Breaking News

ننھی پری زینب کا عالم برزخ سے اپنے بابا کے نام خط

abdul shakoor abi hassan
عبدالشکورابی حسن

اسلام علیکم باباجان ۔امید ہے کہ آپ نے عمرہ کی سعادت حاصل کرلی ہوگی آپ کو عمرہ کی بہت بہت مبارک ہو ۔باباجانی آپ نے میرے لئے بہت سی دعائیں کی ہوں گی میرے مستقبل کے لئے میں ہمیشہ شاد وآبادرہوں۔باباجب سے آپ مکہ مدینہ گے میرا دل بہت خوش تھا کہ میرا بابا میرے لئے ڈھیر دعائیں مانگتاہوگا کہ میری زینب کو لمبی زندگی عطا کرے اور وہ ہمیشہ ہماری آنکھوں تارا بنی رہےل۔بابا جانی آپ نے میرے لئے خواب دیکھا ہوگا میری زینب لال جوڑا پہنے گی اور دلہن بنے گی بابا آپ کے خواب خواب ہی رہ گے ظالموں نے مجھے لہولہان کردیایکن بابا مجھے افسوس ہے کہ آپ کی دعا قبول نہیں ہوئی۔بابا آپ تو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تھے وہ تو جہالت دور کرنے آئے ان کے دور میں تو بیٹوں کو زندہ درگور کردیاجاتھا پھر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹوں کو رحمت کا درجہ دیا آپ اس مقدس جگہ پر تھے جہاں رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور مجھے اس معاشرے کے سپرد گے جہاں بیٹی کو بیٹی ۔بہن کو بہن نہیں سمجھا جاتا ہوس کے پوجاری دندناتے ہیں کسی کوکسی کااحترام نہیں ۔ آپ مجھے قصور شہر میں چھوڑ کرگے تھے جہاں بےقصور لوگوں کا ناحق خون ہوتاہے معصوم بچوں کی عصمتیں لوٹ لی جاتی ہیں بیٹیوں کو دن دھاڑے اغوا کرلیاجاتا ہے ان کے ساتھ زنابالجبر کرکے ان کو مار دیا جاتا اور پھر گندگی کے ڈھیر پر لاوارٹ پھینک دیا جاتاہے بابا جان میں بھی آپ کی عدم موجودگی میں اس ظلم کی بھینٹ چڑھ گی بابا جانی مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ انکل اس قدر انسان کے روپ میں درندہ ہوگا جس نے میری کوئی فریاد نہ سنی اور نہ میری معصومیت کو مدنظر رکھا ۔باباجانی میں معصوم بچی تھی اور آپ کی لاڈلی تھی مجھے ان اوچھے ہھتکنڈوں کا علم نہیں تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ انکل مجھے کس نیت سے اپنے ساتھ لے کر جارہاہے میں آپ کی دی ہوئی تربیت کی بڑوں کی عزت کرو میں تو انکل کے ساتھ پیار اوران کی میٹھی باتوں میں آکر ان کے ہمراہ چل دی لیکن باباجانی مجھے نہیں علم تھا انکل کوئی وحشی درندہ بن کر آپ کی عزت کو تار تار کرکے پھر وہ میری زندگی بھی چھین لے گا ۔بابا میں تو تیری لاڈلی زینب تیرے گھر کی رونق اور زینت تھی بابا آپ نے مجھے بہت لاڈ پیار سے پالا لیکن ان درندہ نما انسانوں کی بستی میں مجھے درندوں نے نگل لیا بابا تیری زینب تجھ سے بچھڑ گئی بابا جانی مجھے معاف کرنا میں تو معصوم اور چھوٹی تھی مجھے بابا اس وقت آپ کی شدت سے یاد آئی جب میں تن تنہا اس درندہ کی درندگی کاشکار ہوئی بابا جانی اس درندے نے میری نہ معصومیت دیکھی اور نہ ہی میری مجبوری ۔بابامجھے معاف کرنا تیری زینب آج لاوارث کوڑے میں بے یارومددگار پڑی رہی بابا جان آپ کو علم ہے کہ ایک زینب کربلا میں بھی تڑپتی رہی وہ بھی معصوم تھی وہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھی وقت کے درندوں نے اس زینب کو بھی معاف نہیں کیا وہ تن تنہا اس وقت بے یاروں مددگار سب کو پکارتی رہی اس وقت بھی زینب انصاف کے لئے چیختی رہی آج تیری زینب بھی تن تنہا مدد کے لئے کارتی رہی بابا نہ اس وقت زینب کی حرمت پہچانا گیا اور نہ ہی تیری زینب کی معصومیت کو۔بابا جانی میں کوئی مریم نواز ۔بختاور زرداری۔آصفہ زرداری جیسی نہیں تھی میں ایک غریب اور باریشں شخص کی بیٹی تھی بابا تیری رہ رہ یاد آتی رہی میری مدد کو کوئی نہیں آیا اب سب آپ کے پاس آئیں گے میرے لئے یا تیرے نہیں بلکہ اپنی اپنیبدکان چمکانے کے کئے ۔قصور کو جلا دیاجائے گا ہنگامے ہوں چے کئی غریب میری خاطر قتل ہوں گے زخمی ہوں گے جیل جائیں گے لیکن یہ چند دنوں کی بات ہوگی ۔باباجانی میرے قتل کے بعد آپ کو تسلیاں دینے والے بہت ہوں گے بابا میرے قتل کو ایک ایشو بنایا جائے گا لیکن سب بڑے بڑے اپنی سیاسی دکان چمکانے آئیں گے ۔بابا جانی آپ کو یاد ہو گا جنرل ضیاء الحق کے دور میں میری طرح کا پپوکیس بنا تھا اس وقت بھی درندوں نے پپو کو جنسی ہوس کے بعد موت کے گھات اتار دیا تھا اس وقت کے جنرل ضیا ء الحق نے پپو کیس کے تمام ملزمان کو سر عام پھانسی لگادی تھی ۔باباجانی انصاف کے تقاضے اب کون پورے کرے گا یہاں تو سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی سب ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کررہے ہیں لیکن سب تیری زینب کے لئے کریں گے؟بابا جانی کوئی میرے قتل کے مالی مدد کرنے آئے گا کوئی میرے قتل کے انصاف کے لئے سڑکوں پر آئے گا لیکن باباجانی مجھے پتا ہے کہ یہ چار دن کا شور ہوگا ٹی وی والے آئیں گے اینکر اسٹوڈیومیں بیٹھ کر اپنی ریٹنگ کے لئے پروگرام کریں گے گلےپھاڑ پھاڑ کرایک دوسرے کو برابھلا کہیں گے ۔بابا جانی میں صرف تیری زینب تھی تیرے دل کو ٹکڑاتھی تیری آنکھوں کا نور تھی ۔بابا سب کو اپنی اپنی پڑی ہے ان کے چکروں میں نہ آنا ۔اجلاس پر اجلاس ہوں گے جو سب وقت کے ساتھ دم توڑ جائیں گے کیونکہ اس پہلے بھی قصور میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں کس کو انصاف ملا ہے ۔بابا جانی کوئی جنرل ضیاء الحق جیسا ہی جنرل میرے قتل کا انصاف کرکے میرے قاتل اور درندہ صفت انسان کو سرعام پھانسی دے گا بس باباجانی انتظار کریں میرا خون رائیگاں نہیں جائےگا ۔بابا اپنی زینب کو معاف کردینا کیونکہ مجھے پتہ ہے آپ نے میرے لئے مکہ مدینہ میں بہت دعائیں کی تھی لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور منظور ہوگا بابا جانی صبر کرنا کیونکہ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
یہاں کویت میں ہونے والے واقعہ کا ذکر کرنا بجا ہوگاکویت میں 1995۔میں ایک ایرانی کویتی نے پاکستانی امام مسجد کی بیٹی کو اغوا کرکے اس کے ساتھ زناالجبر کیا اور اسکو صحرا میں جاکراس کی لاش کو دفنا دیا اس وقت کے حاکم وقت شیخ جابر الاحمد الجابر نے اس وقت وزیرداخلہ شیخ محمد الخالد الصباح کو کہاکہ 24گھنٹے کے اندر ملزم کو گرفتار کرنے کا ھکم دیا اگر ملزم 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو گرفتار نہ کیا تو اپنے آپ کو برخاست سمجھے 18گھنٹے کے بعد ملزم کو پولیس گرفتار کرلیااور اسے عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے اسے سزائے موت سنا دی

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین