Breaking News

ہماری مسجدیں

dr tasawar mirza
ڈاکٹر تصور مرزا

دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو مسجدوں کی اہمیت افادیت اور فضیلت نہ جانتا ہو۔ کسی بھی فرقہ زات سے تعلق ہو مگر ہر مسلمان بخوبی جانتا بھی ہے اور اس چیز پر ایمان بھی رکھتا ہے کہ مساجد کا مقصد اللہ پاک کی عبادت اور رسالتِ مآب ﷺ کی ختمِ نبوت کی تصدیق ہے ! ایمان
اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے مخصوص جگہ کو مسجد کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک کا خصوصی کرم اور آقا دوجہاں ﷺکے وسیلے سے امتِ محمدیہ کے لئے پوری زمین مسجد بنا دی گئی یعنی بوقت نماز مسلمان دنیا کے کسی بھی خطہ یا جگہ ہو وہ وہاں اللہ کی عبادت کر سکتا ہے۔ تاہم مسلمانوں نے خصوصی تعمیر سے ’’ اللہ پاک کی عبادت ‘‘ کے لئے اپنی سہولت کے لئے ہر جگہ ،گاؤں اور گلی محلہ میں مسجد یں بنا دی گئیں ہیں ۔جو بہت اچھا کام ہیں اور صدقہ جاریہ ہے۔ قرآن و حدیث میں مسجد بنانے والوں کی بہت بڑی فضیلت ہے
افسوس ہم نے مساجد کی پہچان ’’ اللہ کا گھر ‘‘ کی بجائے ، اپنے اپنے فقہ اپنے اپنے قبیلوں اور اپنی اپنی زاتوں سے کروا دی ہے ۔ جیسا کہ پاکستان کے کسی بھی شہر یا قصبہ میں کوئی ایسی مسجد نہیں جو اپنی مخصوص پہچان فرقہ پرستی سے نہ کروا رہی ہو مثلاً مسجد اہلدیث ، مسجد اہلِ سنت و الجماعت ، ہم نے مساجد کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے ایک حصہ فرقہ پرستی جیسا کہ یہ مسجد اہل حدیث کی ہے اور وہ مسجد بریلوی مکتبہ فکر کے لوگوں کی ہے۔ یہاں دیوبند وں کی مسجد ہے وہاں سپاہ صحابہؓ کی مسجد ہے ۔ کاش ہم نے مساجد کو فرقہ پرستی کی پہچان کی بجائے صرف مسجد کے نام ہی سے پہچان کروائی ہوتی۔فقی اختلافات سے انکار نہیں ، اگر بات یہاں تک بھی رہتی تو شاید امت مسلمہ کا زیادہ نقصان نہ ہوتا افسوس ہم نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے ۔ یہ مسجد صرف ۔۔۔۔۔۔۔ فقہ کی ہے ۔ متعلقہ فقہ کے علاوہ نمازی حضرات نماز ادا نہیں کر سکتے ۔
دوسری قسم کی مساجد اکثر دہیاتوں میں دیکھنے کو ملتیں ہیں ، مثلاً ارائیوں کی مسجد، مغلوں کی مسجد ، ملکوں کی مسجد ۔ راجگان کی مسجد وغیرہ وغیرہ !
مجھے ایک بارگاؤں کی ایک بہت بڑی جامع مسجد (جو زیر تعمیر تھی )کے محلے سے گزرنا ہوا۔ مستری مزدور کام کر رہے ہیں ۔ مسجد کے اندر سے آواز آرہی تھی ۔ یہ کوئی نائیوں کی مسجد نہیں یہ راجگان کی مسجد ہے۔ کسی کی جرت نہیں جو مسجد کے کام میں ٹانگ اڑائے ساتھ ٹھاہ ٹھاہ ہو ائی فارنگ۔یہ کوئی کمیوں کی مسجد نہیں ۔اگر کسی کو شک ہے تو سامنے آئے ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
کافی عرصہ گزر گیا مگر یہ آوازیں آج بھی کانوں میں سنائی دے رہیں ہیں ۔ایک مسجد میں
رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں سحری کے اوقات میں جو بندہ سحری کے لئے جگاتا تھا اس کو محض اس لئے منع کر دیا گیا کہ نیند خراب ہوتی ہے، جنہوں نے روزہ رکھنا ہوگا وہ اٹھ جائیں گئے ۔ ایک مسجد میں افطاری کا یہ پروگرام ہوتا ہے کہ مسجد کے متعلقہ تمام گھرانوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ فلاں دن فلاں گھر سے افطاری آئے گئی۔ اس طرح محلہ کے تمام گھر روزہ افطاری کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں جو بہت اچھی کاوش ہے۔
ایک مسجد میں افطاری کے موقع پر جانے کا اتفاق ہوا۔گرمی کی شدت کا روزہ تھا ایک صاحب نے گلاس میں افطاری کے لےئے پانی ڈالہ تو چند قطرے پانی گھر گیا۔اتنے میں وہ ہستی نمودار ہوئی جنکی فیملی کے نام پر مسجد ہے۔اللہ اللہ ۔۔۔ ناقابلِ بیان ۔۔۔ خیال آیا روزہ تو صبر کی تلقین دیتا ہے تاکہ متقی بن جائیں !
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جس خاندان کے کسی بزرگ نے اللہ کے لئے زمین عطیہ کر کے مسجد بنوا دی ہو تواس کی وفات کے بعد بھی مالک اُس خاندان اور فیملی کو ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ جب اللہ کے نا م زمین عطیہ کر دی جائے تو وہ خالصتاً اللہ کی ملکیت بن جاتی ہے اور بلخصوص مسجد تو ہے ہی ’’ اللہ کا گھر ‘‘
اگر اللہ کی رضا کے لئے مسجدوں کے لئے زمین یا دیگر سامان مہیا کیا جاتا ہے تو انسان کو اپنی پہچان کی بجائے اللہ پاک کی پہچان سے مسجدوں کو متعارف کروانا ہوگا۔ اکثرو بیشتر دیکھا گیا ہے مساجد کمیٹیوں میں وہ ہی لوگ ،خاندان شامل ہوتے ہیں اور انچارج بھی وہ ہی آدمی جس کے کسی بزرگ نے زمین کا عطیہ مسجد کے لئے دیا ہوتا ہے، حالانکہ وہ بے شک پانچ وقت کا نمازی نہ بھی ہو، کیونکہ امام مسجد کو رکھنا اور تنخواہ سمیت دیگر سہولیات مہیا کرنا ان کا کام ہے۔یہ اور بات ہوتی ہے کہ مسجد کے اخراجات اور سہولیات مہیا کرنے میں بہت زیادہ اجروثواب ہے اس لئے اہل محلہ اس فریضہ کو احسن طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں اور اب تو شعور آگیا ہے ہر مسلمان مسجدکے چندوں میں مسجد کی تعمیرو آلائش میں اور دیگر دینی کاموں میں اپنی ہڈی پسلی کے مطابق مالی اور اخلاقی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، اب تو مساجد کا فنڈز ہزاروں کی بجائے لاکھوں میں ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں مساجد کی کمیٹیوں کو فائلوں کی بجائے عملی طور پر فعل کرنا ہوگا ۔ ہر مسجد کی کمیٹی نمازیوں پرہیزگاروں اور صابروں شاکروں پر امام مسجد کی نگرانی قائم کرنی ہوگی اور ہر ماہ کے کسی مخصوص دن کسی نماز کے بعد ( اپنے اپنے علاقہ اور سہولت ) سب کے سامنے تمام اخراجات اور آمدن کا حساب کرنا ہوگاتاکہ انسان خطا کا پتلا ہے کسی جگہ کمی و بیشی کا احتمال نہ ہو سکے۔ اجلاس میں خریدی گئی اشیاء کے معیار اور قیمتوں پر غوروغوض کرنا اور آئندہ مسجد کی ضرورت کی اشیاء کو زیر بحث لانا۔ ایسا کرنے سے بداعتمادی کی فضا کم اور پیار و محبت زیادہ ہوگااور یہی پیار اسلام کی بنیاد اور امن کا ظامن ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں اسلامی جموریہ پاکستان کا بنیادی نظریہ اپنی آن بان اور شان کے ساتھ چمکتا دھمکتا نظر آئے تو ہمیں نسل پرستی زات پات کی تفریق سے بالاتر ہو کر اللہ اور پیارے رسولِ حضرت محمد ﷺ کے احکامات کے مطابق اللہ کے گھروں کی حفاظت اور خدمت کرنا ہوگی۔حکومت کو چاہیئے کہ مسجدوں کو آسان سے آسان طریقہ سے رجسٹرڈ کیا جائے ۔اور ہر مسجد کمیٹی کے چناؤ کا طریقہ جموری رکھا جائے اور یہ عمل کسی وڈیرے یا جاگیردار کے گھر کی بجائے متعلقہ مسجد میں کیا جائے تاکہ مسجدسے متعلقہ ہر خاص و عام شریک ہو سکے ویسے بھی اللہ پاک کے گھر سے بڑا گھر کسی انسان کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ہر مسجد کمیٹی کا چناؤ ایک سال یا دوسال کے لئے ہونا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسجدوں کو جاگیریں سمجھنے کی بجائے اللہ کا گھر سمجھا جائے اور جو غریب مسکین مسافر اللہ کی عبادت کی غرض سے مسجد میں آتا ہے اس کو اللہ کا مہمان سمجھا جائے اور اس سے اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے کیونکہ جو اللہ کی خاطر لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے روزِ قیامت اللہ اس کے عیبوں پر پردا ڈالے گا۔دوسری بات جب اللہ کو زمین عطیہ کر دی اور اللہ کا گھر تعمیر ہو گیا تو مالک وہ اللہ ہے۔ آذان کو ہم اگر اللہ کا دعوت نامہ تصور کریں ۔ آزان سُن کر جو بھی اللہ کے گھر عبادت کے لئے گیا وہ اللہ کا مہمان بن گیا۔
بحثیت انسان اگر ہمارے گھر دو مہمان تشریف لائیں اور ایک مہمان دوسرے مہمان سے زیادتی کرے تو ہم کیا کہتے ہیں ۔کہ تم نے میرے مہمان سے زیادتی کی ہے اس کا مطلب کہ تم نے مجھ سے زیادتی کی ہے؟ اللہ پاک غفور رحیم ہے۔ معاف فرمائیں ۔ اگر اللہ نے پوچھا کہ میرے گھر آئے مہمان سے تم نے زیادتی کیوں کی ہے؟ کاش ہم اتنا ہی سوچ لیں۔
قبل از وقت ! ہمارے حکمرانوں نے اس اہم اور سنگین مسلہ کی جانب توجہ نہ دی تو ۔۔۔ وہ وقت دور نہیں جب ۔۔۔ اسلامی جموریہ پاکستان میں نماز( عبادت) کے لئے جس طرح ہر فقہ کی مسجد لازمی ہے اسی طرح ہر زات ، نسل ( خاص طور پر غیر زمین داروں )کے لئے اپنی اپنی مساجد بنوانی لازمی ہوگئی۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین