Breaking News

دس روپے۔ کالی بلی اور نیب

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

آج میں ایک شاپ پر بیٹھا تھا کہ ایک سات، آٹھ سال کی بچی آئی۔ ا یک شیٹ لی اور دکاندار کو 10 روپے دے کر فوراً بھاگ گئی کسی نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ دکاندار نے جب بچی کے 10 روپے کھولے تو اس نے مسکراتے ہوئے ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھری اور بڑے غور سے مجھے دیکھنے لگا۔ مین پوچھا بھائی خیر تو ہے۔ اس نے جواب دینے کی بجائے 10روپے کا نوٹ میری طرف کردیا۔ میری کیفیت بھی اس جیسی ہی ہوگئی۔ ایسا تھا کہ اس نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر کے چہرے پر نیلی بال پوائنٹ سے لکیریں لگائی گئی تھیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کے والدین اس بچی کو کیا تربیت دے رہے ہیں۔ کہ بے ایمانی کرو۔ دھوکے بازی کرو۔ اس کے ننھے ذہن کی تربیت کسی طرف کی جارہی ہے۔ جب یہی بچی بڑی ہو کر ایسا کر ے گی تو والدین یہ کہیں گے کہ ہماری بچی بگڑ گئی ہے۔ مگر کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ہم نے صرف دس روپے کے لئے اس کی تربیت و اخلاق کو بگاڑا تھا۔ ہم اس کے بگڑنے کے ذمہ دار ہیں۔ کاش والدین ایسا کرنے سے پہلے سوچیں۔ کہ وہ آج کیا بو رہے ہیں۔ جو کل ان کے لئے کاٹنا مشکل ہو جائے گا۔ اور پھر یہی والدین جو اس بات پر آج خوش ہوں گے۔ کہ ہماری بچی کمال ہوشیار ی سے نہ لگنے والے 10 روپے لگا آئی ہے۔ اور وہ نا سمجھ اور نادان بچی بھی بڑی خوشی سے والدین کو بتا رہی ہوگی کہ میں نے کیسے دکان والے انکل الو بنایا۔ مگر کل کو یہ والدین ہی اس بچی کے رویہ کی شکایت کر کے روئیں گے کہ ہماری بچی خود سر ہو گئی ہے۔ مگر وہ کبھی یہ تسلیم نہیں کریں گے، کہ اس کے خود سر ہونے میں ہمارا اپنا ہی قصور ہے۔ ہم نے خود ہی اپنے پاؤں پر کُلہاڑی ماری تھی۔ اور آج اس کلہاڑی کے زخموں سے بد بودار خون رسنا شروع ہو گیا ہے۔
دوستو میرا موضوع کچھ اور ہی تھا مگر ہر کام ہماری مرضی اور منشاء سے نہیں بلکہ اللہ کی مرضی و رضا سے ہی ہوتا ہے۔ ایک ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا ۔ جس پر الزام تھا کہ اس نے روٹی چوری کی ہے۔جج نے پوچھا کہ تم اپنے اوپرلگنے والے الزام کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے چوری کی ہے۔ جج نے کہا کیا تم اس بات کا اقرار کر رہے ہو کہ میں چور ہوں۔ اس نے کہا جج صاحب اگر میں روٹی چوری نہ کرتا تو مر جاتا۔ کیونکہ میں بھوکا تھا۔ اور غریب و لاچار ہوں پیسے میرے پاس نہیں تھے۔ اس لئے چوری کی ہے۔ جج نے کہا کہ تم کو اس بات پر 100 روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ اس نے کہا جناب میں کہاں سے دوں گا 100 روپے میں غریب و لاچار ہوں۔ جج نے کہا کہ تم نے جرم کیا ہے۔ لہذا تم کو جرمانہ ادا کر نا ہوگا۔ مگر وہ جرمانہ تم نہیں میں ادا کروں گا۔ یہ کہ کر اس نے اپنی جیب سے 100 روپے نکال کے سرکاری خزانے میں جمع کروا دئیے۔اور کہا کہ میں شرمندہ ہوں تم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہوں۔ جہاں کا حاکم تمہیں روٹی نہیں دے سکتا۔جج نے عدالت میں موجود تمام لوگوں کو کہا کہ تم سب کو 100, 100 روپے جرمانہ کیا جاتا ہے کہ تم اس معاشرے کا حصہ ہو۔ جو ایک غریب و لاچار کو ایک روٹی نہیں دے سکتا۔ وہاں پرموجود لوگوں سے 4000 روپے جمع ہوئے۔ جو جج نے اس غریب بوڑھے کو دے دئیے۔
ہمارے ملک میں آج کا کل بقول صاحبزادہ سابق وزیر اعظم نیب کالی بلی پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور وہ برطانوی شہری ہیں۔ ان پر اس ملک (یعنی پاکستان) کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اور مریم نواز بھی یہ سٹیٹمنٹ دی چکی ہیں کہ میرے دونوں بھائیوں پر اس ملک کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ باپ پاکستان کا وزیر اعظم۔ چچا وزیر اعلیٰ اور باقی خاندان کے لوگو بھی پاکستان میں حکومت کرتے ہیں۔ مگر ان دو صاحبوں پر پاکستان کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایک یاداشت آپ کے دماغوں میں لانا چاہوں گا۔ جب ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا دیا تھا۔ تو اس وقت بڑے شور اُٹھا تھا کہ یہ پاکستان کا نہیں کینڈا کا شہری ہے۔ اور حکومتی وزیروں مشیروں۔ مشیروں کے مشروں نے کیا کیا کہا مگر آج جب اپنے اوپر آئی تو کوئی کچھ نہیں بول رہا۔ یہ دونوں پیدا پاکستان میں ہوئے۔ کھایا پیا پاکستان کا۔ جب باپ اور چچا کو حکومت ملی تو یہ دونوں سرکاری پروٹوکول میں آتے جاتے رہے۔ اس وقت یہ کس قانون کے تحت یہ سارا پروٹوکول لیتے رہے۔ یہ پاکستان شہری تھے تو پیسہ پاکستان سے باہر لے گئے۔ سب کچھ پاکستان کا کھایا پیا اور ہضم کیا۔ مگر اب جو غلط کھایا پیا۔ اس کو درست کر نے کا وقت آیا تو ان کو یاد آگیا کہ یہ پاکستان کے نہیں برطانیہ کے شہری ہیں۔ مگر نیب جس کالی بلی کو پکڑ رہی ہے۔ وہ کالی بلی شکنجے میں آچکی ہے۔ بس انتطار اس بات کا ہے کہ اس بلی کو بلونگڑوں سمیت پکڑا جائے۔ تاکہ کالی بلی کا کوئی اور کالا بلونگڑا پیدا نہ ہوجائے۔اور پھر اس کالی بلی کے بلونگڑوں کے کل میں گھنٹی اچھی طرح باند ھ دی جائے۔ تاکہ یہ جہاں بھی جائیں۔ وہ گھنٹی ان کے گلوں سے اُتر نہ سکے بلکہ اس گھنٹی کی ٹن ٹن سب کو بتائے کہ یہ کالی بلی نیب نے پکڑی تھی اور اس کے گلے میں گھنٹی بھی محب وطن پاکستان کے رکھوالوں نے باندھی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے۔ جھوٹ کبھی چھپائے نہیں چھپتا اور سچ کبھی دبائے نہیں دبتا۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین