Breaking News

معزز لوگ

sabir mughal
صابر مغل

پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے ملک کی سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ،پھر ایک عوام تک خبر پہنچی کہ ۔وہ ۔راضی ہو گئے ہیں مگر مشروط،اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں نہ اندرون خانہ پاکستان پیپلز پارٹی اور بر سر اقتدار پارٹی ایک ہی پچ پر ہیں،فوجی عدالتوں کے قیام پر اس اتفاق کی ایک کڑی بہت جلد سامنے آ گئی جب روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی کی زینت بننے والے سندھ کے سابق وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن تقریباً پونے دو سال سے بیرون ملک اپنے گھر سے اپنے دوسرے گھر۔پاکستان ۔کے اسلام آباد ائیر پورٹ اترے جنہیں وہیں سے حراست میں لئے جانے کی خبریں بریکنگ نیوز کے طور پر الؤیکٹرانک میڈیا پر جگمگانے لیگیں،اس ڈرامہ بازی کے دو گھنٹے بعد انہیں ۔اغوا۔کرنے والے بے خبروں کو علم ہوا کہ موصوف تو عدالت کی جانب سے ضمانت پر ہیں ،تب وہ سندھ ہاؤس جیسے شاہی مہمان خانے جا پہنچے ،دوسرے روز شرجیل میمن کے لئے سندھ ہاؤس میں ہی پریس کانفرنس کا اہتمام کیاگیا جس میں ۔سکرپٹ ۔کے مطابق انہوں نے NABاور مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے روایتی چوش و خروش سے فرمایا۔سندھ اور پنجاب کے لئے احتأاب کے الگ الگ پیمانے ہیں نیب نے اؤب تک جتنی بھی کاروائی کی وہ سب کی سب سندھ میں ہی کی گئی ہے نیب کی کیا مجال کہ وہ پنجاب میں گھس کر دکھائے ،انہوں نے وہاں اور بھی بہت کچھ فرمایا،ان یہ میڈیا شو کافی جاندار تھا بولنا وہ جانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں،2015میں جب سے وہ سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے چھٹی کی درخواست منظور کرا کر بیرون ملک تشریف لے گئے تب سے سندھ حکومت ۔سونی سونی ۔سی لگ رہی تھی ،آصف علی زرؤداری کے صاحبزادے کوبھی وہ بہت یاد آتے تھے ان کے لئے وہ چچا چچا کرتے رہتے تھے،21جولائی کو آصف علی زرادری جو مجموعی طور پر دوبئی میں ہی بیٹھ کر سندھ حکومت کی باگ دوڑ سنبھالے رکھتے ہیں نے پارٹی رہنماؤں کا ایک اجلاس دوبئی طلب کیا تو شرجیل میمن اور موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایک ہی فلائٹ سے دوبئی روانہ ہوئے سائیں قائم علی شاہ تو پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے،اس اجلاس میں سندھ کابینہ میں ردو بدل کا فیصلہ کیا گیا،شرجیل میمن سے پہلے وزارت اطلاعات،محکمہ آرکائیو واپس لئے جانے کے بعد ان سے بلدیات کی وزارت کا قلمدان بھی لے لیا گیا، اسی دوران ان کے مینجر بشیر بروہی کو اغوا برائے تاوان میں گرفتار کر لیا گیا،ان کے دست راست کراچی واٹر بورڈ کے عہدیدار راشد صدیقی کو کرپشن الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا،اس دوران شرجیل میمن کی کرپشن کی بازگشت دن بدن بلند ہوتی چلی گئی،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شرجیل میمن کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا جا رہا ہے،اسی دوران تھرپاکر جہاں اس وقت بھی بھوک اور ننگ کے سبب موت کا راج ہے سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی کے کراچی والے گھر سے رینجرز نے چھاپہ مار 2ارب روپے برآمد کر لئے ،لانچوں سے بھی رقم اسمگل کرنے کی خبریں آتی رہیں،قومی احتساب بیورو سندھ نے نجی ایڈوٹائزنگ کو غیر قانونی طور پر اربوں روپے کرپشن کے اشتہارات دینے کی انکوائری کا آغاز کر دیا انکوائری کے بعد احتساب عدالت نے5ارب 76کروڑ 65لاکھ روپے کی کرپشن کا کیس منظور کر لیا اس کیس میں شرجیل میمن کے علاوہ ایڈوٹائزنگ ایجنسی کے مالک،ذوالفقار علی شنواری سابق سیکرٹری اطلاعات سندھ،انیتا بلوچ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن،مقصود احمد ،محمد یوسف کالوڑو،سارنگ لطیف چانڈیو،الطاف حسین جمن،انعام اکبر،ریاض منیر،فضل محمود ،محمد حنیف،عاصم،مسعود چشتی ،گلزار علی، منصور عمر اور سعید طوید کو بھی ملزم نامزد کیاگیا،اس تمام تر حالات میں شرجیل میمن برطانیہ رہے،ان کے مطابق وہ ریڑھ کی ہڈی کے مرض میں مبتلا ہونے کے علاوہ سرجری کرانے کے لئے وطن واپس نہیں جا رہے،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ ۔شرجیل میمن نے وطن واپس آنے سے انکار کر دیا وہ ابھی واپس نہیں آ سکتے،اب شرجیل میمن کے کراچی لینڈ کرنے کی بجائے اسلام آباد ڈائریکٹ آمد نے ۔مک مکا۔کے خدشات کو مزید جنم دیا ہے،پریس کانفرنس میں ان کی حکومت پر چڑھائی حیرت کی بات نہیں ہے انہوں نے ایسا ہی کرنا تھا آپس میں بھائی چارے والی اشرافیہ اگر ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں ،ملک و ملت کے لئے درد دل رکھنے والے یہ لوگ سب کچھ لوٹ لے جائیں ،کرپشن کی گنگا بہا دیں،اقرباء پروری کی حدیں بھی روند دیں ،مگر ان ک�ئ عزت و توقیر میں پھر بھی اضافہ ہوتا چلا چاتا ہے،ان پر جتنے مقدمات ہوں اتنا ہی ان قد کاٹھ بڑھتا جاتاہے،یہ نسل درجنوں مقدمات کے باوجود کھلے عام پھرتے ہیں ان کی گرفتاری اور رہائی کسی مذاق سے کم نہیں ہوتی ،دو روز قبل ایم کیو ایم کے فاروق ستار کو گرفتار کیا گیا دو گھنٹے بعد وہ گھر پہنچ گئے حالانکہ ان پر متعدد مقدمات قائم ہیں عدالت چیخ رہی ہے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرو،یہ طبقہ عدالتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا کیوں کہ ۔مک مکا۔کے بعد وہ سب کچھ غائب ہو جاتا جس کی بنیاد پر یہ قابل گرفت ہوں ،یہ قانونی پہلوؤں کی کانٹے دار جھاڑیوں میں عدالت کو بھی بے بس کر دیتے ہیں،ایسوں کا علاج بھی پاکستان میں ممکن نہیں جیسے یہاں کے ہسپتال ہسپتال نہیں اصطبل ہوں،یہاں کے ڈاکٹر جاہل ترین ہوں ،سہولیات نام کی کوئی شئے نہیں ،کیا صرف یہی انسان ہیں باقی 20کروڑ عوام جو انہیں ہسپتالوں ،انہی ڈاکٹروں سے لائنوں میں لگ کر علاج کراتے ہیں وہ جانور ہیں یا ان سے بھی کم تر؟عام آدمی کے گھر سے جنم لینے والے جمہوری نظام میں سب سے زیادہ اسے ہی کھڈے کائن لگایا جاتا ہے اس�ئمہوری نظام کے طماچے کھاتے کھاتے ان کی عمر بیت جاتی ہے ؤ،شرجیل میمن کے گھر سے 2ارب روپے برآمد کرنے والے رینجرز افسران و اہلکاران سب سب فراڈئیے تھے؟ان کے خلاف احتساب ریفرنس دائر کرنے والے ۔نیب۔افسران بھی بدھو تھے؟شرجیل کی اچانک پاکستان آمد وہ بھی اسلام آباد ائیر پورٹ ،نیب کی جانب سے انہیں چند گھنٹے ان کی خدمت کرنا ہی سب کچھ کہنے کا بہانہ بن گیا اب ان کے حق میں ہمارے سیاسی رہنماء سینکڑوں طرح کی دلیلیں اور تاویلیں میڈیا کے ذریعے پیش کر رہ�ۂ ہیں مگر اس بات کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں یا وہ یناہی نہیں چاہیں گے آخر ان کی خود ساختہ جلا وطنی کی اصل وجہ کیا تھی ؤ؟ شرجیل میمن کو نہیں ان سب کو مقام عبرت بنایا جائے تا کہ وہ آئندوہ کسی شریف آدمی کے خلاف کوئی الزام نہ لگا سکیں،سندھ رینجرز کو تو پہلے بھی کئی برآمدگیوں پر جھوٹا ثابت کیا گیا ہے، کب تک یہ بدمعاشیاں او عیاشیاں جاری رہیں گی؟

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین