Breaking News

ہومیوپیتھی اتائیت نہیں

dr tasawar mirza
ڈاکٹر تصور مرزا

نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی حکومتِ پاکستان کے الیکشن جو مورخہ 9 جولائی 2018 ء کو ہو رہے ہیں ۔ ہومیوپیتھک کی تمام سیاسی تنظیمیں الیکشن کمپین چلا رہی ہیں۔ الیکشن جموریت کا حسن ہوتے ہیں ۔ہر ہومیوپیتھک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ہومیوپیتھی اور ہومیوپیتھ کی بہتری کے لئے وہ کام کرنا چاہتی ہے۔جس قدر وسائل تھے ان کو برائے کار لاتے ہوئے کام کیا ہے۔ ہر ہومیوپیتھک تنظیم اپنے شاندار ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے نئے جوش جزبے اور ولولے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ کچھ ایسی بھی تنظیمیں ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ کونسل کی ممبری کے بغیر بھی ہومیوپیتھی کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ہے۔ اور آئندہ مزید کام کیا جائے گا۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بہتری کی بجائے ہومیوپیتھی اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کا وقار مجروع ہوا ہے۔ زیادہ دور نہیں گزشتہ ماہ پر ایک نظر کرنے سے حقائق
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب سے ’’ اتائیت کے خاتمہ ‘‘ کا ٹاسک جو محکمہ صحت کو دیا۔ پاکستان کی غیور عوام کی خوشی کی انتہانہ رہی ۔ دیگر مکتبہ فکر کی طرح ہومیوپیتھی اور طب سے وابسطہ حکماء حضرات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ہرطرف سے اتائیت کے خاتمہ زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
افسوس! محکمہ صحت نے اتائیت کے خاتمہ کے نام پر اپنی توپوں کا رخ ہومیوپیتھی اور طب کی طرف کر دیا۔ چھوٹے چھوٹے اعتراض لگا کر کلینکس اور مطبوں کو سیل کیا گیا جن کی پوری دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی مثلاًپریگنینسی سٹرپس، گلوکومیٹر ( شوگر چیک کرنے والی مشین ) وغیرہ وغیرہ ۔اگر ہم دنیا بھر کی طرح ’’ اتائیت کی تعریف کرتے کہ اتائیت کا مطلب کسی بھی قسم کی میڈیکل کی تعلیم کے بغیر طبی خدمات سرانجام دینا ‘‘ تو بات سمجھ بھی آتی ۔وہ روز مرہ کی عام شوگر بخار اور بلڈ پریشر چیک کرنے والے آلات پر پابندی درست اقدام نہیں ۔ اگر یہ مان لیا جائے تو پھر ہر دوسرا گھر اتائیت کا اڈا ثابت ہو جائے گا۔ کیونکہ ہر گھر میں اگر نہیں تو ہر دوسرے گھر میں شوگر بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے شوگر بلڈ پریشر مانپنے والی مشینیں گھر رکھی ہوئی ہے۔ اگر ان کی موجودگی اتائیت ہے تو پھر کہنا پڑے گا پاکستان کا ہر دوسرا گھر اتائیت کا گھر ہے۔ لیکن ہم ایسا نہیں کہتے اور نہ ہی ایسا سمجھتے ہیں ۔تو پھر ان مشینوں کی موجودگی میں ہومیوپیتھی اور طب کواتائیت کیوں کہتے ہیں؟بات اتائیت کے خاتمہ کی ہو رہی ہے یہ اچھا شگون ہے ۔پہلے بھی عرض کیا تھا اتائیت کی حدودمقرر کی جائے مثلاً دنیا کے کسی بھی ملک میں عام روزِ مرہ سر درد بخار کے لئے پیرا سٹامول یا ڈسپرین جیسی ادویات پر پابندی نہیں یہی وجہ ہے یورپ امریکہ افریقہ سے پاکستان آنے والے مسافروں کے سامان میں یہ ادویات کثیر مقدار میں موجود ہوتی ہے اور ان کی بلا روک ٹوک خریدوفرخت ہوتی ہے ۔ اگر یہ ادویات بغیر لائسنس فروخت ہوتی ہے تو پاکستان میں کیوں پابندی ہے؟ کتنے مطب اور ہومیوپیتھک کلینک محض ان کی وجہ سے سیل ہوئے ہیں۔ پاکستان میں عام روز مرہ ادویات پر پابندی لگوانے میں ہومیوپیتھک اور یونانی دواخانوں کا عمل دخل ہے کیونکہ وہ اپنی ادویات زیادہ سے زیادہ فرخت کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح اگر ہم ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور حکماء حضرات کو عام روز مرہ کی ادویات اور فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ دیکر اسناد سے نوازیں تو یقین کیجئے مستند معالجین اور غیر مستند معالجین میں فرق کرنا بھی مشکل نہ ہو اورحقیقت میں اتائیت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
اتائیت کے خاتمہ کے نام پر ’’ خوب ہراساں ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا کلینک جو شام کو کھلتا ہے اس کو صبح کے وقت بند کلینک کو سیل کیا گیا اور ایک ایسا کلینک جو صبح کے اوقات میں کھلتا تھا اس کو شام کے وقت سیل کیا گیا۔ مصدقہ اطلاعات کا بہنا بنا کر سیل کیا جاتا ہے سوال پیدا ہوتا ہے جو مصدقہ اطلاع اتائیت کی ہوتی ہے وہ اوقات کار کی کیوں نہیں ؟ یقین مانئیے کچھ لوگ نماز جمہ ادا کرنے کچھ کھاناکھانے اور بعض بچوں کو سکول سے لانے کے لئے کلینکس بند کر کے گئے تھے واپسی پر پتا چلاکہ کلینک سیل ہو گیا ہے۔ حالانکہ نیشنل کونسل کی رجسٹریشن ، ڈپلومہ، اور پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن سے باقاعدہ رجسٹرڈ تھے۔اور پریکٹس بھی اپنی کونسل کے متعین کردہ طریقہ کار کے مطابق کرتے ہیں۔
24 مئی 2018 بعد دوپہر 4.53 بجے اینٹی کویکری سیل کے پیج پر ایک پوسٹ اپ لوڈ ہوئی جس کا ہیڈنگ تھا ''فروٹ آف اینٹی کویکری کیمپین'' اور اس کے پیرا نمبر 14 میں درج ہے کہ آئیندہ حکیم اور ہومیوپیتھس ڈائیگنوسٹک ٹولز استعمال نہیں کر سکتے۔
ڈائیگنوسٹک ٹولز میں تھرمومیٹر، سٹیتھوسکوپ اور بی پی اپریٹس بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان بنیادی ڈائیگنوسٹک ٹولز کے بغیر مریض کا معائنہ مکمل نہیں ہو سکتا اور خاص بات یہ کویکری کے زمرے میں نہیں آتے۔ جب ان ڈائیگنوسٹک ٹولز کے استعمال پر پابندی ہو تو مریض کی رائے ہومیوپیتھس کے متعلق کوئی اچھی نہیں ہو سکتی ! کیا ایسے وقت کا انتظار ہے جب ہومیوپیتھی اپنی موت آپ مر جائے؟
اینٹی کویکری کیمپین کا اصل مقصد قانون کے مطابق یہ ہے کہ جو معالج PMDC، NCH، طب کونسل اور PHC سے رجسٹرڈ ہیں وہ پریکٹس کرنے کے اہل ہیں علاوہ ازیں حکیم اور ہومیوپیتھس ایلوپیتھک میڈیسنز پریکٹس نہیں کر سکتے۔
اب اس قانون کی آڑ میں اینٹی کویکری سیل پنجاب جو دراصل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا سلسلہ ہے نے اصل کام سے تجاوز کرتے ہوئے شعبہ طب کے بنیادی انسٹرومنٹ یعنی تھرمومیٹر، سٹیتھوسکوپ اور بی پی اپریٹس وغیرہ پر پابندی لگا کر اپنے متعصب ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز جو ہومیوپیتھی کی حقیقی فلاح و بہبود اورمعیار کی بلندی کے ساتھ بہتر مستقبل چاہتے ہیں ان کو آگئے آنا چاہیے۔اور ان کو اپنا منشور واضع کرنا ہوگا کہ PHC پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن حقیقی اتائیت کا خاتمہ اگر چاہتا ہے تو کمیشن میں نمائدگی تین حصوں پر تقسیم کی جائے ایک حصہ ایلوپیتھک معالجین جبکہ دوسرا حصہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز جبکہ تیسرا حصہ طب کو ملنا چاہیئے ۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک ہومیوپیتھی اور طب کے ساتھ سوتیلی ماں والہ سلوک جاری رہے گا۔
نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی کے امیدوار جو الیکشن میں حصہ اس جزبہ کے ساتھ لیں رہے ہیں تا کہ ہومیوپیتھی اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی مدد کی جائے ۔کیا وہ لیڈرز آف ہومیوپیتھی محکمہ صحت پنجاب کی تعصبانہ کاروائیوں پر اپنی خدمات سرانجام دینا گوارہ کریں گئے۔ معمولی معمولی اعتراض لگا کر ’’ کلینکس ‘‘ کو سیل کئے گئے ہیں۔ اس بارے میں کوئی حکمتِ عملی اگر بنائی گئی ہے تو سامنے لائی جائے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ اتائیت میں ملوث لوگوں کی مدد کی جائے میراطلب ہے جو بے گناہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اتائیت کی چکی میں پِس رہے ہیں ان کی مدد کا کیا طریقہ کار ہے مثلاً ایسے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز جن کے پاس ڈپلومہ NCH رجسٹریشن اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے باقاعدہ رجسٹرڈ بھی ہے اور صرف ہومیوپیتھی استعمال کرتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں بند کلینکس کو سیل کیا گیا ہے۔
الیکشن کے بعد جو بھی ہومیوپیتھک تنظیم اقتدار سنبھالتی ہے کیا وہ PHC میں ہومیوپیتھی کی نمائدگی حاصل کر سکے گئی؟۔ کیونکہ جب تک PHC میں ایلوپیتھک ڈاکٹرز کے ساتھ حکماء اور ہومیوپیتھک معالج نہ ہونگے ۔ تو کیسے پتا چلے گاجو ایلوپیتھک معالجین اتائیت میں ملوث ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہPHC میں تینوں ( ایلوپیتھک ، ہومیوپیتھک اور یونانی)معالجین شامل ہوں
نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی کے الیکشن میں حصہ لینے والی تنظیموں سے گزارش ہے کہ عام ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ ایسا کلینک جو ملکی قانون و ضابطہ کے مطابق اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک عزعز سے بیماریوں کے خلاف جہاد کر رہا تھا۔ بند کلینک کو سیل کرنے سے کتنی ساتھ خراب ہوئی ہے کون حساب دے گا۔ بلا وجہ جس کا روزگار چھین لیا جائے اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے؟ جو لوگ ہومیوپیتھی سے مستفید ہو رہے تھے ان سے ہومیوپیتھی دور کیوں؟ گرتی ہوئی ساکھ کو کون بچائے گا۔ ہومیوپیتھک اتائیت نہیں ، بند کلینکس سیل کرنا ظلم ہے ۔اس ظلم کے خلاف آواز نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی کیوں نہیں اُٹھاتی؟ نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی کے الیکشن میں حصہ لینے والی ہومیوپیتھک تنظیمیں کان کھول کر سن لیں اب عام ہومیوپیتھ کو الو نہیں بنایا جا سکتا۔کونسل کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز مستند ہے اتائی نہیں۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین