو کا تعلق بلوچستان سے تھا اور باقی سوات اور شانگلہ کے رہنے والے تھے ،اس وقت شانگلہ کے بہت سے افراد محنت مزدوری کے لئے کان کنی کے پیشہ سے منسلک ہیں ان مرنے والوں کی میتیں جیسے ہی شانگلہ پہنچیں سارا شہر بند کر دیا گیااور پوری تحصیل میں ان ناگہانی اموات پر سوگ چھایا رہا،29 بے گناہ محنت کشوں کی بے بسی میں ہونے والی موت پر نہ آسمان پھٹا نہ زمین شق ہوئی وہ اس وجہ سے کہ اس ریاست کی بھی اہم لیڈر نے نہ تو ان غریبوں کے جنازے میں شرکت کی،نہ ان کی نا کروہ گناہ پر ہونے والی موت پر کوئی مذمتی بیان آیا،نہ ان کے ورثاء کے لئے کوئی پیکج یا کسی متبادل روزگار کا اعلان کیا گیا اور نہ صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے کان کنی میں اپنی زندگی کو جیتے جی مار لینے والوں کی سیفٹی کے لئے کوئی قانون پاس کیا اور نہ کوئلہ نکالنے کے لئے کانوں کے مالکان کو مستقبل میں کوئی حفاظتی اقدامات کا فرمان جاری ہوا ، دو دن میں اگر کسی خاص طبقہ کے 29افراد کیا صرف 9ہی کی یوں موت ان پر حملہ آور ہوتی تو ملک کے تمام ادارے حرکت میں آ جاتے،قاتلوں اورملزموں کو پکڑنے کے لئے تمام تر حکومتی وسائل جھونک دئیے جاتے،صدر مملکت سمیت تمام اہم رہنماؤں کے بیانات کی بھرمار نظر آتی،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر صرف انہیں کا تذکرہ ہوتا ،ان غریبوں کو تو کسی نے مرنے کے بعد بھی اہمیت دینا توہین سمجھا ہے، اوکاڑہ کے رہائشی مزدوروں کی بلوچستان میں ہلاکت پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے آنے کی اطلاعات ہیں کئی مقامات پر ہیلی پیڈ بھی بن گئے مگر ان کا دورہ تبدیل ہوتا رہا اور اس تحریرکے لکھنے تک غم زدوں کے پاس غم بانٹنے نہیں پہنچے،مزدور کسی بھی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان میں متعدد اقسام کی کئی کانیں ہیں جن میں سب سے زیادہ کانیں کوئلے کی ہیں ،پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کا اندازہ 850کھرب کیوبک فٹ ہے یہاں کے کوئلے کے ذخائر کو کالا سونا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے،ان ذخائر میں زیادہ تعداد صوبہ بلوچستان میں ہے البتہ کوئلہ کے ذخائر سندھ،پنجاب ،خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں بھی موجود ہیں یہ کوئلہ سب سے زیادہ اینٹوں کے بھٹوں میں استعمال کیا جاتا ہے،کوئلے کی کان میں داخل ہونے والا ایک کان کن ایک ہزار فٹ نیچے تک کام کر رہا ہوتا ہے اکثر یہ گہرائی 18سو فٹ تک پہنچ جاتی ہے یوں سمجھا جائے تو بہتر رہے گا کہ ایک جیتا جاگتا انسان خود قبر میں اتر جاتا ہے یہاں کام کا آغاز کرنے والے غریب محنت جب کان میں داخل ہوتے ہیں تو شروع میں ان کا دم گھٹتاہے پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں،یہ ایک ایسا کام ہے جسے کوئی بھی مزدور شوق سے نہیں کرتا وہ جیسے ہی اس شعبہ میں داخل ہوتے ہیں تب وہ عام انسانی زندگی سے مجموعی طور پر کٹ جاتے ہیں مگر قسمت پھر بھی لوگ یہ کام کرنے پر مجبور ہیں اس وقت زیادہ تر کان کنی کرنے والوں کا تعلق بلوچستان سے ہے جن کی تعداد50ہزار کے لگ بھگ ہے،ویسے تو دنیا بھر میں کوئلے کی کانوں میں آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں مگر پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے جہاں اوسطاًہر سال ایک سے2سو مزدور لقمعہ اجل بن جاتے ہیں،کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے صرف حادثات کا شکار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ سانس کی بیماری سمیت دیگر مہلک اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو کر چل بستے ہیں،ایک ماہ قبل درہ آدم خیل اور جہلم میں کان کنی کرنے والے کم از کم 11افراد موت کی وادی میں گئے مگر حکومت یا متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہ ہوا کوئلے کی کان کو گیس،دھول اور گرد کے باعث دنیا کی خطرناک ترین کان سمجھا جاتا ہے جو اکثر اچانک بیٹھ جاتی ہیں یا کوئی معمولی سی غلطی کسی خوفناک حادثے کا سبب بن جاتی ہے،ٹھیکہ داری نظام کی وجہ سے سہولیات کا فقدان اس غیر انسانی مخلوق کی موت کا سب سے بڑا سبب ہے،متعلقہ محکموں کی مجرمانہ غفلت شرمناک ہے جنہوں نے کبھی ان حادثات کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا،مجبور و بے بس کان کن حکومت او رٹھیکیداروں کے دوہرے رویئے کی وجہ سے مایوس اور دلبرداشتہ ہونے کے باوجود ان قبروں میں اترنے پر مجبور ہیں ،حکومت کی جانب سے کان کنوں کی سیفٹی کے لئے ضروری اقدامات نہ کرنا بہت بڑا ظلم ہے قارین کرام کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ جہاں زیادہ تر کوئلے کی کانیں ہیں وہاں صحت اور ریسکیو کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اگر کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو طویل مسافت اور کئی گھنٹے بعد کسی کو طبی امداد مل سکتی ہے،
اس حوالے سے حکومتی بے حسی پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے کیونکہ یہ غریبوں کی نسل کشی ہے جس سے امراء کوئی کوئی غرض نہیں،چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیا ہے

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین