Breaking News

عالمی عدالت میں کلبھوشن کو ریلیف

sabir mughal
صابر مغل

ہالینڈ کے شہر ۔ہیگ ۔میں قائم عدالتی عدالت انصاف نے پاکستان میں سزائے موت کے قیدی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا پر حکم امتناعی دیتے ہوئے کہا کہ مکمل فیصلہ آنے تک پاکستان کلبھوشن کو پھانسی نہ دے یہ فیصلہ 11ججز پر مشتمل پینل جس میں 8مرد جبکہ تین خواتین جج شامل تھیں نے کیا عالمی عدالت کے سربراہ ارونی ابراہم مصری نژار فرانسیسی شہری ہیں ان کے نائب عبدالقوی کا تعلق صومالیہ ہے ہے دیگر ججز کا تعلق امریکہ ،چین،آسٹریلیا،یوگنڈا،برازیل،سوئٹرزلینڈ،جمیکا،سلوواکیا،روس ،جاپان اور بھارت سے تھا،بھارت کے اہڈہاک جس جسٹس بھنڈاری نے کیس میں بھارت کا بھرپور ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے اختیار کے باوجود ا س مقدمے میں ہڈہاک جج مقرر نہیں کیا تھا،اس فیصلہ کے آتے ہی پاکستان بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی دوسری جانب بھارت میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں ،بھارتی وزیر خارجی سشما سوراج جس نے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اسے انڈیا کا فرزند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کلبھوشن کو بچانے کے لئے بھارت کسی حد تک بھی جا سکتا ہے نے اس فیصلہ کو انڈیا کی فتح قرار دیا ہے انڈین ٹی وی چینلز زی نیوز،انڈیا ٹو،نیوز نائن،سی این این ،نیوز18اور ایس ڈی تی سمیت درجنوں چینلوں بے پاکستان کے خلاف پرپیگنڈے کی حدوں کو چھوا،کلبھوشن یادیو کو پاکستانی حساس اداروں نے3مارچ2016کو بلوچستان کے علاقہ ۔ماشکیل۔سے گرفتا کیا تھا،ہندوستانی اخبار ممبئی مرر کے مطابق انڈی نایجنسی RAWکے ایجنٹ میراٹھی زبان بولنے کی وجہ سے پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہواوہ اپنی اہلخانہ کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا رپورٹ کے مطابق کلبھوشن14سال سے پاکستان میں کام کر رہا تھا جس کی وجہ سے وہ کافی حد تک مطمئن اور پر سکون تھا اسی نے اسے بے نقاب کیاپاکستانی خفیہ ایجنسی کی کلبھوشن کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر تھی وہ ایک مسلمان اور کاروباری شخص کا روپ دھاراختیار کر کے کام کرتا تھا اس کے پاسپورٹ پر حسین مبارک پٹیل درج مگر وہ وضع قطع سے مسلمان نہیں لگتا تھا ،حسین مبارک کے نام سے اس فرضی پاسپورٹ کے مطابق وہ 30اگست1968کو بھارتی ریاست مہاشٹرا کے شہر سانگلی میں پیدا ہوا ممبئی کے علاقے پووائی کے رہائشی کلبھوشن کا تعلق پولیس افسران کے خاندان سے تعلق ہے،اس نے 1987میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991مین بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی اس نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت میں انفارمیشن اینڈ انٹیلی جنس کے لئے اپنی خدمات کا آغاز کیا،بلوچستان میں گرفتاری سے قبل ممبئی گیا تھاکلبھوشن کو بیک اپ فراہم کرنے والے دو مقامی رابطہ کاروں کو بھی اسی دوران گرفتار کیا گیا ہندوستان ایجنسیوں کے پاکستان میں شروع کئے گئے خفیہ آپریشن کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد درہم برہم ہو گئے، حساس اداروں کی بڑی کاروائی میں بھارتی نیوی آفیسر کی گرفتاری ایک بہت بڑی پیش رفت تھی جسے گرفتاری کے ایک ہفتہ بعد مزید تفتیش کے لئے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا،راکے جاسوس کی گرفتاری پر ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بامبا والے کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیکرٹر ی خارجہ اعزاز چوہدری نے سے حاضر سروس سیکیورٹی آفیسر جاسوس کی گرفتاری سے آگا ہ کیا،تاہم بھارت نے کلبھوشن کو اپنا شہری تو تسلیم کیامگر اسے فوج کا سابق اہلکار ماننے سے انکار کر دیا،اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل عاصم باجوہ نے پریس کانفرنس کے دوران اس بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان کی ویڈیو پیش کی اس کے مطابق وہ2013میں ۔را۔میں شامل ہوا اور وہ اس وقت بھی ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اس نے 2014اور2015کراچی کے کئی دورے کئے جن کا مقصد ۔را۔کے لئے بنیادی ٹاسک سر انجام دینا تھا 2016میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ،پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسند وں سے ملاقات کرنا تھی،بلوچستان علیحدگی پسندتنظیموں کی قتل سمیت گھناؤنی کاروائیوں کے پیچھے راکا ہاتھا ہے جنرل عاصم کے مطابق اس سے بلوچستانکے نقشے برآمد ہوئے کلبھوشن کا RAWکے چیف اور جوائنٹ سیکرٹری اے کے گپتا سے براہ راست رابطے تھے ،کلبھوشن یادیو نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اگر آپ ہندوستان کو اس کی گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈYour Monkey is with us (آپ کا بندر ہمارے پاس ہے)بتائیں گے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے،کلبھوشن گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے،مہران بیس پر حملے میں بھی ملوث تھا جبکہ پاکستان چین اقتصادی راہدرای اور گوادر پورٹ اس کے بر ؁ اہداف تھے،کلبھوشن دہشت گردوں کا نیٹ ورک بنانے ،انہیں فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث رہا،ملزم کراچی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے بھی مسلسل رابطے میں تھا،فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم)نے آرمی ایکٹ 1952کے سیکشن 59،سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923کے سیکشن 3کے تحت ٹرائل کیا اور کلبھوشن کو تمام چاجز میں مجرم پایا (کلبھوشن نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے بھی اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا)10اپریل2017کو جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن کو سزائے موت سنا دی،دروان ٹرائل کلبھوشن کو وکیل کی خدمات کے ساتھ ساتھ اپیل کا پورا پورا حق دیا گیا،بھارت نے اس سزا کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اپنے دفتر خارجہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا بھارت نے یہ بھی کہا کہ اگر کلبھوشن کو موت کی سزا دی گئی تو یہ پہلے سے سوچا سمجھا قتل تصور کیا جائے گا انڈیا کے مطابق کلبھوشن کوپاکستان سے پکڑا نہیں گیا بلکہ ایران سے اغوا کیا گیا تھا،کلبھوشن پہلے ایسے بھارتی شہری نہیں جنہیں جاسوسی کے الزام پر سزائے موت سنائی گئی پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زائد بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں سے بعض کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا البتہ ان میں سے کئی لوگ جیل میں وفات پا گئے،کلبھوشن ایسے بھارتی اور وہ بھی حاضر سروس آفیسر جاسوس ہیں جو پنجاب کے باہر سے پکڑے گئے ماضی میں اکثر جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے اور ان کی اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھاان بھارتی جاسوسں میں سربجیت سنگھ،کشمیر سنگھ،رویندا کوشک،رام راج ،سرجیت سنگھ ،گر بخش رام اور ونود سانہی قابل ذکر ہیں،اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اب بھارتی جاسوس کی سزا کے خلاف ہندوستانی درخواست پر اسے ریلیف دیدیا ہے ،عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روکے جانے سے تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین نے حیرانی اور شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت کے جانے پر بھی کہا جا رہا تھا عدالت کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ اس کیس کو سنے اس لئے پاکستان نہ جائے مگر حکومتی فیصلہ کے اٹل ہونے پر سینئر ترین وکلاء کی ٹیم نے بغیر معاوضہ اس کیس کی پیروی کی پیشکش کی جسے حکومت نے قبول نہ کیا اور بھاری معاوضہ پر ایسے وکلاء کو بھیجا جنہوں نے کمزور اور نقصان دہ دلائل دئیے اور 90منٹ ملنے کے باوجود صرف50منٹ تک دلائل دئیے یوں 40منٹ کو ضائع کر دیا گیا،جسٹس(ر) شائق عثمانی نے کیا۔یہ فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ یہ کیس عالمی عدالت کے دائرہ اختیار ہی میں نہیں،تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق عالمی عدالت کے دائرہ کار کو امریکہ سمیت کئی ممالک نہیں مانتے،سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر ۔انہیں یہ فیصلہ سن کر شدید دھچکا لگا ہمارے وکلاء نہ تجربہ کار تھے ،اٹارنی جنرل پاکستان کہتے ہیں۔پاکستان عدالتی احترام میں عالمی عدالت میں پیش ہوا(ان کے نزدیک شاید قومی سلامتی کوئی معنی نہیں رکھتی اور بے منعنی عدالت جا پہنچنے )،سرتاج عزیز ۔قانونی ٹیم نہ بھیجتے تو یکطرفہ فیصلہ آتا۔پیپلز پارٹی کی شیری رحمان ۔حکومت کا دماغ پانامہ میں پھنسا ہوا ہے ،خورشید شاہ،ملکی سلامتی کے مسئلہ کو مس ہینڈل کیا گیا،PTIکے شفقت محمود۔خفیہ فیصلوں اور درپردہ عزائم میں لپٹی پالیسیاں انتہائی مہلک ہیں ۔عمران خان ۔ممکن ہے میچ فکس ہو،سراج الحق۔حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے،شیخ رشید۔کلبھوشن کا نام لینے پر وزیر اعطم کا وضو ٹوٹتا ہے عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی منظوری سجن جندال کی کرامات ہیں،دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی میڈیا نے پہلے ہی اس حکم امتناعی کا بتا دیا تھا،قانونی ماہرین کے مطابق عالمی عدالت کا دروازہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہی کھل سکتا ہے ،قارئین کرام پاکستان نے 17سال قبل بھارت کے خلاف اسی علامی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا تو عدالت نے پاکستانی کیس سننے سے صاف انکار کر دیا 1999میں بھارت کے جنگی طیاروں نے پاکستان نیوی کے ایک جہاز کو بغیر کسی وجہ کے ما گرایا تھا جس میں نیوی کے 16اہلکار شہید ہوئے اس کیس میں عدالت کا مؤقف تھا کہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں،یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کے کیس کو آج تک عالمی فورم پر نہیں اٹھایا،یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے اندورن خانہ حیران کن طور پر آخری ہفتے میں عالمی عدالت کے مکمل دائرہ اختیار میں آنے کا معاہدہ کیا،اب اس فیصلہ کے بعد پاکستان کہہ رہا ہے ۔ہم عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، اسی دن آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا۔فوج تنہا کچھ نہیں کر سکتی سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی،پاکستان پار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر راحیل کامران کی یہ بات قابل غور ہے کہ ۔عالمی ثالثی مقدمات میں پاکستان کی کامیابی کا تناسب صرف2فیصد ہے جبکہ بھارت کا یہ تناسب60فیصد ہے،گذشتہ چند برسوں میں اربوں روپے خرچ کر کے بھی پاکستان کئی اہم کیس ہارا ہے،بہرحال پاکستان کے قاتل پر خاموشی ،غلط فورم کا انتخاب اور پوشیدہ پالیسی سے عوام میں تشویش کی شدید لہر پائی جائی رہی ہے حکومت ہوش کے ناخن لے یہاں اعلیٰ قانون دانوں اور محب الوطن قانون دانوں کی کمی نہیں مگر ۔آبیل مجھے مار۔یا ۔میں تو ہوں ہی تیرا ،اور ہم حاضر ہیں جناب کی پالیسی ختم کرنا ہو گی۔۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین