Breaking News

کرکٹ کی تاریخ کا یاد گار ترین ٹیسٹ میچ

sabir mughal
صابر مغل

پاکستان نے آئرلینڈ کے دارلحکومت ڈبلن میں کھیلے جانے والے واحد ٹیسٹ میچ میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے امام الحق اور بابر اعظم کی ذمہ درانہ بیٹنگ کی بدولت تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والی آئر لینڈ کی ٹیم کو پانچ وکٹ سے شکست سے دو چار کیا، پاکستان نے میچ کے آخری روز 160رنز کا ہدف عبور کر کے یہ فتح حاصل کی پانچویں دن آئر لینڈ کے مر آہن کیون اوبرائن اپنے انفرادی سکور118میں کوئی اضافہ کئے بغیر پویلین لوٹے تو اس کے بعد محمد عباس نے آئرش ٹیم کی بچی بیٹنگ لائن کی بساط لپیٹنے میں دیر نہ لگائی،پہلی اننگز کی برتری کی بدولت پاکستان کو جیت کے لئے160رنز کا ہدف ملا لیکن اس معمولی ہدف کے تعاقب میں بھی پاکستانی ٹیم کا آغاز تباہ کن ثابت ہوا جب صرف14کے مجموعی سکور پر ٹیم کے تجربہ کار بیٹسمین اظہر علی،اسد شفیق کے ساتھ ساتھ حارث سہیل بھی ناکام ہو گئے ،مشکلات میں گھری ٹیم کو نوجوان بلے باز امام الحق اور بابر اعظم نے بھنور سے نکال کر جیت کی راہ پر گامزن کیا انہوں نے آئرش ٹیم کی کامیابی کا خواب چکنا چور کر دیا،، اس ٹیسٹ میچ کیون اوبرائن کی بہترین بیٹنگ کی بدولت دلچسپ ،سنسی خیز اور یاد گاربن گیا پاکستان نے 160رنز کا ہدف 45ویں اوور میں 5وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا تھا،یہ میچ اس حوالے سے دلچسپی اختیار کر گیا جب آئرلینڈ ٹیم اپنی پہلی اننگز میں310رنز کے مقابلے میں صرف130رنز بنا کر فالوآن پر مجبور ہو گئی تھی آئر لینڈ کی دوسری اننگز میں ان کے آل راؤنڈر بلے با ز کیون اوبرائن پاکستانی باؤلرز کے سامنے آہنی دیوار کی طرح ڈٹ گئے ، ان کی شاندار اور جرات مندانہ سینچری کی بدولت آئر لینڈ نہ صرف اننگز کی شکست سے بچ گیا بلکہ میچ کو دلچسپ مرحلے میں داخل کر دیا،میچ کا ٹاس آئرلینڈ نے جیتا اور پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی ،پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کو 310رنز9کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کر دی تھی جس کے بعد آئر لینڈ کی پوری ٹیم پاکستانی باؤلنگ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی اور صرف130رنز بنا کر ڈھیر ہو کر فالو ان کا شکا ر ہو گئی ،آئرلینڈ نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو اس نے بغیر کسی نقصان کے 64رنز بنا ڈالے مگر چوتھے روز ابتدا ء میں صرف چار رنز کے اضافہ کے ساتھ وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں ایڈ جوائس کی اننگز43 پر اختتام کو پہنچ گئی،فوری بعد اینڈی بلبرنی کو محمد عباس نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا،تیسری وکٹ کی شراکت میں نیل اوبرائن نے ولیم پورٹر فیلڈ کے ساتھ مل کر سکور کو 94 کے مجموعے تک پہنچا دیا باؤلر محمد عامر کی گیند نے اوبرائن کی وکٹیں بکھیر دیں ،صرف ایک سکور کے اضافہ پر محمد عامر نے کپتان سرفراز احمد کی مدد سے پورٹر فیلڈ کو بھی گراؤنڈ سے باہر کر دیا،95کے مجموعی سکور پر 4وکٹیں گرنے کے بعد کیون اوبرائن کی میدان میں آمد ہوئی ،انہوں نے پال اسٹرنگ کے ساتھ سانجھے داری میں سکور کو 127رنز تک پہنچایا تو محمد عباس نے اسٹرنگ کو آؤٹ کر کے ٹیم کو پانچویں کامیابی دلائی کچھ ہی دیر بعد محمد عامر نے دوسری اننگز کی تیسری وکٹ اور ٹیسٹ کیرئیر کی100ویں وکٹ کے لئے گیری ولسن کو شکار کیا تو آئر لینڈ پر شکست کے بادل منڈلانے لگے ،مگر کیون اوبرائن اور اسٹورٹ تھامسن پاکستانی باؤلرز کے سامنے ڈٹ گئے اور شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئر لینڈ کے لئے پہلی سینچری شراکت قائم کی اور114رنز بنا کر اپنی ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا،اس شراکت کا خاتمہ شاداب خان نے تھامسن کو53رنز پر کلین بولڈ کر کے کیا جو ان کی پہلی نصف سینچری تھی جبکہ اوبرائن نے اپنی بہترین بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے اپنے اور اپنے ملک کے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں پہلی سینچری(ڈیبو سینچری) بنانے کا اعزاز حاصل کرکے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا،چوتھے دن کے کھیل ختم ہوا تو اس وقت تک آئر لینڈ 7وکٹوں کے نقصان پر 319رنز بنا چکا تھا اس کی مجموعی برتری 139کی ہو گئی ،اوبرائن نے118 ناقابل شکست رنز بنا کر نہ صرف ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچایا بلکہ میچ کو پانچویں دن تک لے جا کر اس میں دلچسپی اور سنسی خیزی میں داخل کر دیا، پانچویں دن کے کھیل کے آغاز تک ان کی تین وکٹیں باقی تھیں،چوتھے دن محمد عامر اور محمد عباس نے اپنے پہلے سپیل میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی چار وکٹیں صرف 31رنز دے کر حاصل کیں اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ میچ پاکستان کی جھولی میں آن پڑا ہے جو چوتھے روز ہی ختم ہوجائے گا،پانچویں دن کھیل کے آغاز پر ہی محمد عباس نے آئر لینڈ کے مرد آہن برین کو بغیر کوئی مزید رن بنائے آؤٹ کر دیاآئر لینڈ چوتھے دن کے سکور میں صرف 20رنز کااضافہ کر کے129.3اوورز میں 339کے ٹوٹل پر آؤٹ ہو گئی ، پاکستانی ٹیم 160سکور کے ہدف کے تعاقب کے لئے میدان میں اتری کو صرف 14سکور پر تین وکٹیں گر گئیں اوپنر اظہر علی 2 ، حارث سہیل نے7،اسد شفیق نے 1سکور بنایا،ہم ان کے بعد اوپنر امام الحق اور بابر اعظم ڈٹ گئے،بابر اعظم38اوور کی پہلی گیند پر 59رنز بنا کررن آؤٹ ہو گئے اس وقت پاکستان کا سکور 4وکٹ پر 140تک پہنچ چکا تھا،پاکستان نے یہ میچ45اوور میں ہدف عبور کر کے اپنے نام کر لیا ڈیبو کرنے والے امام الحق نے دوسری اننگز میں انتہائی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 74رنز ناٹ آؤٹ بنائے جبکہ شاداب خان نے نے ناٹ آؤٹ5سکور بنائے تھے اس سے قبل کپتان سرفراز احمد 8سکور بنا کرLBWآؤٹ ہوئے ، اس میچ کی دوسری اننگز میں جہاں فیلڈنگ میں کپتان سرفراز احمد نے تین جبکہ اسد شفیق اور اظہر علی نے بھی ایک ایک کیچ ڈراپ کیا اس کے علاوہ ڈی آر ایس نہ ہونے کے باعث امپائرنگ کے غلط فیصلوں سے بھی پاکستان کو نقصان پہنچا، میچ کا پہلا دن خراب موسم اور بارش کے باعث ضائع ہو گیا تھا، دوسرے روزآئر لینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی،خراب روشنی کے باعث جب کھیل ختم ہوا تو اس وقت شاداب خان 52اور فہیم اشرف61رنز کے ساتھ کریز پر تھے دونوں بلے باز100سے زائد رنز کی شراکت قائم کر چکے تھے،ٹیسٹ ڈیبو کرنے والے امام الحق اور اظہر علی پاکستان کو عمدہ آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے،13کے مجموعی سکور پر دونوں اوپنر اظہر علی4اورامام الحق7 رنز بنا کرکریز چھوڑ چکے تھے، حارث سہیل 31نز اور 104کے مجموعی سکور پر بابر اعظم صرف 14نز بنا کر پویلین سر جھکائے واپس پہنچے، اسد شفیق نے 62رنز بنا پائے،اگلے روز سرفراز احمد20رنز،شاداب خان نے55،فہیم اشرف83،محمد عامر نے 13،محمد عباس نے4جبکہ راحت علی نے کوئی سکور نہ بنایا پاکستان نے90اوورز میں 310کا ٹوٹل کھڑا کر دیا،اس اننگز میں فہیم اشر ف ٹاپ سکورر رہے ،آئر لینڈ کی طرف سے بوئد رینکن نے اظہر علی اور اسد شفیق ،مرتاغ نے چار کھلاڑیو ں امام الحق ،بابر اعظم،شاداب خان اور محمد عامر کو آؤٹ کیا،تھامسن نے حارث سہیل ،سرفراز احمد اور فہیم اشرف کو آؤٹ کیا،آئرلینڈ کی ٹیم میچ کی پہلی اننگز میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور میچ کے تیسرے دن فالو آن کا شکار ہو گئی پاکستان کو یہ موقع 17سال بعد نصیب ہوا،2002میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کوئی ٹیم پاکستان کے خلاف فالوآن کا شکار ہوئی ہو،اپناپہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ٹیم کی پہلی اننگز کا آغاز مایوس کن تھا محض سات رنز کے سکور پر اس کے 4کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے تین بلے باز وں اینڈریو، بالبرنی اور این او برائن نے اپنے پہلے میچ میں بغیر کورئی رن بنائے صفر پر آؤٹ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کیا،اس اننگز میں کیون اوبرائن 40سکورز کے ساتھ نمایاں رہے،اوپنر جوئسی کو چار سکور پر محمد عباس ،پورٹ فیلڈ کو 1سکور پر محمد عامر ،بلببرین اور برائن ۔کو محمد عباس نے 0۔0پر آؤٹ کیا،تھامپسن اور کینی کو شاداب خان ،رینکن کو17سکور پر محمد عباس ،مرتاغ کو شاداب خان نے آؤٹ کیا آئرلینڈ کی جانب سے برائن 40اور ولسن 33رنز ناٹ آؤٹ بنا کر نمایاں رہے،پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے4،شاداب خان نے تین ،محمد عامر نے دو جبکہ فہیم اشرف نے ایک وکٹ حاصل کی ،آئرلینڈ کی پوری ٹیم 47.2اوور زمیں130سکور بنا پائی ، ،محمد عامر نے 10اوورز میں صرف 9رنز دیئے،اس میچ میں انگلینڈ کے سابق فاسٹ باؤلر بوئد رینکن آئر لینڈ کے اسکواڈ میں شامل ہیں وہ25سال میں دونوں ملکوں کے لئے کھیلنے والے پہلے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں،آئرلینڈ کی ٹیم میں شامل سینئیر بلے بازایڈ جوئسی جنہوں نے انگلینڈ کی جانب سے17ون ڈے میچز کھیل رکھے ہیں ، آئر لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس سنہ2000۔۔میں ملا تھا تب بھی آئر لینڈ کے ٹیسٹ ڈیبو کے لئے قرعہ فال پاکستان کے نام ہی نکلا تھا اسی شہر ڈبلن میں پاکستانی ویمن ٹیم میدان میں اتری تو چار روزہ کا قصہ دوسری شام ہی نمٹ گیا ،سیمنگ وکٹ کی وجہ سے پاکستانی بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ ہوئی اور پاکستان وہ میچ ایک اننگز اور54رنز سے ہا گیا،یہ آئرش کرکٹ کی تاریخ میں بہت بڑاموقع تھا ، اس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں صرف ایک بار ہی ایسا ہوا تھا کہ ڈیبو ٹیسٹ کرنے والی کوئی ٹیم میچ جیتی ، یہ اعزاز آسٹریلیا مینزکی ٹیم کو حاصل ہے،اب آئر لینڈ کی مینز کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا تو حسن اتفاق یہ کہ آئرلینڈ کی ٹیم کے خلاف پاکستانی ٹیم ہی مد مقابل ہے،آئر لینڈ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ٹیم میں چار چہرے وہی ہیں جو مئی2007کی اس شام بھی آئرش ڈریسنگ روم کا حصہ تھے جب آئرلینڈ نے گرین ٹاپ وکٹ پر پاکستان کو شکست دے کر ورلڈ کپ سے ناک آؤٹ کر دیا تھا،اس وقت پاکستان عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہے گذشتہ دس میں وہ 8ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے ،اس میچ سے پہلے گذشتہ بارہ ماہ کے دوران صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے تھے،اس میچ میں میزبان ٹیم کی جانب سے ایک سینچری اور ایک ہی ففٹی بنائی گئی جبکہ پاکستان نے تین ففٹیاں بنائیں،آئر لینڈ ٹیم نے میچ میں 51جبکہ پاکستان نے 52چوکے لگائے ، محمد عباس نے میچ میں ٹوٹل9وکٹیں حاصل کیں، اب پاکستانی ٹیم 24مئی سے انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے بعد تین T20میچ سکاٹ لینڈ میں بھی کھیلے گا ،پاکستانی ٹیم کا ایسا غیر ملکی ٹور پہلی مرتبہ ہو رہا ہے،آئرش ٹیم اب ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ حاصل کرنے والی 11ٹیم بن چکی ہے،پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 16اکتوبر1952میں انڈیا کے خلاف کھیلا تھا پاکستان کو اس میچ میں ایک اننگز اور 70رنز سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،1999میں بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے 19سال بعد دو ٹیموں آئر لینڈ اور افغانستان کو یہ درجہ حاصل ہوا ہے،انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے میچ کے لئے 12رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جن میں جوروٹ (کپتان)،ایلسٹر کک،مارک اسٹون مین،ڈیوڈ ملان،بین اسٹوکس،جونی بیئر ا سٹو ،جوز بٹلر،ڈوم بیس،کرس ووکس ،جیمز اینڈرسن ،اسٹورٹ براڈ اور مارک وڈ شامل ہیں،انگلینڈ نے 12رکنی اسکواڈ میں 20سالہ اسپنر ڈوم بیس کوجگہ دی ہے ، جوز بٹلر بھی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ معین علی کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین