Breaking News

سابق چیف جسٹس ناصر الملک نگران وزیر اعظم نامزد

sabir mughal
صابر مغل

طویل مشاورت ،اختلاف اور میں نہ مانو کی پالیسی کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے آخری ملاقات میں سابق چیف جسٹس ناصر الملک کے نام پر اتفاق کرتے ہوئے انہیں نگران وزیر اعظم نامزد کر دیا فائنل مشاورت میں سپیکر ایاز صادق نے اہم کردار ادا کیا، یہ اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کیا گیا جس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی موجو تھے،اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کے لئے مشاورت کے لئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ نگران وزیر اعظم کو منتخب کرنا بہت مشکل کام ہے ہم اپوزیشن کے اس حوالے سے تعاون کے مشکور ہیں اور ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جن کا ماضی واضح ہے امید ہے وہ بطور نگران وزیر اعظم جمہوری عمل کے لئے بہتر کردا ر ادا کریں گے،خورشید شاہ نے کہا ہم نے بہت صبر وتحمل کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا،نگران وزیر اعظم کے لئے چند نام آئے لیکن اس منصب پر ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جس پر اپوزیشن کو اعتراض نہیں توقع ہے کہ وہ ملک میں آئندہ انتخابات شفاف ہوں گے،نگران وزیر اعظم کے لئے باقی تمام نام ناقابل اعتبار تھے،اس انتخاب میں ایاز صادق کے کردار کو بھی سراہا گیا،رواں ماہ 6تاریخ کو وزیر اعظم اور خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں نگران وزیر اعظم کے مجوزہ ناموں کو حتی الامکان خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوا تھا تا کہ کسی بھی ابھرنے والے تنازعات سے بچا جا سکے،،بلکہ خورشید شاہ اور پی ٹی آئی کے درمیان اس وقت لفظی جنگ شروع ہو گئی جب فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران نامزدہ کردہ افراد (سابق جسٹس تصدق حسین جیلانی،صنعت کار عبدالرزاق داؤ اور ماہر معاشیات عشرت حسین ) کے نام بتائے تو خورشید شاہ نے کہا یہ ایک غیر ذمہ درانہ سیاسی رویہ ہے اسی وجہ سے شور مچ گیا اورپی ٹی آئی کے نامزدہ افراد کا تعلق سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے جوڑا کر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے،نگران وزیر اعظم کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی کئی ملاقاتیں بے نتیجہ ختم ہوئیں،23مئی کو خورشید شاہ نے نگران وزیر اعظم کے تقرر سے متعلق معاملے پر حکومتی رویئے پر مایوسی میں شکوہ کیا تھا کہ حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی رہی ہے اب وزیر اعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہو گی شروع میں پی پی پی اس عہدے کے لئے ریٹائرڈ ججز کو نامزد کرنا چاہتی تھی لیکن مسلم لیگ (ن)کا اصرار تھا کہ اس عہدے پر ریٹائرڈججز کو نامزد نہیں کیا جانا چاہئے جس پر ہمیں اپنا مؤقف بدلنا پڑا تب ہم نے ذکاء اشرف اور سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی کا نام دیاتاہم بعد میں حکومت نے مؤقف بدلا اور ریٹائرڈ ججز کے ناموں پر اصرار کرنے لگی ،اسی دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا اب کوئی شک نہیں رہا کہ نگران وزیر اعظم کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی جائے گا ان کے مطابق حکومت کی دلی خواہش ہے کہ جسٹس (ر)تصدق حسین جیلانی نگران وزیر اعظم ہوں،جمعہ کے روز خورشید شاہ نے وزیر اعظم سے ملاقات منسوخ ہونے پر کہا میں آبائی علاقے جا رہا ہوں سوموار کو واپسی پر نگران وزیر اعظم کے لئے دو مجوزہ نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھیج کر وزیر اعظم کو خط کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کریں گے ،25مئی تک حکمران جماعت اور اپوزیشن نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق کرنے میں ناکام ہوئے تو قوی یقین ہو چلا تھا کہ اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،مگر سوموار28مئی کو یہ تینوں بڑے ایک ساتھ بیٹھے نظر آئے اور نگران وزیر اعظم کا اعلان بھی کر دیا گیا اس سے قبل سابق چیر میں سینٹ رضا ربانی نے بھی تمام سیاستدانوں پر زور دیا تھا کہ وہ عبوری حکومت میں وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے سے گریز کریں،نامزدہ وزیر اعظم سابق چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک نے بتایا کہ انہیں اپنی نامزدگی کا علم میڈیا سے پتا چلا وہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی کوئی بات کریں گے،ان کے بھائی رفیع الملک نے کہا کہ ناصر الملک ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اللہ نے موقع دے دیا ہے ناصر الملک دھیمے مزاج اور سنجیدہ طبیعت کے مالک ہیں ملک کے نامور وکلاء جب بھی ان کی عدالت میں پیش ہوتے تو قانون سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرتے تھے،جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک 17اگست1950کو سوات ضلع کے علاقہ مینگورہ میں پیدا ہوئے ان کے والد سیٹھ کامران خان ایک سیاستدان تھے جو1970کی دہائی میں بعد میں ان کے چھوٹے بھائی شجاع الملک بھی سینیٹر جبکہ دوسرے بھائی سوات کے میئر رہے جبکہ چچا کریم بخش سماجی شخصیت تھے،ناصر الملک نے سوات ہائی سکول کے بعد جہانزیب کالج سے بی اے کیا ، ،1972میں پشاور یونیورسٹی سےLLBکیا بعد میں انر ٹیمپل کالج لندن سے ایل ایل ایم اور بار ایٹ لاء کی ڈگری مکمل کی کیا17سال تک انہوں نے بطور لائر پشاور ہائی کورٹ میں کام کیا ایک بار جنرل سیکرٹری جبکہ دو بار صدر پشاور بار ایسوسی ایشن منتخب ہوئے ،سول لاء پر دسترس کی وجہ سے بطور اسکالر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج اور پشاور یونیورسٹی میں لیکچر دیتے رہے،،1993میں انہیں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ بنایا گیا ،عدالتی کیرئیر کا اعزاز انہوں نے 1994میں شروع کیا جب انہیں6جون کو ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا،13مئی2004کو صوبائی حکومت کی منظوری کے بعدوہ چیف جسٹس خیبر پختونخواہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور اگلے سال ہی انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان میں منتقل کر دیا گیا ،انہوں نے 30نومبر2013سے6جولائی 2014تک چیف الیکشن کمشنرجسٹس(ر)فخر الدین جی ابراہیم کے استعفے کے بعد قائم چیف الیکشن کمشنر کے فرائض سر انجام دیتے رہے،6جولائی2014کو انہوں نے پاکستان کے22ویں چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھایا اور16اگست2015تک اس عہدے پر فائز رہے،جسٹس (ر)ان ججوں میں شامل تھے جنہیں آرمی چیف پرویز مشرف نے تین نومبر2007کو ایمر جنسی نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کر دیا تھا کیونکہ انہوں نےPCOکے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا تاہم 2008میں انہوں نے عام انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والی پی پی پی کی حکومت کے دوران چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف لیا،چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں بننے والے اس سات رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر2007کی ملک میں لگائی ایمرجنسی کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا اس فیصلے کی وجہ سے متعدد ججوں کو گھر جانا پڑا تھا،وہ اس سات رکنی بینچ کے سربراہ بھی تھے جس نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اپریل2012میں اس وقت کے صدر آصف علی ذرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لئے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے توہین عدالت کے مقدمہ میں مجرم قرار دے کر وزارت اعظمیٰ سے فارغ کر دیا تھا،مظفر گڑھ کے مشہور کیس مختاراں مائی کیس میں بھی انہوں نے اسے ونی کرنے کے فیصلے کو خلاف قانون قرار دیا تھا،وہ اس عدالتی کمیشن کے سربراہ بھی رہے جس نے PTIکی جانب سے انتخابات2013میں ہونے والی دھاندلی کی درخواست پر تحقیقات کی تھیں،پی ٹی آئی کو بڑا یقین تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا،عدالتی کمیشن نے کچھ بے ضابطگیوں کی ضرور نشاندہی کی لیکن مجموعی طور پر ان انتخابات کو شفاف اور قانون کے مطابق قرار دیا، تھا،عمران خان نے اس فیصلے پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا مگر عمل نہیں کیا،آئین کے مطابق جب ایک منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے تو آئندہ الیکشن اور نئی حکومت کے قیام تک ایک نگران حکومت ملکی نظام کو چلاتی ہے جسے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے ،نگران وزیر اعظم کی نامزدگی کے لئے اٹھارویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کئے گئے ہیں ،1۔آئین کے آرٹیکل 224کے تحت حکومت اور حزب اختلاف کا متفقہ فیصلہ،2۔پارلیمانی کمیٹی ،آئین کے آرٹیکل 224اے کے تحت اتفاق نہ ہونے پر معاملہ سپیکر کے پاس جائے گا جو8رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے یہ ممبران قومی اسمبلی یا سینٹ یا دونوں ایوانوں سے ہوں گے جس میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر2۔2نام دیں گے اور یہ کمیٹی نگران وزیر اعظم کا فیصلہ کرے گی،3۔الیکشن کمیشن،اگر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ نہ کر سکے تو آرٹیکل224کے تحت ہی یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا جس میں الیکشن کمیشن کے پانچ ارکان بھیجے گئے ناموں میں سے کسی ایک کو 48گھنٹے میں نگران وزیر اعظم نامزد کر دے گی،الیکشن کمیشن ریفارمز ایکٹ2017کے مطابق نگران حکومت کا کام صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد اور روز مرہ کے امور سر انجام دینا ہیں،نگران حکومت روز مرہ سرگرمیوں میں غیر متنازع ،اہم اور عوامی مفاد کے معاملات تک محدود رہے گی،نگران حکومت کو کوئی بڑا پالیسی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں نہ ہی وہ عوامی مفاد کے خلاف کوئی بڑا معاہدہ کر سکتی ہے،وہ کسی ملک یا بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات کا حصہ اور نہ ہی کسی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر سکتی ہے جب تک کہ ایسا قومی مفاد کے لئے ضروری نہ ہو،نگران حکومت تقرریاں،تبادلے اور افسرانکی ترقیاں بھی نہیں کر سکتی صرف عوامی مفاد کے لئے محدود مدت کے لئے تبادلے کر سکتی ہے،نگران وزیر اعظم کو بعد میں ریٹائرڈ وزیر اعظم کی مراعات بھی نہیں ملتیں،تحریک انصاف نے ناصر الملک کے نگران وزیر اعظم کی نامزدگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے،سابق صدر آصف علی زرداری نے اسے جمہوریت کا حسن اورفتح قرار دیا ہے،پنجاب کے لئے بھی حکومت اور اپوزیشن نے باہمی اتفاق سے سابق چیف سیکرٹری راشد سعید کھوسہ کا نام بطور نگران وزیر اعلیٰ فائنل کر لیا ہے،خیبر پختونخواہ،سندھ کی اسمبلیاں مدت پوری کر چکی ہیں مگر ابھی تک نگران وزراء اعلیٰ کا نا فائنل نہیں ہو سکا۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین