Breaking News

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا

qamar siddiqui
قمر صدیقی

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے خوب غور سے دیکھنے پر پتا چلاکہ یہ تو چوہے دانی ہے۔ خطرہ بھانپنے ہی اس نے گھر کے پچھواڑے جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوہے دانی آ گئی ہے۔کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا میاں مجھے کیا؟
مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
چوہا بڑا مایوس ہوا مایوسی کے عالم میں اس نے سوچا کہ مرغ سے مدد لینا چاہئے ممکن ہے وہ کوئی مناسب مشورہ دے وہ مرغ کے پاس پہنچا اور اپنا مسئلہ اس کے گوش گزار کر دیا ۔ ساری بپتا سن کر مرغ نے بھی مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ چوہے کی مایوسی اور گہری ہو گئی اس نے باڑے میں جا کر یہی بات بکرے کوبتانے کی ٹھانی ۔ بکرے نے چوہے کی پریشانی سنی تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ اسی رات چوہے دانی سے کھٹاک کی آواز آئی ایک زہریلا سانپ اس میں پھنس گیا تھا۔اندھیرا بہت شدید تھا کسان کی بیوی نے سانپ کی دم کو چوہا سمجھ کر شکنجے سے نکالنے کیلئے پکڑا ہی تھا کہ سانپ نے اسے ڈس لیا۔طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے کبوتر کی یخنی تجویز کی،کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا کہ یہ پریشان کن خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار تیمار داری کو آ پہنچے ان کی خاطر داری کیلئے مرغ کو ذبح کیا گیاکچھ ہی دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ...کفن دفن کے بعد تعزیت کیلئے آئے لوگون کی ضیافت کیلئے بکرا ذبحہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ...... جبکہ چوہا کہیں دور، بہت دورجا چکا تھا ...کبھی کوئی آپ کو اپنا مسئلہ بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو نہ صرف سوچئے بلکہ محسوس کیجئے کہ ہم سب خطرے میں ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ.سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....ذات، مذہب اور طبقوں کے دائروں سے باہر نکلیں۔خود تک محدود مت رہیں دوسروں کا احساس کریں۔ پڑوس میں لگی آگ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
روڈ پر آتے جاتے بارہا دیکھا ہے کہ کہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے ، آگ لگ جائے ، کسی کے ہاں چوری ہو جائے ، کسی کا نقصان ہو جائے ، کوئی ناکردہ جرم میں پھنس جائے ، اچانک بیمار ہو جائے ، کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جائے حٹٰی کہ کوئی جان سے ہی کیوں نہ گذر جائے ہمارا اجتماعی عمومی رویہ ایک جملے سے اظہر من الشمس ہے ۔ یورپین کی طرح کندھے اچکائے اور یہ کہہ کر پاس سے گذر گئے کہ (سانوں کیہہ )ہمیں کیا ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ کل کو یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے اور لوگ یہی فقرہ کہہ کر پاس سے گذر سکتے ہیں یا گذر جائیں تو ہمارے دل پر کیا بیتے گی کیا ہمیں یہ سب اچھا لگے گا جواب یقیناًنہیں میں ہوگا ۔ تو جو ہمیں پسند ہے ہم دوسروں کے لئے کیوں ناپسند کرتے ہیںیاجو ہمیں نا پسند ہے وہ ہم دوسروں کیلئے کیوں روا رکھتے ہیں یا پسند کرتے ہیں آج بھی پوری قوم خطرے میں ہے پانامہ لیکس کا صدیوںیاد رکھا جانے والا تاریخی فیصلہ سنا دیا گیا ہے ۔ قوم اس پر ہنسے یا روئے یہ ایک الگ معاملہ ہے مگر ہماری اجتماعی بیگانگی اور مینوں کیہہ یا سانوں کیہہ والا رویہ ہرگزمناسب نہیں ہے یہ بات صاحبان اقتدار سے لے کر عام آدمی تک سوچی جانی چاہئے کیونکہ
جو آج صاھبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
حکومت رہے یا نہ رہے۔ نواز شریف اور عمران خان جیتیں یا ہاریں
لمحۂ فکریہ ، یہ ہے کہ عدلیہ ، عدل کو رواج دے رہی ہے یا ظلم کو اور ادارے جس کام کیلئے بنے ہیں کیا وہی سرانجام دے رہے ہیں اگر تو جواب ہاں میں ہے تو الحمدللہ (جو کہ ہرگز نہیں ہے) اور اگر جواب نہ میں ہے تو پھر من حیث القوم بارِدگر اپنے رویوں پر نظر ثانی کی جانی چاہیئے14,15 سو سال سے ہمای قوم کا انتہائی مؤثر و ذمہ دار طبقہ یعنی مبلغین (بلا تخصیص مسلک و مکتبۂ فکر)کربلا کے تناظر میں ہمیں مصائب اور پانی کی عدم دستیابی کے قضیہ میں الجھائے ہوئے ہیں کہ جیسے کربلا کا مرکزی نکتہ پانی کی دتیابی و عدم دستیابی ہی تھا ان کی غالب تعداد نے حسین ؑ کی نیت یا فلسفۂ کربلا پر بات کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔کہ قوم رسولِ ہاشمی کی تربیت یا، رہنمائی جیسے ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں
حسینؑ زندہ باد اور یزید مردہ باد ۔ اگر ان کے لبوں کی زینت ہے تو محض اس لئے کہ یہ ان کی کاروباری ضرورت ہے ورنہ کیا یہ ووٹ ہو یا بیعت کی مماثلت ، یا اہمیت بتلا یا جتلا نہیں سکتے تھے عوام کو نور و بشر اور حاجضر و غیب کے دقیق مسائل میں الجھانے کی بجائے کیا یہ خطبۂ جمعہ یا دیگر موقعوں پر بتا نہیں سکتے تھے کہ دیکھو ووٹ اور بیعت کے الفاط مختلف ہو سکتے ہیں مگر ان کے مفہوم میں ذرّہ بھر فرق نہیں اور یہ پانی کی دستیابی یا پیاس کا معاملہ نہیں بلکہ ووٹ کی حرمت کا سوال تھا جس کی خاطر امام حسین ؑ نے وطن وگھربار چھوڑا ، اور نہ صرف دنیا کی سب سے اہم مسجد کے محراب و منبر کو چھوڑا بلکہ ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر جیسی بڑی خانقاہ کی مسند نشینی ترک کی ، بیٹے ، بھتیجے، بھانجے، بھائی حتٰی کہ اپنی جان کی قربانی دیتے ہوئے رسمِ شبیری کی بنا و بنیاد رکھی ہم وہی ووٹ چند روپوں کی خاطر ظالم و جابر کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں کیا یہی حسینیت ہے ؟؟

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین