Breaking News

اے پی ایس کے شہیدوں کا لہوارنگ لے آیا

sabir mughal
صابر مغل

سوات سے تعلق رکھنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ اور انسانیت دشمن مولانا فضل اللہ بالآخر 13 اور14جون کی درمیانی شب امریکی ڈورن حملے میں جہنم واصل ہو گئے،یہ درندہ صفت انسان 13جون کی شام افغان صوبہ کنڑ کے ضلع مروادہ میں واقع بچائی مرکز میں منعقدہ افطار پارٹی میں گئے اور رات دس بجے کے بعد واپسی کے لئے گاڑی میں روانہ ہوئے تو10.45پر امریکی ڈرون حملے میں ساتھیوں سمیت جل کر بھسم ہو گئے ان کے ساتھ مرنے والے چاروں افراد بھی اہم کمانڈر تھے،فضل اللہ سمیت دیگر افراد کی جھلسی لاشوں کو اسی رات دو بجے کے قریب بچہئی کے قبرستان میں سپر خاک کر دیا گیا تا کہ اس واقعہ کو صیغہ راز رکھا جا سکے،15جون کو افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد ورمنیش نے امریکی ڈرون حملے میں فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی،افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارٹن اوڈونل نے بتایا کہ امریکی فوج نے پاک افغان کے سرحدی علاقہ میں انسداد دہشت گردی کاروائی کی،مولانا فضل اللہ گذشہ کئی سال سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھامیجر جنرل ثنا ء اللہ سمیت دیگر افسران کی شہادت کی ذمہ داری بھی فضل اللہ نے قبول کی،ملالہ یوسف زئی پر بھی اسی نے حملہ کرایا،ائیر پورٹ حملہ سمیت درجنوں واقعات کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے ،سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کا المناک واقعہ بھی اسی کی خباثت کا نتیجہ تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 150کے قریب افراد شہید ہوئے یہ وہ واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کے دلوں کو چکنا چور کر دیا مولانا فضل اللہ جیسے شیطان صفت انسان کے نزدیک یہ بڑی کامیابی تھی مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اب وہی افراد جن کے ہاتھ معصوم بچوں سمیت ان گنت بے گناہوں افراد کے خون سے رنگے ہوئے تھے ڈرون حملہ کے نتیجہ میں اسی زمین پر جل کر بھسم ہو گئے آخرت میں بھی جہنم ان کا اصل ٹھکانہ ہے، تحریک طالبان پاکستان کے یہ جہنمی سربراہ واحد سربراہ ہے جس نے پاکستانی قوم کوسب سے زیادہ دکھ دیا اور آج ساری قوم اس کی ذلت آمیز موت پر خوش ہے ،آئی ایس پی آر کے مطابق فضل اللہ کی ہلاکت بہت بڑی پیش رفت ہے اس کی ہلاکت سے سانحہ APSسمیت دیگر واقعات میں شہید ہونے والوں کے ورثاء کے لئے باعث اطمینان ہے پاک فوج نے ہمیشہ باہمی تعاون اور اشتراک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے،افغان صدر اشرف غنی نے نگران وزیر اعظم ناصر الملک اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کر کے اس واقعہ سے آگاہ کیا،وزیر اعظم ہاؤس جاری بیان کے مطابق فضل اللہ کی ہلاکت دہشت گردی کی جنگ میں اہم پیش رفت ہے اور اس کے مارے جانے سے کئی پاکستانی خاندانوں کو انصاف مل گیا،افغان صدر اشرف غنی نے عید سعید کے موقع پر طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا مگر اس کے باوجود افغانستان میں دو خود کش حملے ہو گئے جن میں 56افراد ہلاک جبکہ114زخمی ہو گئے،عید سے ایک روزقبل شمالی وزیرستان کے علاقہ شوال میں سارا دن سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے متعدد حملے کئے گئے تاہم پاک فورس نے انہیں بری طرح ناکام بنا کر کسی بڑے نقصان سے قوم کو بچا لیا اس موقع پر پانچ شدت پسند ہلاک جبکہ دھرتی کے تین سپوت حوالدارافتخار(سرگودھا)،سپاہی آفتاب (چترال)اورسپاہی عثمان (گجرات) نے جام شہادت نوش کیا ان شہادتوں پر آرمی چیف نے کہا جوانوں نے عید پر جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،رواں سال فروری میں سوات میں ایک فوجی یونٹ پر خود کش حملے میں گیارہ جوانوں کو شہید کیا گیا تو پاک فوج نے سرحد پار180راکٹ فائر کئے اطلاعات تھیں کہ شدت پسند اس مقام پر ہیں،پاکستان عرصہ دراز سے افغان حکومت،امریکہ اور اتحادی فوج کے کمانڈر سے پر زور مطالبہ کرتا رہا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے اس سے پاکستان میں بے گناہوں کا خون بہایا جائے گا مگر کسی کے کانوں پرجوں تک نہ رینگی الٹا افغانستان پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا جبکہ امریکی حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے اور دہشت گردوں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں دینے کا بہانہ بنا کرنہ صرف اپنا رویہ سخت کیا،دھمکیاں دیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف امداد تک روک لی،اب گذشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کی طرف اعلیٰ ترین سطع پر فضل اللہ نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کے مطالبے میں شدت آئی تو امریکہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا ورنہ یہ ممکن نہ ہوتا مولانا فضل اللہ کی ہلاکت سے ایک روزقبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں ان کی افغان،امریکی اور نیٹو حکام سے ملاقات ہوئی،اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق اب امریکہ افغانستان میں منڈلاتی شکست سے دیکھ کر ایسا کرنے پر مجبور ہوا اس کے علاوہ پاکستان میں منظور پشتین جیسا مہر ہ سرد جنگ کے لئے مل چکا ہے،ماضی میں کئی بارفضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں منظر عام پر آئیں تاہم بعد اس کی تردیدکر دی گئی،ابھی تک طالبان کی جانب سے اس واقعہ کی نہ توتصدیق اور نہ ہی تردید کی گئی ہے ممکن ہے کہ طالبان کے نئے امیر کے نام پر اتفاق رائے کے بعد ہی اس خبر کی تصدیق کی جائے گی،تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت بھی ڈورن حملوں کے ذریعے ہی ہوئی تھی،2013میں حکیم اللہ محسودکی ہلاکت کے بعد فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ نامزد کیاگیا تھا اس وقت خان سعید سجنا اور عمر خالد خراسانی بھی امیر کے لئے مضبوط امیدوار تھے جس پر ان کی مجلس شوریٰ نے قرعہ کے ذریعے فضل اللہ کو منتخب کیا،رواں سال مارچ میں ہی ان کے بیٹے عبداللہ امریکی ڈورن حملے میں ہلاک ہوئے یہ حملہ باجوڑ ایجنسی سے ملحقہ پاک افغان سرحدی علاقہ میں ایک مدرسہ میں کیا گیا جس کے نتیجہ میں21افراد ہلاک ہوئے جن میں سولہ سالہ عبداللہ بھی شامل تھا،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مولانا فضل اللہ نے امریکی مفادات کے خلاف کئی حملوں اور کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کی اسی لئے انہیں عالمی دہشت گردی کی لسٹ میں ڈالنے کے بعد ان پر50لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا،تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار سے منحرف ہونے والے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو پاک فوج کے حوالے کرنے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی RAWکی مکمل پشت پناہی حاصل تھی یہ دونوں خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں حملوں کے اہداف مقرر کرکے ٹاسک ٹی ٹی پی کو سونپا جاتا اور ان اہداف کو حاصل کرنے کی قیمت بھی ادا کی جاتی تھی،احسان اللہ احسان جس کا اصل نام لیاقت علی اور تعلق مہمند ایجنسی سے ہے پاک فوج کی تحویل میں ہے اس نے مزید بتایا کہ ان طالبان کا مؤقف ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی کاروائی کے لئے اگر اسرائیل کی مدد بھی لینی پڑی تو وہ ضرور لیں گے،مولانا فضل اللہ 1974میں سوات میں پیدا ہوا جس کا تعلق یوسف زئی قبیلے کی شاخ بابو کارخیل سے تھا وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی تھااس نے جہانزیب کالج سوات سے ایف اے کیا تین درجوں تک دینی تعلیم حاصل کی اس کازیادہ وقت تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ صوفی محمد کی صحبت میں گذرا فضل اللہ نے اپنے استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی کی ،2001میں افغانستان پر امریکی حملے پرمولانا صوفی محمد کی قیادت میں مالا کنڈ ڈویژن کے ہزاروں افراد نے جنگ کے افغانستان کا رخ کیا فضل اللہ بھی ان میں شامل تھے،افغانستان سے واپسی پر وہ گرفتار ہو کر 17 ماہ تک جیل میں رہا ،2005میں اس نے سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل قائم کر لیا جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا چینل سے اس نے مغرب خصوصاًامریکہ ،حفاظتی ٹیکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف خطبے دئیے،بعد میں فضل اللہ نے سوات میں شریعت کے نفاذ کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا جن میں مقامی تنازعات کے فیصلے اور گلی کوچوں اور سڑکوں پر جنگجوؤں کا گشت شامل تھاپھر بات آگے بڑھ گئی تو سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور خود کش بمباروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس پر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے اس کے خلاف کاروائی کی مگر وہ روپوش ہو گیا،اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اکرم دروانی کی وفاقی حکومت کو درخواست پر فوج ایک محدود مینڈیٹ کے ساتھ سوات بھیجی گئی تاہم اس دوران بھی خود کش حملے،سکولوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات ہوتے رہے سول سرکاری مشینری مفلوج ہو کر رہ گئی کیونکہ فضل اللہ نے اپنی عدالتیں تک قائم کر رکھی تھیں،فروری2007میں صوبائی حکومت نے صوفی محمد کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے مگر یہ معاہدہ بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا،مگر جب 2009میں پاک فوج نے سوات میں فیصلہ کن کاروائی کی تو مولانا فضل اللہ فرار ہو گیا بعد میں اس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ افغانستان میں ہے بعد میں انہوں نے افغان صوبے کنڑ اور نورستان جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں محفوظ پناہ گاہیں بنا لیں اور وہیں منصوبہ بندی کر کے پاکستانی علاقوں پر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے،فضل اللہ کی شکل میں بھیڑیا اور درندہ اب جہنم واصل ہو چکا ہے جس کی ہلاکت پر ہر پاکستانی کو سکون ملا ہے،اگر امریکہ اور افغانستان شروع سے ہی اس کی پرورش کی بجائے اس کا قلع قمع کر دیتے تو یقیناً کئی معصوموں کی جان بچ جاتی ،اے پی ایس جیسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین