Breaking News

بینظیر اور صبا کے بعد جیتو پاکستان

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

دوستو جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے کہ فراڈ کرنے کے انداز بھی بدل رہے ہیں ۔ چند دن پہلے مجھے 0349-1959023 سے پیغام ملا جس میں لکھا تھا کہ آپ نے رمضان میں نے جیتو پاکستان میں اپنے نمبر سے 8038 پر ایس ایم ایس کیا ۔ لہذ ا آپ کو جیوت پاکستان کی طرف سے ایک عدد یونیک کی موٹر بائیک۔ ایک عدد ایچ پی کا لیب ٹاپ اور دولاکھ پچہتر ہزا ر(2,75000) کا چیک مبارک ہو ۔ آپ اس نمبر 0307-0557943 پر رابطہ کریں۔ میں نے کہا کہچلیں رابطہ کرکے پتہ تو کریں کہ یہ کیا فراڈ ہے ۔ جب رابطہ کیا تو بولنے والے نے اپنا نام عمر بتایا۔ اور لگا ہدایات دینے کہ آپ پہلے انٹر ی پاس بنوائیں۔کیونکہ جب تک آپ کا انٹر ی پاس نہیں بنے گا۔اس وقت تک آپ کو یہ انعامات نہیں ملیں گے۔ انٹر ی پاس بننے کے بعد آپ کو یہ سامان 3 دن کے اندر TCS کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس نے ایک رابطہ نمبر0306-1601018 صدیق بھائی کا دیا۔ کہ صدیق بھائی سے رابطہ کریں ۔ جب صدیق بھائی سے رابطہ کیا تو صدیق بھائی نے بتایا کہ انٹری پاس کا 1850 روپے خرچہ آئے گا۔ لہذا آپ اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر اس کے بعد مجھ سے رابطہ کریں۔ اور ساتھ یہ بھی تنبیہ کر دی کہ اگر آپ نے اگلے تین گھنٹے میں رابطہ نہ کیا تو یہ سامان ختم ہوجائے گا۔ یعنی کہ آپ کو نہیں ملے گا۔اس سارے فراڈ کی سمجھ آگئی کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ بس اچانک دماغ کے جھروکوں سے یادآیا کہ پہلے بینظیر انکم سپورٹ تھی۔ اس کے بعد صبا آئی جسے پچاس روپے لوڈ کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ واپسی کا وعدہ بھی کرتی ہے ۔ اور ساتھ یہ بھی بتا دیتی ہے کہ وہ جس نمبرسے ایس ایم ایس کر رہی ہے۔ وہ اس کا اپنا نمبر نہیں بلکہ کسی اور کے نمبر سے یہ ایس ایم ایس کررہی ہے۔ اور کبھی اچانک صبا کی ماں ہسپتال میں بیمار ہوجاتی ہے۔ وغیرہ مگر ان سب فراڈوں میں ایک چیز جو تفشیش ناک ہے وہ یہ کہ اس میں اکثریتی جو موبائل نمبرز استعمال ہو ئے ہیں وہ زیادہ تر ٹیلی نار کمپنی کے ہیں۔ صبا جس نمبر سے ایس ایم ایس کرتی وہ نمبر 0349-9846004 اور جس نمبر پر 50 روپے کا لوڈ کرنے کا کہتی تھی۔ وہ نمبر0342-8199112 زیادہ ترہے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ بینظیر انکم سپورٹ والے ایس ایم ایس میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ آپ کا شناختی کارڈ نمبر یا گھرانہ نمبر یا فون نمبر بائیومیٹرک اور بی آئی ایس پی میں رجسٹر تھا۔ لہذا آپ کو 31000 روپے مبارک ہوں ۔ اور مزید معلومات کے اس نمبر پر رابطہ کریں۔ آپ کو 30000 روپے مبارک ہوں ۔ اس نمبر پر رابطہ کریں۔آپ کو 25200 روپے مبارک ہوں اس نمبر پر رابطہ کریں۔اور جو کوئی بھی ان نمبر ز پر رابطہ کرتا ۔ اس کو کہا جاتا کہ ایزی پیسہ شاپ پر جاکر ہماری بات کروائیں۔ اور ساتھ یہ بھی تاکید کی جاتی کہ ایزی پیسہ والے کو یہ نہ بتا نا کہ یہ روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیں۔ اور اس کے بعدنہ جانے کتنے لُٹتے رہے ہیں اور کتنے سنبھل جاتے رہے۔ اور کون کون ان فراڈوں کے ہاتھوں برباد ہوا ہے۔ اب اس بینظیر انکم سپورٹ کے وہ نمبر ز جس سے ایس ایم ایس موصول ہوتے رہے ہیں وہ نمبر
0343-8404424 , 0347-6647462 0349-6406319 , اور 0303-4808572 ہیں ۔ جبکہ جس نمبر پر رابطہ کرنے کے لئے کہا جاتا تھا
وہ نمبرز 0344-0380605 , 03340701744 , 0332-1678278 , 0307-7651096 ہیں۔
حکومت کی طرف سے یہ تو کہا گیا کہ اگر ایسا کوئی ایس ایم ایس موصول ہو تو ہم کو بتائیں، مگر کیا انھوں ان کمپنیوں کو بھی پوچھنا گوارا کیا کہ آپ کی کمپنی کے ان نمبرز سے یہ فراڈ ایس ایم ایس عوام کو کیا جا رہے ہیں ۔اور سادہ لوح عوام لٹ بھی رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف کاروائی کریں۔ یہ ان نمبر ز کے مالکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔ تاکہ یہ لوگ اس قسم کا فراڈ دوبارہ نہ کریں۔ اور کیا ان کمپنیز کو کو پتہ نہیں کہ فلاں نمبر سے کیا ایس ایم ایس کیا گیا ۔ اور کیا کال ملائی گئی ۔ مگر یہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ پہلے تو یہ بات انتہائی تفشیش ناک ہے کہ ان لوگوں کو یہ معلومات کیسے حاصل ہوئیں۔ کیونکہ یہ معلومات صرف متعلقہ کمپنی کے پاس ہوتی ہیں۔ اور دوسرا یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹر ہونے والوں اور نہ ہونے والوں کے ٹیلی فون نمبرز ان کی پہنچ میں کیسے آگئے۔ کیا یہ سارا فراڈ کمپنی میں موجود ملازمین کا کوئی گروہ کر رہا ہے۔ جس کی رسائی ان ریکارڈز تک ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر اس فراڈ میں کمپنی کے مالکان بھی شامل ہیں۔ اور اگر ایسے ہی ہے۔ تو پھر ایجنسیاں انکے خلاف متحرک کیوں نہیں ہوتیں۔ اور اگر ایجنسیاں ان کے خلاف شواہد جمع کر کے ذمہ داران کو دے چکی ہیں تو وہ ذمہ داران ان کے خلاف کاروائی عمل میں کیوں نہین لاتے۔ یا پھر یہ کمپنیاں ان کو مال شر دے کے چپ کروا دیتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی وجہ تو ہے۔
زرداری کے دور حکومت میں سمیں بلاک کرنے کا کام بڑے زور شور سے ہوا تھا ۔ مگر وہ وہ چند ماہ رہا اس کے بعد کسی نے نہ پوچھا نہ عمل کیا۔ بلکہ اس کے متبادل موبائل سروس کو بند کرنے کو ترجیح دی گئی۔
ایک بات کہ کوئی بھی موبائل کمپنی کوئی سم اس وقت تک ختم نہیں کرتی جب تک کہ اس کی اُمید دم نہیں توڑ دیتی کہ اب یہ صارف اس سم کو استعمال نہیں کرے گا۔ وہ سم بند ضرور ہوجاتی ہے مگر وہ اس کسٹمر کے نام سے ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس میں ہر کمپنی کے فائدہ ہوتا ہے۔ اس لئے کمپنی آپ کی برسوں سے بند سم کو دوبارہ استعمال کرنے کو کہتی ہے۔ اور اس کے لئے وہ مفت منٹ ۔ مفت ایس ایم ایس ۔ مفت بیلنس اور مفت انٹر نیٹ کے لالچ بھی دیتی رہتی ہے۔ کیونکہ ایک نئی سم ایشو کرنے پر جتنی رقوم موبائل کمپنی حکومت کو دیتی ہے۔ پرانی سم کے دوبارہ ایکٹویٹ کروانے میں اس کو اس سے بھی زیادہ فائدہ حاصل ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراڈ اور کرائم ختم نہیں ہورہے۔ اور آپ کے زیر استعمال سم بند تو کر دی جاتی ہے ۔ مگر آپ کے نام سے ختم نہیں کی جاتی۔ اصل میں اس ملک میں قانون کی حکمرانی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ حکمران ہو یا اپوزیشن سب قانون کو اپنے اپنے انداز میں لتاڑتے(دباتے) ہیں ۔ مرتا ہے تو صرف غریب اور قانون کا بس بھی چلتا ہے تو صرف غریب عوام پر جو کہ پہلے ہی فراڈ لوگوں کے ہاتھ مر رہی ہوتی ہے۔ اور دارسی کے لئے جب قانون کے پاس جاتی ہے ۔ تو اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ سب اپنی کرسی اور نوکری کے چکر میں رہتے ہیں۔ کوئی کرسی پر رہنا چاہتا ہے ۔ تو کوئی کرسی سے اُترانا چاہتا ہے۔ اگر کوئی قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو ایسے رسوا کیا جاتا ہے کہ بس فراڈ ہی اچھا اور اچھا لگتا ہے۔ مگر اللہ لاٹھی بے آواز ہے کوئی نہیں جانتا ۔ کہ وہ بے آواز لاٹھی کب چل جائے ۔ مگر جب چلتی ہے ۔ توا سکے آگے سب بے بس ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم کرے اور اہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین