Breaking News

ڈینگی اور اسلام

dr tasawar mirza
ڈاکٹر تصور مرزا

اللہ نہ کرے اگر آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو سخت بخار ہو گیا ہو، جسم پر سرخ دھبے ظاہر ہوں، جسم کا درد سے چوروچور ہونا، ہڈیوں، آنکھوں، جوڑوں اورانگ انگ کا درد کرنا پایا جائے، تواسے معمولی سمجھتے ہوئے نظرِ انداز نہ کریں ۔ ممکن ہے کہ ڈینگی ہو ، اپنی طرف سے کوئی فتویٰ جاری کرنے کی بجائے اپنے فیملی معالج سے مشورہ کریں، یہ بات یاد رکھیں! ڈینگی بخار سخت فلو کی طرح کی ایک بیماری ہے Dengue haemorrhage fever 7 بخار کی ایک قسم ہے جو زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے جس میں تیز بخار، جگر کا بڑھ جانا اور بیماری کی شدت میں circulatory failure کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کا بخار اچانک شروع ہوتا ہے اور فلو جیسی علامتیں ظاہر کرتا ہے۔ یہ بخار 2 سے 7 دن تک عموماً رہتا ہے اور درجہ حرارت 104سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔یہ بات کبھی بھی نہ بھولیں کہ ڈینگی کا کوئی خاص علاج نہیں ہوتا ہے۔ بیماری کی حالت میں مریض کو پانی کا استعمال زیادہ کروایا جاتا ہے۔ڈینگی بخار ہو جا ئے تو مریض کو فوری طور پر کسی قریبی طبی مرکز پہنچائیں۔ اس بیماری کی تشخیص اور علاج کسی مستند ڈاکٹر سے ہی کرائیں۔
ڈینگی میں مبتلا مریض کو روز مرّہ غذا کے ساتھ ساتھ زیادہ مقدار میں( پینے والی اشیاء ) مثلاً جوس، پانی، سوپ اور دودھ پلائیں۔ مریض کا درجہ حرارت 102 ڈگری F سے کم رکھیں۔بخار کی صورت میں صبح، دوپہر اور شام پیراسٹامول کی ایک ایک گولی استعمال کریں۔ ڈینگی بخار کے مریض کو مرض کے دوران اسپرین اور بروفین کسی صورت استعمال نہ کرائیں۔( کیونکہ اسپرین اور بروفِن سے خون پتلا ہوتا ہے ) سخت بیماری کی صورت میں منہ سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے۔
ڈینگی بخار(Dengue fever)۔ڈینگو’’dengue’’سپینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی cramp یا seizure کے ہیں جبکہ اسے گندی روح کی بیماری بھی کہا جاتا تھا۔جبکہ Fever کا مطلب بخار ہوتا ہے۔ 1950 میں یہ بیماری جنوب مشرقی ایشیائکے ممالک میں ایک وبا کی صورت میں نمودار ہوئی جس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ خصوصاً بچے ہلاک ہو گئے۔ 1990 کے آخر تک اس بیماری سے ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 1975 سے 1980 تک یہ بیماری عام ہو گئی۔
2002 میں برازیل کے جنوب مشرق میں واقع ریاست Rio de Janeiro میں یہ بیماری وبا کی صورت اختیار کر گئی اور اس سے دس لاکھ سے زائد افراد جن میں 16 سال سے کم عمر کے بچے زیادہ تھے ہلاک ہو گئے۔ یہ بات دیکھنے میں دبیز متنآئی ہے کہ یہ بیماری تقریباً ہر پانچ سے چھ سال میں پھیلتی رہتی ہے۔سنگا پور میں ہر سال چار ہزار سے پانچ ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہو تے ہیں جبکہ 2003میں سنگاپور میں اس بیماری سے چھ افراد کی ہلاکت بھی ہوئی۔ اور جو افراد ایک مرتبہ اس بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ اگلی مرتبہ بھی اس بیماری کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ملیریا نامی بیماری کی اگلی صورت کہی جا سکتی ہے اس بیماری کے مچھر کی ٹانگین عام مچھروں سے لمبی ہوتی ہیں اور یہ مچھر قدرے رنگین سا ہوتا ہے۔یہ بھی دیگر مچھروں کی طرح گندی جگہوں اور کھڑے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ابھی تک اس بیماری کی کوئی پیٹنٹ دوا یا ویکسین ایجاد نہیں ہوئی تاہم2003سے(Pediatric Dengue Vaccine Initiative (PDVI) پروگرام کے تحت اس کی ویکسین تیار کی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تھائی لینڈ کے سائنسدانوں نے ڈینگو وائرس کی ایک ویکسین تیار کی ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اگرچہ اس ویکسین کے تین ہزار سے پانچ ہزار افراد اور مختلف جانوروں پر تجربے کیے جا چکے ہے جس کے ابھی تک قدرے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔2002 میں سوئس فارما کمپنی اورSingapore Economic Development board نے مشترکہ طور پر اس وائرس کے خاتمے کی دوا تیار کرنے پر کام شروع کیا ہوا ہے۔
پاکستان میں ڈینگی وائرس کا پہلا کیس 1995ء میں ریکارڈ کیا گیا۔جنوبی بلوچستان اور کراچی میں پہلی بار اس بیماری سے 145 افراد متاثر ہوئے،جبکہ ایک فرد جاں بحق ہوا۔2003ء میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں اس بیماری کے 300کیسز جبکہ پنجاب کے ضلع چکوال میں اس کے 700کیسز ریکارڈ ہوئے۔ گذشتہ سال اس وائرس کے حملے میں تقریباً 3 ہزار کنفرم کیسز سامنے آئے جبکہ 450 مشتبہ کیسز ریکارڈ کئے گئے۔جبکہ 2درجن سے زائد افراد اس موذی مرض کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔سالِ رواں میں اس موذی مرض کا حملہ گذشتہ سال کی نسبت کئی گنا زیادہ شدید ہے۔ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اس مرض سے 42سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،جبکہ پنجاب بھر کے اسکولوں میں 10دن کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا اور صوبہ پنجاب میں دفعہ 144بھی نافذ کی گئی ہے۔پنجاب میں لاہور کے علاوہ فیصل آباد اور دیگر شہربھی اس وبا سے متاثر ہیں۔فیصل آباد سے ڈینگی کے 28کیس سامنے آئے ہیں،جبکہ کراچی سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 12افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسلام نے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دے کر انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا ہے، یہ سچ ہے اگر انسان اپنی صفائی کے ساتھ ساتھ گھر محلہ اور ملک کی مجموعی صفائی پر توجہ مرکوز کرے تو آدھی بیماریاں خود بخود نست و نمود ہو جائیں گئی۔ سبحان اللہ کیا قول ہے محسن انسانیت ﷺکا فرمانِ عالی شان ہے کہ میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونگے۔آپ سے پوچھا گیا کہ اس کی کیا و جہ ہے؟ تو آپ نے جواب دیا’’وہ دنیا میں آگ سے داغ نہیں لگواتے،نہ جھاڑ پھونک(شرکیہ تعویز جادو گنڈے کرواتے ہیں اور نہ کوئی برا شگون لیتے ہیں بخاری شریف ! ایک اور جگہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان کو کوئی مصیبت، بیماری، غم، یا پریشانی پہنچتی ہے حتٰی کہ اگر کوئی کانٹا بھی اسے چبھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی و جہ سے اُسکے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں(بخاریشریف )
نبی کریم حضرت محمد ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ اے اللہ کے بندو، علاج کیا کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو(احمد، ابوداؤد) آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی اکثر لوگ قدر نہیں کرتے ایک صحت اور دوسری فراغت (بخاری شریف)
ڈینگی سے ڈرنے کی بجائے احتیاط کی ضرورت ہے
مچھروں کی افزائش کی روک تھام اپنے گھر اور آس پاس موجود ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کا خاتمہ کریں۔ یہ مچھر عام طور پر پانی میں پرورش پاتے ہیں۔ اپنے گھر کے صحن میں موجود کوڑا کرکٹ اور غیر ضروری سامان جس میں بارش کا پانی جمع ہو سکتا ہو وہ ختم کردیں۔ استعمال شدہ بوتلیں، پرانے برتن، ٹین کے ڈبے اور پلاسٹک بیگ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگا دیں تاکہ ان میں بارش کا پانی جمع نہ ہو سکے۔ ایسے پانی میں مچھر پیدا ہوتے ہیں جو ڈینگی پھیلاتے ہیں۔ صاف پانی جمع کرنے والے برتن مثلاً گھڑے، ڈرام، بالٹی، ٹب وغیرہ ڈھانپ کر رکھیں۔ چھت پر پانی والی ٹینکی کو مکمل ڈھانپ کر رکھیں اور پانی کے داخل اور خارج ہونے والے مقام پر جالی کا استعمال کریں۔ گملوں اور پودوں کی کیاریوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ گملوں کے نیچے برتنوں کو بھی خشک رکھیں۔ کیونکہ مادہ مچھر وہاں بھی انڈے دے کر اپنی نسل بڑھا سکتی ہے۔ گھر کے آس پاس پانی جس کی نکاسی ممکن نہ ہو اس میں مٹی کا تیل ڈالیں۔
پانی کے ٹوٹے ہوئے پائپوں کی فوراً مرمت کروا لیں تاکہ ان میں سے پانی کا ٹپکنا اور رسنا بند ہو جائے۔ روم ایئر کولر وغیرہ جو استعمال میں نہ ہوں سے پانی خارج کر دیں۔ آخر میں دو باتیں عرض کرنا ہے اول:۔ علاج کسی بھی طریقہ علاج جیسا انگریزی ادویات، دیسی ادویات یا ہومیو پیتھک ادویات سے ممکن ہیں، کیونکہ اسلام نے ہمیں بتا دیا ہے کہ کوئی بھی بیماری لا علاج نہیں۔ لیکن گزارش ہے اپنا علاج خود مت کریں، اگر آپ نے دم تعویز یا روحانی علاج بھی کروانا ہے تو ماہر با عمل عامل کے مشورے سے کریں، اگر انگریزی علاج کروانا ہے تو کسی بھی تجربہ کار ایم بی بی ایس کے مشورے سے کریں، اگر آپ دیسی ادویات یا حکمت سے علاج کروانا چاہتے ہیں تو نیم حکیم کی بجائے کوالیفائڈ حکیم کا چناؤ کریں اور حکیم صاحب کی ہدائیت پر عمل کریں،اگر آپ دنیا کا بے ضرر طریقہ ہومیوپیتھی سے علاج کروانے کو ترجیح دیں تو یہ سب سے بہتر ہے۔ یاد رکھیے کوالیفائڈ رجسٹرڈ ہومیوپتھیک ڈاکٹر ز جو تجربہ و مہارت رکھتا ہو وہ بغیر کسی پیچیدگی کے شفائے کاملہ سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
دوئم:۔ نہ اُمیدی اور مایوسی گناہ ہے۔ اللہ پاک کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے۔ علاج و احتیاط کے علاوہ۔اسلام کے مطابق جسموں کو ڈھانپنا ہوگا

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین