Breaking News

لیلۃ القدر،قدر ومنزلت اور ذکر وفکر کی رات

abdul rehman jalalpuri
محمد عبدالرحمن جلالپوریؔ

نیکیوں کے موسم بہار، ماہ رمضان المبارک کا ہر دن اور ہر رات بابرکت ہے ، ہر دن اور ہر رات کی ہر گھڑی میں اللہ کے انوار وتجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ اس کا پہلا عشرہ (دس دن) رحمت والا، دوسرا عشرہ مغفرت والا اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی والا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی فضیلتوں میں ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں ایک ایسی بابرکت اور قدر ومنزلت والی رات ہے جس رات میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
ماہ رمضان المبارک کی اس رات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لیلۃ القدر یعنی قدر والی رات فرمایا ہے یہ قدر ومنزلت اور خیروبرکت کی حامل رات سال بھر کی راتوں سے افضل ہے۔ قرآن وحدیث میں اس رات کی بہت عظمت بیان کی گئی ہے اس سے بڑھ کر اس کی عظمت کیا ہوگی؟ کہ اللہ سبحانہ نے اس کے نام پر قرآن کریم کی ایک سورۃ مبارکۃ کو نازل فرمایا۔ اور اس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینوں کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں یعنی جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزاری اس نے تراسی سال چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزاردیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ ارشاد خداوندی ہے کہ ’’خیر من الف شہر‘‘ (القدر:۳) یعنی ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ کتنی بہتر ہے؟ اس کا اعلان نہیں فرمایا بلکہ اس رات میں کم از کم اجر کا تعین کیا اور زیادہ سے زیادہ اللہ کریم جتنا چاہے عطا فرمادے گا۔
لیلۃ کا مطلب ہے رات اور قدر کے چند معنی ذکر کیے گئے ہیں۔ ۱: تقدیر یعنی اندازہ کرنا، ۲: عظمت وشرف، ۳: تنگی (بابرکت مہینے ص279)
امام زہری فرماتے ہیں کہ قدر کے معنی مرتبہ کے ہیں چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف ومرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے اس لیے اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔
علامہ فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں اس رات کی عظمت کے بارے فرماتے ہیں کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قابل قدر کتاب قابل قدر امت کے لیے صاحب قدر رسول کی معرفت نازل فرمائی یہی وہ ہے کہ اس سورت میں لفظ قدر تین دفعہ آیا ہے (تفسیر کبیر 28:32)
اور اگر قدر کے معنی تنگی کے لیے جائیں تو اس کے بارے تفسیر الخازن میں علامہ علاء الدین علی بن محمد المعروف بالخازن فرماتے ہیں کہ ’’لفظ قدر تنگی کے لیے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس معنی کے لحاظ سے اس قدر والی رات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے (تفسیر الخازن، 395,4)
ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی رسول خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس مقدس رات کے بارے میں آگاہ فرمایا اور آمد رمضان میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اس قدر والی رات کی عظمت کا ذکر فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑابزرگ مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے یہ مہینہ بڑی برکت والا ہے اس ماہ (رمضان) میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔۔الخ‘‘ (شعب الایمان)
شب قدر امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازشات اور انعامات میں سے ایک ہے یہ بابرکت اور بے شمار خیروخوبیوں سے معمور رات صرف امت محمدیہ ہی کو عطا فرمائی گئی۔ سورۃ القدر کے شان نزول کو اگر بغور پڑھا جائے تو اس شب قدر جیسے بیش بہا انعام کا سبب سمجھا جاسکتا ہے ۔ اس سورہ مبارکہ کے نزول کے حوالے سے دوروایات ملتی ہیں
۱: امام مالک علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی امت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپ نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (موطا امام مالک۔ ص:260)
۲: حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا میں جہاد کے لیے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام کو اس پر تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی اور ایک رات شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا ۔ (سنن الکبر بیہقی، ج4، ص306)
اس قدر والی رات کے بارے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس رات کو ماہ رمضان المبارک کے آخرے عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو (مشکوۃ ، ۱,450) حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے باہر تشریف لائے اس وقت دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے آپﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا پس فلا ں اور فلاں آپس میں لڑ پڑے تو لیلۃ القدر کی تعین اٹھا لی گئی اور ہوسکتا ہے کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہو پس تم اس کو انیتسویں شب، ستائیسویں شب اور پچیسویں شب میں تلاش کرو۔ (بخاری، 2033)
ٍ اس حدیث کی شرح میں علامہ حجرعسقلانی لکھتے ہیں کہ صرف اس سال نبی کریمﷺ سے لیلۃ القدر کا علم اٹھالیا گیا اور دوسرے سال آپ کو پھر اس کا علم عطا کردیا گیا۔ (فتح الباری، 778,4)
شب قدر کو پنہاں اس لیے رکھا گیا کہ لوگ فقط اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادت کا اہتمام نہ کرتے۔ اب لوگ کم از کم آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں(۲) اگر شب قدر کو ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن وملال ہوتا اور دیگر راتوں میں دلجمعی سے عبادت نہ کرتا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضور نبی اکرم ﷺ رمضان المبارک کے آخرے عشرے کے لیے خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور آپﷺ کا معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تھا تو آپﷺاپنا تہہ بند مضبوطی سے باندھ لیتے اور راتوں کو ذکر خداوندی سے زندہ کرتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔ حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : ’’ رسول اللہﷺ (عبادت الٰہی میں) جتنا مجاہدہ ( کوشش) اس آخری عشرے میں فرماتے تھے، کسی دوسرے وقت میں ایسا مجاہدہ نہیں فرماتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اترآتے ہیں اور اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کررہا ہو (شعب الایمان: 3562)
لیلۃ القدر وہ رات ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بحالت ایمان اور ثواب کے ارادہ سے شب قدر میں قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری 270:1)
قیام سے مراد عبادت ہے یعنی جو شخص اس رات نوافل ، تلاوت قرآن مجید، ذکر وتسبیح اور صلوٰۃ ودعا اور انفاق فی سبیل اللہ میں مشغول رہے اس کے گذشتہ گناہ (صغیرہ) معاف ہوجاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ اس حدیث نبوی میں جہاں ذکر کیا گیا ہے کہ لیلۃ القدر کی مقدس ساعتوں میں ذکر وفکر، عبادت وطاعت میں مشغول رہو وہیں اس بات کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ آئندہ عہد کریں کہ برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا۔ لہٰذا مسلمانوں کو آخری عشرہ میں عبادت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ شب قدر کی عظمتون سے فیض یاب ہوسکیں اور خیر سے محروم نہ رہیں یاد رہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس رات کی محرومی کو تمام خیر سے محرومی قراردیا ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ آیا تو حضورﷺ نے فرمایا مومنو! تم پر یہ (رمضان کا) مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام خیر سے محروم رہا اور اس کی بھلائی سے وہی محروم رہتا ہے جو حقیقتاً محروم ہو (ابن ماجہ: 1644)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہ رسالت مآبﷺ میں عرض کیا اے والد محترم! ضعیف مرد اور عورتیں جو قیام نہیں کرسکتے وہ کیا کریں؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ وہ تکیہ رکھ کر ٹیک نہ لگاتے رہیں بلکہ اس رات ایک گھڑی بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرلیں تو یہ بات مجھے اپنی تمام امت کے ماہ رمضان کے قیام سے زیادہ محبوب ہے۔ (مکاشفۃ القلوب، 601)
اس خیر وبرکت اور یمن وسعادت کی رات میں کثرت سے نوافل ادا کئے جائیں ۔ سورۃ الزال جس کے پڑھنے کا ثواب آدھے قرآن کے برابر ہے (ترمذی) سورۃ اخلاص جس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (ابوداؤد) سمیت قرآن کریم کی دیگر سورتوں کی تلاوت کی جائے۔
ماہ رمضان المبارک کے قیمتی لمحات میں ہرشب قبولیت کی گھڑی آتی ہے لیکن ساری راتوں سے عظیم اور اعلیٰ رات میں اس گھڑی کا رنگ او رانداز ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور اس کے عطا کرنے کی نظیر نہیں ملتی اس کی شان اور تاثیر جدا ہوتی ہے اس لیے اس رات جب اللہ کی عبادت سے فارغ ہوکر اس کی بارگاہ ربوبیت سے مانگنے لگیں تو بری سرگرمی اور ذوق وشوق سے اللہ سے دعا کریں ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہﷺ! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں جان لوں کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو اس رات میں کیا دعا مانگوں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: کہ تم یہ دعا مانگو اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی (ترجمہ) اے اللہ، آپ بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا میرے گناہ بھی معاف فرما دیجئے (ترمذی 3515,5

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین