Breaking News

محمود اچکزئی ملک دشمن ایجنڈے پر

sabir mughal
صابر مغل

چند ماہ قبل کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران سابق نا اہل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جلسہ کے میزبان اور ساتھ کھڑے پشتونخواہ ملی پارٹی کے سربراہ و قوم پرست سیاسی رہنماء محمودا چکزئی کا ہاتھ پکڑ کر پوری قوم سمیت ساری دنیا کو بتایا تھا کہ اب ان کا اور محمود اچکزئی کا نظریہ ایک ہے،نواز شریف کے اس بیان پر ہر محب وطن پاکستانی پریشان ہو گیا کہ خود کو ملک کا سب سے بڑاخیر خواہ قرار دینے والا لیڈرکس قسم کے ایجنڈے پرچل پڑا ہے کیونکہ محمود اچکزئی وہ متنازعہ ترین شخصیت ہے جو لسانیت ،صوبائیت اور قوم پرستی کے زہر سے آلودہ ترین ہے اس سے کسی بھی صورت پاکستانی کی قومی سلامتی و خود مختاری کی حمایت کی توقع کرنا اندھے کو سورج دکھانے کے مترادف ہے،ایک طرف جہا.ں یہ عظیم مملکت رب کائنات کی جانب سے مسلم دنیا کے لئے کسی انمول نعمت سے کم نہیں وہیں دوسری جانب محموداچکزئی جیسے کردار جنہوں نے ہمیشہ ریاست کی بجائے قوم پرستی کو نہ صرف ترجیح دی بلکہ پاکستان کے کئی علاقوں کو افغانستان تک کا علاقہ قرار دے ڈالا،حیرت ہے کہ ایسے تعصب زدہ افراد نہ صرف ہر مرتبہ مقدس ایوان کا حصہ ہوتے ہیں بلکہ تمام تر حکومتی مراعات سے استفادہ بھی کرتے ہیں ،محمود اچکزئی نے اپنے بھائی کے لئے گورنر شپ آف بلوچستان بھی حاصل کی ،ہمیشہ اور ہر فورم پر حکمران پارٹی کے ہمرکاب اور سب سے بڑے اتحادی کے طور پر سامنے آتے رہے،دنیا بھر میں اقتدار کا ہمہ جس کے سر بھی بیٹھا اسے یہ حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ وہ قومی وحدت کا پاسبان اور فیڈریشن کو ترجیح دے گا مگر یہاں حلف دینے والے اپنے حلف سے ہی انحراف کر تے ہوئے ملکی و قومی سلامتی کے بارے زہر آلود سوچ رکھنے والوں کو نہ صرف سینے سے لگاتے ہیں بلکہ اقتدار کی رہداریوں میں ملنے والی مراعات سے انہیں نوازتے ہیں،چند روز قبل پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں منظور پشتین نامی اس نئے فتنے کا بڑی تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم نے حالات کو بگاڑ کی بجائے ہم نے سلجھانے کے لئے مذاکرات کو ترجیح دی8فروری کو انہوں نے منظور پشتین اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے(پی ٹی ایم ) 15رکنی وفد سے خود ملاقات کی ،17کو یہ لوگ جنوبی وزیرستان کے جی او سی سے بھی ملے مگر بعد ازاں ان کا نظریہ مکمل طور پر بدل گیا اب بھی وانا میں امن کمیٹی کے ساتھ ان کے حالات اس وجہ سے کشیدگی کی انتہا پر ہیں کہ وہ وزیرستان میں پاک فو ج کے خلاف تقریریں اور پروپیگنڈا میں مصروف ہیں،بجائے اس کے کہ نواز شریف کے نظریاتی بھائی محمود اچکزئی تعصب کا زہر پھیلانے کی بجائے ان عناصر کی حوصلہ شکنی کے لئے مثبت کردار ادا کرتے مگر وہ تو ملک دشمن ایجنڈے پر کھلم کھلا اتر آئے ہیں ان کے منظور پشتین کی حمایت میں جاری ویڈیو پیغام نے ان کی ملک دشمنی سوچ کو مزید واضح اور اجاگر کر دیا جس میں انہوں نے پی ٹی ایم کی مکمل حمایت اور دنیا بھر میں پشتون برادری کو ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے،ایک غریب گھرانے کا 26سالہ نوجوان کو ملک دشمن عناصر نے ریاست پاکستان اور با ا لخصوص پاک فوج کے خلاف بھرپور سپورٹ فراہم کی ہے ،اسی نے لاہور اور سوات میں جلسے کئے مگر دونوں جگہ قومی پرچم لے جانے کی ممانعت تھی سوات میں تو ایک نوجوان سبز ہلالی پرچم لے کر ان کے جلسہ میں پہنچ گیا مگر ماں دھرتی کے ان نا خلف بیٹوں نے اس نوجوان کو جلسہ سے نکال باہر کیا،کیا محمود اچکزئی کو اس بات کا علم نہیں تھا؟کیا وہ نہیں جانتے کہ منظور پشتین پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی پر اترکرملک دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے؟انہیں نہیں علم تھا کہ پی ٹی ایم سیکیورٹی اداروں کے خلاف محاذ بنانے میں مصروف ہے ؟ان کے علم میں یہ بات بھی نہیں کہ پی ٹی ایم کے کارکنوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کے خلاف خطاب اور نعرے بازی کرنے پر کراچی کے تھانوں منگھو پیر،بن قاسم اور شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشت گردی کے مقدمات درج نہیں ہیں؟،کیا عجب تماشہ ہے کہ محمود اچکزئی کا بھائی گورنر بلوچستان اس کے باوجود یہ خاندان تعصب ہر وقت پاکستان کی قومی وحدت کے خلاف منہ پھاڑے ہوئے ہے،اسی منظور پشتین کے لانگ مارچ کو ایک ٹویٹ کے ذریعے نوبل انعام یافتہ کردار ملالہ یوسف زئی نے بھی سراہا تھا۔الیکشن سر پر ہیں میاں نواز شریف کو چاہئے کہ وہ محمود اچکزئی کے حوالے سے نظریاتی بھائی ہونے کا بیان واپس لیں اور جیسے ہی قانونی اور آئینی طور پر کوئی اتھارٹی ان کے بھائی کو گورنر بلوچستان کے عہدے سے سبکدوش کر سکتی ہے انہیں فوری فارغ کیا جائے،ایسے گھٹیا کردار وں نے ہمیشہ پاکستان میں اقتدار کے مزے لیتے ہوئے وطن کی بجائے ذاتی اور ملک دشمن مفادات کو ترجیح دی اپنے مذموم مقاصد میں تیزی سے مصروف عمل ہیں،یہی وہ کنبہ ہے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی کے ضامن کالا باغ ڈیم جیسے مزید کئی منصوبوں کو اپنی گندی ذہنیت کے تحت متنازعہ بنا کر انڈیا سمیت دیگر ملک دشمن ممالک کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا،ایسے کرداروں کو سیاسی سوچ رکھنے والے اپنے اقتدار کی خاطر کبھی لگام نہیں ڈالیں گے کیونکہ اگر انہوں نے ان کے خلاف کوئی کاروائی کی،انہیں مراعات سے نہ نوازا ،انہیں حکومت میں حصہ نہ دیا ،ان کے بیٹوں ،بھانجوں ،بھتیجوں اور دیگر رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدوں سے نہ نوازا تو ان کے اقتدار کو دراڑ پڑ سکتی ہے حالانکہ ایسا ممکن نہیں اور اگر ممکن بھی ہو تو وہ لیڈر و رہنماء کیا جو ملکی سلامتی کے برعکس کام کرنے والوں کو محض اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ساتھ چمٹائے رکھے،ایسا کرنے والوں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہیں وطن و مملکت کی سالمیت عزیز نہیں؟ جو لوگ ہوں ہی زہر آلود ان سے کسی بہتری کی توقع کی کیسے جا سکتی ہے ؟ وہ تو کھلم کھلا پاکستان کے خلاف ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے ساتھی ہیں،سر عام پاکستانی فیڈریشن کے خلاف بات کر رہے ہیں،اگر یہ فیڈریشن پر یقین رکھتے تو کبھی پشتون ،سندھی اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اور آل پارٹیزڈیمو کریٹک موومنٹ کے چیرمین نہ بنتے وہ ایسی تنظیموں و تحریکوں کے بانی ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی جڑوں کوکمزور کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا مگر یہ وطن قائم ہے جو قائم رہنے کے لئے ہی معرض وجود میں آیا تھا،اسے دنیا کی کوئی خبیث سوچ ،گھناؤنی سازش یاطاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ،ایسے گندے کردار جتنا بھی اکٹھے ہو جائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے البتہ دکھ یہی ہے کہ تعصب میں لتھڑے ان گندے کرداروں کو وہ شخصیات نظریاتی بھائی کہتی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ہی اس ملک کے اصل خیر خواہ ہیں ،یہاں اور ان کی بد زبانی کے بعد وہ ان کے حوالے سے کس مقام پر ہیں ذرہ یہ تو وضاحت کر دیں کیونکہ میرے جیسے کئی افراد نے انہیں ووٹ (مقدس امانت )دینا ہے،پاک فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو منظور پشتین جیسے سانپوں کا سر کچل سکتا ہے حقیقت یہی ہے کہ سانپ آپس میں تو ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں (جیسے منظور پشتین اور محمود اچکزئی) مگرکبھی کسی اور کے دوست نہیں ہوتے چاہے انہیں جتنا مرضی دودھ پلا دیا جائے،

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین