Breaking News

کیاموجودہ حالات میں میگاکرپشن کاسدباب ممکن ہے؟

raja nusrat ali
راجہ نصرت علی

کرپشن انگریزی کالفظ ہے لیکن نئی نسل کیلئے یہ لفظ اتناعام فہم ہے کہ اس کے پنجابی یااردو متبادل کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔کرپشن کا لفظ شروع میں اسی اور نوے کی دہائی میں بڑی بد عنوانیوں یعنی اعلیٰ سطح کے لوگوں، سیاسی خاندانوں ، وزیروں اور مشیروں کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال ، بنکوں کے قرضے ہڑپ کرنے اور سرکاری پلاٹوں کی لوٹ گھسوٹ کے حوالے سے استعمال میں آتاتھا جو عام آدمی کیلئے مبہم اور سمجھ سے بالاباتیں تھیں۔یہ نحیف و کمزور موجودہ سیاسی عمل کا ہی ثمر ہے کہ بدعنوانیوں سے اٹے ہوئے سیاسی کلچر سے پردہ پوری طرح اٹھ گیاہے ۔ استحصال اور مفاد کی سیاست کے ماحول میں سیاسی لوگوں نے خود ہی ایک دوسرے کی کرپشن کو بے نقاب کردیا ۔ عام لوگ جو چاہ پانی والی کرپشن سے واقف تھے بڑی کرپشن سے بھی آگاہ ہوگئے ہیں۔ کرپشن کے چرچے تو بہت سنے گئے مگر بڑی کرپشن کے سدباب کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہ اٹھائے جانے کے باعث یہ ہر سطح پر سرایت کرتی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ آج کرپشن کی بڑے سے بڑی کہانی سے بھی لوگوں میں تعجب یا تشویش پیدا نہیں ہوتی ۔ پانامہ لیکس اس کی زندہ مثال ہے۔ اگرچہ یہ آئینی ، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے جرم ہی ہے لیکن پارلیمنٹ میں اس پرکوئی بات نہیں ہوئی البتہ نوازشریف کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے ردعمل آیا اور پاکستان تحریک انصاف نے تحریک بھی چلائی سپریم کورٹ آف پاکستان میں مقدمہ چلاجس کے نتیجہ میں وزیراعظم نوازشریف نااہل قرار پائے اور انہیں وزارت عظمیٰ چھوڑناپڑی۔ بہت ۔ حکومت کی کوئی بڑی مخالفت سامنے نہیں آئی جس کے رائے عامہ پر اثرات مرتب ہوتے۔ دوسری وجہ عمران خاں کاطرز سیاست بھی ہوسکتاہے جس میں انہوں نے حکومت کے دوسرے ہی سال 2013ء کے عام انتخابات کو ROsکے الیکشن قرار دے دیاتھااور یہ اکثر لوگوں کی نظر میں غیرموزوں طرزسیاست تھا چونکہ اس سے سسٹم کے خاتمہ کے خدشات پیدا ہو جانے کے باعث پارلیمانی پارٹیوں نے حکومت کا ساتھ دیناضروری خیال کیاتھا۔پانامہ لیکس کو بھی اکثر سیاسی پارٹیوں نے اسی تناظر میں لیا۔ اب پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کافیصلہ ہی اہم ہوگا جس کو پوری قوم قبول کرنے کیلئے تیار ہے ۔ دراصل جب بڑے صاحب اختیار لوگ بڑی کرپشن کیلئے چھوٹوں کو آلہ کار بناتے ہیں تو وہ بھی بڑوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دستیاب مواقع سے بلا خوف پیسہ بنانے لگ جاتے ہیں ان کی کرپشن جب ظاہر ہونے لگتی ہے تو یہ لوگ امکانی خطرات سے بچنے کیلئے اپنے محکمہ کے متعلقہ لوگوں اور ا نٹی کرپشن کے اداروں سے بھی خیرسگالی پیدا کرنے کیلئے اور زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا بدعنوانی ان کی مجبوری اور ناگزیرضرورت بن جاتی ہے ۔ کسی بھی عوامی خدمت کے دفتر میں جائیں آپ کو ملازمین کی بے حسی، تکبر، آپ کی حیثیت جاننے کاتجسس ، ٹالنے اور ٹرخانے والی گفتگو سے واسطہ پڑے گادراصل یہ رویہ ہی ہے جو سائل کو اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کرنے کا پیغام دیتا ہے ۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ کس اہلکار کے خلاف شکایت کا سائل کو فائدہ کی بجائے نقصان ہی ہوتا ہے چونکہ اکثر دیکھاگیاہے کہ سرکاری دفتروں کی بے جاضابطہ پرستی اور اہلکاروں کے رویہ کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے کام مشکل، پیچیدہ اور التواکاشکار ہوجاتے ہیں ۔ سرکاری اہل کاروں کے اس رویے سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ماحول میں دو نمبری اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش ہے ۔ بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوئی حکومتی اقدام مؤثر ثابت نہیں ہورہا اور پاکستانی معاشرہ بے یقینی، بے چینی اور بے بسی کی صورت حال سے دوچار ہے ۔ ہمارے ایک دوست عبدالغنی سند ھوبڑے بزنس مین ہیں مگربہت محب وطن ، دیانت دار اور محنتی ہیں معاملات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں انہوں نے راقم کو ایک ملاقات میں بتایاکہ انہیں گھر سے فون آیاکہ بلدیہ کے ملازم آئے ہیں سائن بورڈ کے بل کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے گھر والوں کو ہدایت کی کہ انہیں ان کا فون نمبر دے دیں اور بتادیں کہ وہ فارغ ہوکران سے خود رابطہ کر لیتے ہیں ۔بعد میں انہوں نے مذکورہ ملازمین سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کی اور بل کی تفصیل پوچھی۔ عبدالغنی سندھو مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے ادائیگی کرنے کی بجائے اہل کاران سے کہاکہ وہ اپنے دفتر سے ان کے خلاف عدم ادائیگی کانوٹس جاری کرادیں۔ایسا ہی ہواانہیں نوٹس آگیاتو سندھو صاحب نوٹس لے کر بلدیہ کے متعلقہ بڑے افسرکے دفترچلے گئے وہاں سے انہیں بتایاگیاکہ یہ نوٹس ان کے دفتر سے جاری نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے کہ گینگ کی صورت میں لوگ بلا خوف کس طرح عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک واقعہ دولت نگر میں پیش آیاکہ ایک شخص پولیس اہلکار کے تعارف کے ساتھ ایزی پیسہ کی دکانوں پر گیا اور بتایا کہ ڈی پی او نے ایزی پیسہ کی شاپس کی تفصیل مانگی ہے اور وہ دوکانوں کے مالکان اوران کے سیل ,فون نمبر نوٹ کر کے لے گیا۔ اس کے ایک دو گھنٹے بعد دولت نگر میں ایزی پیسہ کی چاروں دوکانوں پر فون آیاکہ ایس ایچ اودولت نگر تھانہ سے بول رہے ہیں اور انہیں پندرہ ہزار روپے فلاں نام پر بھجوانے ہیں ان کا شناختی کارڈ نمبراور سیل نمبربھی دیئے اور مزید کہا کہ وہ پیسے جلدی بھجوا دیں ان کا ملازم پیسے لے کر آرہاہے۔ چار میں سے تین دوکانداروں نے مذکورہ بالاایس ایچ او کی بار بار یا ددہانی کے باوجود پیسے نہیں بھیجے اورایس ایچ او کے پیسے لے کرآنے والے ملازم کا انتظار کیا البتہ ان میں سے چوتھے دوکاندار وقار شیخ نے پندرہ ہزار روپے دیئے گئے پتہ پر بھیج دیئے ۔ ایس ایچ او کافون آنے پر انہیں بتایاگیاکہ ان کے پیسے بھیجے گئے ہیں تو انہوں نے پندرہ ہزار روپے ایک دوسرے شخص کوبھی بھیجنے کی درخواست کردی اور کہاکہ تیس ہزار روپے آپ کو پہنچ جاتے ہیں ۔ شیخ وقار نے پندرہ ہزار روپے مزید بھیج دیئے۔شام تک پیسے آنے کا انتظار کیا لیکن کوئی پیسے دینے نہیں پہنچا ۔ شیخ وقارتھانے پہنچے اور ایس ایچ او کو پیسوں کا یادکرایا۔ شیخ وقار کو ایس ایچ او نے بتایا کہ انہوں نے تو کوئی کسی کو نہ پیسے بھجوائے ہیں اور نہ کسی کوفون کیا ہے یہ کسی نے دھوکہ کیاہے۔ شیخ وقار نے تھانہ میں اس کی رپورٹ بھی درج کرائی لیکن پولیس فراڈ کاکوئی سراغ نہیں لگاسکی اور اس کے بعد بھی ایساہوتارہالیکن دوکاندار محتاط ہوگئے ہیں ۔اسی طرح لوگوں کو روزگار دلانے کاجھانسہ دے کر پیسے بٹورے جاتے ہیں اور کسی کی پکڑ نہیں ہوتی۔ اکثر دیکھنے میں آیاہے کہ مظلوم اپنی داستان چھپاتاہے اور بتاپولیس یا دیگر سرکاری اہل کاروں کی زیادتی کے خلاف شکایت کرنے سے خوفزدہ ہوتاہے چونکہ اسے انصاف ملنے کی توقع سے زیادہ انتقام کاخوف ہوتاہے۔ کوئی پانچ تھانوں کاایک ایک ماہ کا جنسی ہوس یازیادتی کے شکار بچوں یاعورتوں کا ریکارڈ کاجائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ کس طرح مظلوم کوراضی نامہ یامنہ بند کرنے پر مجبور کر دیا جاتاہے ۔ جنسی زیادتی کے زیادہ تر کیسز پولیس تک لائے ہی نہیں جاتے ہیں وہ کیوں نہیں؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔ لوگ خود انتقام لیتے ہیں یادرگزر کرتے ہیں ۔ اس کی ذمہ دار صرف پولیس نہیں ہوتی۔ جب قوم اخلاقی لحاظ سے کمزور ہوجاتی ہے اور سیاسی قیادت دیانت اور بصیرت سے عاری ہوتواصلاح احوال کیلئے کسی قسم کے اقدامات کارگر ثابت نہیں ہوتے۔سرکار کا ہر نیاقانون یاحکمنامہ کرپشن کی نئی راہ کھولتا ہے۔ کرپشن کا بہترین سدباب عوام ہی کرپٹ سیاسی پارٹیوں کو ووٹ نہ دے کرہی کرسکتے ہیں۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین