Breaking News

کوٹلہ برادران کی قابل تقلید عوامی سیاست تحریر

raja nusrat ali
راجہ نصرت علی

نئی نسل کوٹلہ برادران کو ان کی عوامی خدمت، علاقہ کی ترقی اور نہایت مثبت سیاست کے حوالے سے جانتی ہے انہوں نے اپنی حیثیت، خاندانی ساکھ ، تعلقات اور ڈیرہ چوہدری عبدالمالک کو وسیع تر عوامی مفاد کیلئے وقف کر رکھاہے ۔ ان کے سیاسی عروج میں ان کی بہترین کارکردگی کا عمل دخل توہے ہی لیکنان کا رکاوٹوں اوررقابتوں کوعبور کرتے ہوئے تیزی سے صوبائی حلقہ سے قومی اور پھر ضلع کی سیاست میں مقام حاصل کرلینا نہ صرف ان کے منفرد اور غیرمعمولی ہونے کامظہر ہے بلکہ مبصرین ان کی جمہوری اور مثبت سیاست کو مزید پھلتا پھولتادیکھ رہے ہیں ۔ موجودہ حالات میں سیاست کے میدان میں ان کاکوئی مقابلہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کرپشن یاسیاسی حیثیت کے غلط استعمال کی کو ئی نظیر سامنے آئی ہے کہ کسی کو ان کے خلاف بولنے یا الزام لگانے کاجوازملے۔ لیکن پھر بھی گذشتہ پانچ سالوں میں ان کے حریف اور رقیب انہیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں مثلاً چوہدری عابد رضاکے خلاف مقدمات قائم کرنے ، فرقہ ورانہ تعصبات ابھارنے اورپریس کانفرنسز کاسلسلہ جاری رہا ۔ 2013ء کے انتخابات کیلئے چوہدری عابد رضا کو اپنی ٹکٹ اور اپنے بھائی کی ٹکٹ کیلئے پارٹی کے اندر سے مخالفت کاسامناکرناپڑا۔ بلدیاتی انتخابات میں حلقہ این اے107میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھنے کے بعد انہوں نے اپنے بھائی چوہدری محمد علی تنویر کو چیئرمین ضلع کونسل کی نشست کیلئے بطور امیدوار پیش کیاتوپارٹی ٹکٹ بھی آخر دم تک غیریقینی اور الیکشن میں جیت بھی کوئی آسان دکھائی نہ دیتی تھی یہ بڑا معرکہ تھا چونکہ ضلع کونسل کی چیئرمین شپ کسی سیاسی خاندان کیضلع کی سطح پر سیاسی حیثیت اور اہمیت کی مظہر ہونا تھی۔ تاریخی اعتبارسے نوابزادگان اپنے روایتی حریفوں کے خلاف ضلع کونسل کی چیئرمین شپ کیلئے میدان میں نہ اترنے کوشاید مناسب نہ خیال کر رہے تھے اور شرافت اور دیانت کی سیاست اورخاندانی پس منظر کی بناپر ضلع میں اپنی سیاسی برتری قائم کرنے کی کوشش ان کے شایان شان بھی تھی لہٰذاانہوں نے نوابزادہ طاہرالملک کو بطور امیدوار پیش کیا ۔ دوسری طرف چوہدری برادران تھے جن کیلئے یہ الیکشن کئی لحاظ سے اہم تھا یہ ایک موقع تھا کہ وہ ضلع میں اپنی سیاسی برتری ثابت کرکے قومی سیاست میں اپناوزن بڑھاتے۔ چونکہ ضلع کونسل کے چیئرمین کے انتخاب کیلئے ووٹر ز ضلع کے یوسی چیئرمین اورممبر ضلع کونسل تھے لہٰذا چوہدریوں کے تجربہ، تعلقات اور دوراقتدار کے دوستوں سے تعاون کے امکانات ایسے پہلوتھے جن کی بناپر مبصرین ان کی جیت کوبھی بعید خیال نہ کررہے تھے ۔چوہدری برادران جو امیدوار سامنے لائے تھے اس سے بھی ان کیلئے اس الیکشن کی اہمیت اور کامیابی پراعتماد کا اندازہ کیاجاسکتاتھا۔ تاہم کوٹلہ برادران کاانحصار ضلع میں ان کی کارکردگی کی بناپر ساکھ، عوامی خدمت اور پارٹی ووٹ پرتھا۔ لہٰذا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کسی قسم کا خطرہ مول نہ لیا اور وہی کیا جو موزوں تھا ۔ ٹکٹ چوہدری محمد علی تنویر کو ملا اور وہ جیت گئے۔
2008ء کے انتخابات میں چوہدری عابد رضاکے امیدوار کی کامیابی دراصل ڈیرہ چوہدری عبدالمالک کی کامیابی تھی۔ علاقہ کے عوام نے توچوہدری عبدالمالک مرحوم ، ان کے بیٹے چوہدری عبدلخالق مرحوم کی تحسین اور خاندان کی عوام دوستی کے اعتراف کے طورپر ووٹ دیئے تھے لیکن کوٹلہ برادران نے ثابت کیاکہ وہ اپنے اکابرین کے محض وارث نہیں بلکہ وہ اپنے خاندان کی عوام دوستی نبھانے کیلئے پرعزم بھی ہیں اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ حلقہ پی پی 115میں کوٹلہ برادران نہ صرف عوامی توقعات پر پورے اترے بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے بھی کوٹلہ برادران خصوصی طور پرچوہدری عابد رضا کی عوامی مقبولیت اور علاقہ کی سیاست میں درپیش سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بھانپلیا ۔
شریف برادران ضلع گجرات میں اپنے حریفوں کی طاقت اور تجربہ سے پوری طرح آگاہ تھے اورپارٹی کاضلع میں تسلط قائم رکھنے کیلئے یقینی طور پرانہیں گجرات میں چوہدری عابد رضاجیسے مردمومن کا مل جانا بڑا نیک شگون تھا لہٰذا انہوں نے جیسے ان سے کام لینے اور کسی بھی معاملے میں ان کی حوصلہ شکنی نہ کرنے کی ٹھان لی ہو ۔ حالات سے بھی ثابت ہیکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میرٹ پر چوہدری عابدرضا پر مہربان رہی ۔ 2013ء کے عام انتخابات میں سالارقافلہ کے عزائم حلقہ پی پی115 تک محدود نہ تھے اورنہ ہی ان کی سیاسی دوڑ برادری، دھڑے ، علاقہ کی محض چودہراہٹ کیلئے تھی بلکہ وہ اور ان کے بھائی حقیقی جمہوری اورقومی سیاست کانمونہ پیش کر تے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے تھے ۔ وہ ا ین اے107کاٹکٹ اپنے لئے اور پی پی 115کاٹکٹ اپنے بڑے بھائی چوہدری شبیراحمد کیلئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ دونوں بھائیوں نے بالترتیب ایم این اے اور ایم پی اے بننے کے بعداپنے اپنے ڈومین میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ۔چوہدری عابد رضا نے حلقہ پی پی114 میں تعلقات کووسعت دی عوامی امنگوں کے عین مطابق کام کیا ۔ چوہدری شبیر احمدزمانہ طالب علمی سے ہی یورپ چلے گئے تھے اور ان کے خاندانی پس منظر کے باعث بیرون ملک پاکستانی خصوصاً گجرات کے لوگ انہیں ایک لیڈر کی نگاہ سے ہی دیکھتے تھے وہ بھی فطرتاً عوامی ذہن کے آدمی ہیں دوسروں کے کام آتے تھے پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہتیتھے اور پاکستان آتے تو بھی بیرون ملک پاکستانیوں میں ہی گھرے رہتے ۔ الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے حلقہ کے مسائل میں کافی دلچسپی لی۔ ڈیرہ پر لوگوں کو پورا وقت دیااور لوگوں کی شکایات اور مسائل کافوری نوٹس لیتے رہے ۔حلقہ کادورہ بھی کرتے ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی ان کے ایم پی اے بننے کابڑا فائدہ ہوا۔ مجموعی طورپر وہ سیاست میں شرافت، صداقت ،نفاست ، دیانت اور جمہوریت کے علمبردار ہیں انہوں نے اپنے آپ کو بہت تحمل مزاج، عوام دوست، معاملہ فہم ، انتہائی زیرک اور مدبر سیاستدان ثابت کیاہے۔ پارٹی کی زبردست ترجمانی کرتے ہیں حریفوں اور رقیبوں کے غیرسیاسی حربوں کاتوڑ بھی نہایت تحمل کے ساتھ مثبت سیاست سے کرتے ہیں۔
چیئرمین ضلع کونسل چوہدری محمد علی تنویرکا شروع سے ڈیرہ کی کارکردگی میں بڑا فعال اورمؤثر کردار رہاہے پنجایتی نوعیت کے تمام معاملات ، لوگوں کے باہمی تنازعات اور بلدیاتی مسائل کوزیادہ تر وہی نمٹاتے رہے ہیں ان کی قوت فیصلہ ، اعتماد، غیرجانبداری اور اخلاقی جرأت بڑی مسلمہ ہے ۔ جب یہ یوسی کوٹلہ میں چیئرمین کاالیکشن جیتنے کے بعد چیئرمین ضلع کونسل کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے تو وہ اپنے انہی اوصاف کے باعث فیورٹ تھے۔ضلعی چیئر مین بننے کے بعد انہوں نے بلدیاتی ترقی کے دوماڈل پیش کیے ہیں جوان کے ویژن کے عکاس ہیں ایک ماڈل ویلیج کااور دوسرا ماڈل یونین کونسل کا۔ عملی آدمی ہیں وہی کہتے ہیں جو کرنا ہوتاہے بڑے پختہ عزم اور سچے انسان ہیں اور میڈیاکے مؤثر اورفعال کردار کے قائل ہیں۔ چوہدری آصف رضا کی بھائیوں کی سیاسی معاونت قابل ستائش ہے۔
دراصل کوٹلہ برادران کی کامیابیوں میں ان کے ڈیرہ کی بنیادی حیثیت ہے یعنی عوامی فلاح کی جدوجہد میں چوہدری عابد رضاکیپیشوائی میں چاروں بھائی پوری طرح شامل ہیں ۔ ڈیرہ کے منتظم، ملازمین ، رضاکاران اور ڈیرہ پر موجودکوٹلہ برادران کے عزیزواقارب کا عوام دوست رویہ بھی ان کی سیاسی پرواز کیلئے بڑی اہمیت کاحامل ہے ۔ ڈیرہ پر نماز کے قیام کامکمل اہتمام،علاقہ کی تعمیروترقی، عوامی شکایات اور اس حوالے سے سرکاری دفاتر کوبھیجی گئی سفارشات کاکمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، میڈیا کوآرڈینیشن اور دفتر کی دیگر سہولتیں دیکھ کریہ احساس ہوتاہے کہ ڈیرہ چوہدری عبدالمالک (مرحوم) روایتی ڈیروں سے بالکل مختلف جدید سہولتوں سے آراستہ پبلک سیکریٹریٹ کی تصویر پیش کرتا ہے۔
عام طورپر ڈیرے جمہوری سیاست کی ضد اور پاورپالیٹکس کی علامت خیال کیے جاتے ہیں ماضی میں ہر علاقہ کے بااثر لوگوں کیلئے ڈیرہ داری ضرورت رہی ہے ۔ ڈیرہ داروں کی باہمی رقابتوں اور دشمنیوں نے ڈیروں کی ساکھ کوخراب کیا البتہ ڈیرے پنجایتوں کامرکز بھی رہے ہیں اور ان پرمظلوم کی داد رسی بھی ہوتی رہی ہے۔ ڈیرہ چوہدری عبدالمالک مرحوم ایک ایسا ہی عوامی ڈیرہ تھا جس کے ساتھ علاقہ کے لوگوں کی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔
کہتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا خصوصاً ہمارے سیاسی ماحو ل میں جہاں سیاسی مخالفت کی بجائے غیر سیاسی حربوں کابلاتامل استعمال بڑا المیہ ہے ۔اگرچہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے نااہلی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی عوامی حمایت پر بظاہرکوئی اثر نہیں پڑالیکن وہ اپنے مینڈیٹ کی توہین کارونارورہے ہیں اور چوہدری عابد رضا کوبھی گذشتہ پانچ سال سے مقدمات کاسامناہے البتہ وہ اس وقت حلقہ کے عوام کے مقبول ترین قائد ہیں اور عوامی سیاست کا جونمونہ ان بھائیوں نے پیش کیاہے وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اہل دانش عوامی مینڈیٹ کے احترام کیلئے خصوصی قانون سازی کی ضرورت محسوس کریں تاکہ کام کرنے لوگوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاسکیں ۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین