Breaking News

سوشل میڈیا پر نماز کا مذاق !

dr tasawar mirza
ڈاکٹر تصور مرزا

آج سوشل میڈیا ( فیس بک ) پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے ، جس میں کچھ لوگ ( دہشت گرد) جو نام کے مسلمان ہیں ۔ اسلام کی بنیادی رکن ’’ نماز ‘‘ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ بلا شک و شبہ انہوں نے نماز کا کیا مذاق اڑانا ہے اپنی بربادی کے پروانے پر دستخط کئے ہیں ۔
کتنے دکھ، درد، اور کرب کی بات ہے کہ دہشت گروں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر نماز جیسی عظیم عبادت کا تمسخر اڑایا ہے۔ پاکستان کے اہل علم،دانشور،با شعور،عالم، فاضل تو کیا مسلم دنیاکا ادنیٰ طالب علم بھی بخوبی واقف ہے۔ کہ کوئی مسلمان جیسا بھی ہو،کیسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوکسی بھی جماعت،ملک یا مسلک کا ہو کسی نبی، کسی الہامی کتاب کا مزاق اڑانا تو دورکی بات ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔پھر مسلمانوں کی عظیم عبادت نماز جو فرض ہے جو مومنوں کی معراج ہے۔وہ نماز جسکو حضور اکرم نور مجسم ﷺ اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہو۔جی ہاں یہ وہی نماز ہے جسکا سوال قیامت کے دن سب سے پہلے ہوگا۔ا? رب العزت مجھ گناہگار سمیت سب مومنوں کو نماز پنجگانہ جماعت سے ادا کرنے کی توفیق دے جو اللہ کی رضا کے لئے نماز ادا کرتے ہیں ان کی نمازیں قبول و منظور فرماکر امت محمدیہ اوروطن عزیزکو دشمنوں کی چالوں دشمنوں کے فتنوں دشمنوں کے حسدوں اوردشمنوں کے شروں سے محفوظ رکھے آمین۔
سوشل میڈیا پر نماز کا مزاق اڑانے والہ یہ ٹولہ کون ہے؟ یہ پیسے کے پجاری سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر مسلمان نہیں اور نہ ہی یہ انسان ہو سکتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ انسان نما بھیڑیئے ہیں۔پشاور آرمی سکول پر دہشت گردی کے حملہ نے جہاں معصوم پھولوں کا سینہ،چہرہ گولیوں سے چھلنی چھلنی کیا۔ معصوم بچوں کو زندہ جلایا گیا۔ننھے منھے فرشتوں کے پرخچے اڑائے گئے۔اساتذہ کرام کو نشانہ عبرت بنانے کے لئے پٹرول ڈال کرجلایا گیا تعلیم کے معماروں پر قیامت صغریٰ ڈھائی گئی جہاں اس حادثہ نے ننھے منھے فرشتوں کو جنت الفردوس میں پہنچایا وہاں اسی حادثہ نے پاکستانی کی غیور قوم کو بھی جگا دیااورانسانوں کے روپ میں درندوں کی پہچان بھی کروادی اور مسلمانوں کے روپ میں منافقوں کی حقیقت بھی دیکھا دی۔سلام ہے۔۔ پشاور کے ننھے منھے شہیدوں آپ پر اور آپ کے استادوں پر 16 دسمبر2014ء کا دن ہماری زندگی کا سیاہ ترین دن بن گیا 16 دسمبر2014ء کا دن ہی دہشت گردوں کے لئے بھی عبرت کا دن ہی ثابت ہوا۔اسی دن سے ہی ان درندوں کو بھی جہنم کی وادی پہنچایا جانے لگااور اسی دن سے لیکر آج تک پاکستان میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے گرد جیسا جیسا گھیرا تنگ ہو رہا ہے ویسے ویسے وطن عزیز پر امن ہو رہا ہے۔یہ پیسے کے پجاری غیروں کے اشاروں پر ہماری مقدس مساجد کو نشانہ بناتے ہیں۔ کتنے نمازی جام شہادت پی چکے ہیں۔ کتنے گھروں میں صف ماتم بچھائی ہے ان ظالموں نے۔کتنی ماوٗں کی گودیں اجھاڑی ہیں۔ کتنی بہنوں کے سروں کو ننگا کیا ہے۔یہ بھیڑیے انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔ یہ نام نہاد اسلام کے ٹھیکیدار اپنے جسم و لباس کو اسلام کے لبادھے میں اوڑھ کر سیدھے سادے لوگوں کو صرف بے وقوف ہی نہیں بنا رہے تھے بلکہ یہ دولت کے پجاری دونوں ہاتھوں سے وطن عزیز کو لوٹ کھسوٹ رہے تھے۔ اپنی مکرو فریب کی چالوں سے پاکستان کے مسلمانوں کی ذکواۃ،صدقات، خیرات اور مالی معاونت سب کچھ ڈکار کر ہمارے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے۔اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے ہمارے لئے ہر روز نئی مصیبت پیدا کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا پرجو ویڈیو اپلوڈکی گئی اس میں وہ دہشت گرد گروپ نماز، مسلمانوں،اللہ اور اللہ کے رسول اکرم ﷺ کا ٹھٹھہ مذاق کر رہے تھے در حقیقت اللہ رب العذت نے انکے چہرہ سے مسلمانوں، پاکستانیوں اور انسانوں والہ خول اتار کر ان کو ذلت رسوائی کی دلدل میں دھنسا دیا ہے تاکہ ذلت رسوائی انکا مقدر بنے اور مسلمانوں کی رقوم سے مسلمانوں پر ہی قیامت نہ بھرپا کرسکیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سوشل میڈیا پر انکے کارتوت انہی سے اپ لوڈ کروائے۔
جہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے کافروں اور منافقوں کا پتا لگایا جائے اور قانون کے مطابق ان کو عبرت ناک سزا دی جائے تا کہ اللہ پاک کے پسندیدہ دین فطرت ’’ اسلام ‘‘ کے بنیادی اور اہم رکن کی بے حرمتی نہ ہو سکے۔ وہاں ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے معصوم بچوں اور بچیوں کے دماغ اور عقائد ڈگمگا نہ سکیں۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین