Breaking News

ویلنٹائن ڈے اوراحساسِ مسلماں

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

محترم قارئین السّلامُ علیکم و رحمۃاللہ
سب کہتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں ۔ میں ویلنٹائن ڈے نہیں منا تا ۔ مگر گزشہ چند سالوں سے پوری دُنیا میں عموماً اور ارض پاک میں خصوصاً ایک یہودی کی یاد کا دن بڑے ہی جوش و خروش سے 14 فروری کو منایا جاتا ہے۔میرا یہ کالم جب آپ پڑھ رہے ہوں گے۔ہوسکتا ہے۔وہ 14 فروری کا ہی دن ہویا اس پہلے یا کہ بعد کا ۔ پہلے پہل تو کچھ کم ہی یاد منائی جاتی تھی جس میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ مگر ابھی اس میں شدت آ گئی ہے۔ اور اس میں بڑی عمر کے مرد اور عورتیں جن کو ہم سنجیدہ ۔ سلجھے ہوئے ۔ سمجھ دار کہتے ہیں اورانگریزی میں ان کو ہم میچور کہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ وہ ایک یہودی تھا۔ اور یہ دن سینٹ ویلنٹائن نامی شخص کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اور جب کسی بھی مسلمان سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ دن کیوں مناتے ہیں۔ اور یہ کون تھا۔تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ یہ تو محبت کرنے والے کا دن ہے۔ وہ کون تھا ۔ اس نے کیا کیا ۔ ہمیں اس سے کیا غرض ہے۔ یعنی میں کچھ بھی کہنے سے پہلے ممتاز مفکر ، دانشور جناب اشفاق احمد کا بولا ہوا ایک جملہ آپ کی نظر کروں گا۔اور اس جملہ میں اس دن کے حوالے سے جو ہماری مسلمانوں کی حالت ہے وہ مکمل طور پر اس کی عکاسی کرتے ہیں۔ اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں۔ کہ
فاتحہ لوگوں کے مرنے پر نہیں بلکہ احساس کے مرنے پر پڑھنی چایئے۔ کیونکہ لوگ مر جائیں تو صبر آجاتا ہے۔ مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے
جی ہا ں جناب ہمارا بھی یہی حال ہے۔ کہ ہمارے اندر سے وہ مسلمان والا احساس مر چکا ہے۔ اسی لئے آج ہم مر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سب پتہ ہے کہ اسلام ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ناجائز تعلقات کی پاداش میں سزا پانے والے ایک یہودی کی محبت کا دن منایا جائے۔ اور ایسا کرنا اس کے گناہ میں برابر کا شریکِ گناہ ہونے کے برابر ہے۔اور اسلام میں یہ بھی ہے کہ جب تک آپ کو کسی کام کے غلط ہونے کا پتہ نہیں تھا۔ تو اس وقت تک وہ معاف ہے۔ مگر جب اس کا پتہ چل جائے کہ ایسا کرنا گناہ ہے تو پھر ایسا کرنا صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے۔ آج مسلمان کی پستی اور زبوں حالی اسی لئے ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو صرف پیسے کمانے کے لئے تعلیم دلائی اور دلا بھی رہے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنے بچوں کو ایک اچھا سُچا اور سچا مسلمان بنانے کی غرض سے تعلیم نہیں دلائی۔ اس کی وجہ یہ کہ ہمارے اندر سے یہ احساس ختم ہو چکا ہے۔ کہ ہم پیارے آقا ﷺ کے اُمتی ہیں۔وہ آقا کریم ﷺ جو ہر برائی کے خلاف تھے ۔ اور ہر برائی سے بچنے اور پناہ مانگنے کا درس دیتے تھے ۔ جن کے یار یعنی صحابہ بھی ایسے بُرے کاموں سے نفرت کرتے تھے۔ کہاں گئی وہ روحِ بلالی ۔ کہا ں گئی وہ اقبال کی دُعا جس میں انھوں نے مسلم بچوں کو شاہین کہا ۔ شاہین کبھی گدھ کا شکار نہیں کرتا ۔ کیوں کہ گدھ مردہ جانور کھاتی ہے۔ اور شاہین کبھی مردہ جانور نہیں کھاتا۔ بلکہ وہ اپنا جہاں خود بناتا ہے۔ اور اپنا شکار بھی خود ہی کرتا ہے۔شاہین اپنی انفرادیت کھوتا نہیں ۔ اور نہ ہی کھونے دیتا ہے۔ پوری دنیا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ڈیڑھ سے دو ارب مسلمان ہیں۔ اور کوئی چھ ارب غیر مسلم ہیں۔ مگر ان دو ارب مسلمانوں کی حالت غیر ہے۔ان کا اپنا کوئی مقام نہیں ۔ اور نہ ہی ان کے والدین نے کبھی انکو ان کا حسینیت والامقام نہیں سمجھایا اور نہ ہی یاد دلایا ہے ۔اور نہ یاد آنے دیاکہ وہ کیا ہیں اور ان کے اباواجداد کیا تھے
آج ہم محض سینٹ ویلنٹائن کا دن اس لئے مناتے ہیں۔ کہ ساری دنیا مناتی ہے ۔ غیروں نے ہمارے دل اور سوچ بدل دی ہے ۔ مگر ہماری فکر اور سوچ فرنگی والی نہیں بلکہ شاہین والی ہے ۔ جس کی سمجھ ہمیں نہیں آ رہی اور نہ فرنگی ہمیں آنے دے رہا ہے۔میں تمام مسلمان والدین اور اس سینٹ ویلنٹائن کی یاد منانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ کبھی آپ نے اپنے بچوں کو یہ سوچ بھی دی کہ نبی اکرم ﷺ نے امن اور محبت کا درس دیا ۔ وہ دن ہم کیوں نہیں مناتے ۔ ان فرنگی رنگوں میں ہم کیوں جکڑے ہوئے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے صحابہ اکرام کی رسول سے محبت کا دن بھی کبھی اس طرح منایا ہے۔ اگر محبت کا دن ہی منانا ہے ۔ تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا دن منائیں۔ صحابہ سے محبت کا دن منائیں۔ اسلام سے محبت کا دن منائیں۔ قرآن سے محبت کا دن منائیں۔نماز سے محبت کا دن منائیں ۔ روزہ سے محبت کا دن منائیں۔ واقعہ کربلا سے محبت کا دن منائیں۔ اہل بیت سے محبت کا دن منائیں۔ حضرت علی کی بہادری اور شجاعت کا دن منائیں۔ عمر کے انصاف سے محبت کا دن ۔ ابوبکر کی سخاوت سے محبت کا دن منائیں۔امام حسن اور حسین سے محبت کا دن منائیں۔حضرت فاطمۃ الزہرہ سے محبت کا دن منائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے محبت کا دن منائیں۔ شہیدان کربلا سے محبت کا دن منائیں۔ کربلا میں شہید ہونے والے ننھے علی اصغر اور علی اکبر کا دن منائیں۔ اور اگر مذہبی دن مناتے ہوئے آپ کو شرم آتی ہے۔ تو پھر اپنے اندر جو احساس مر چکے ہیں۔ مسلمانی والے ان کو جگائیں۔ مسلمان کے نام کی تختی ہی نہ لگا ئیں۔ جس پر صرف لکھا ہوا ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔ مگر کام سارے فرنگیوں والے کرتے ہیں۔ ہمیں صرف نام کی محبت ہے ۔ دین سے۔ اللہ سے اور اللہ کے رسول ﷺ سے۔ کیوں کہ ہم ڈرتے ہیں ۔ دنیا سے لوگوں سے کہ اگر ہم نے خود یا ہمارے بچوں نے اسلام کی تعلیم حاصل کی تو سب ہمارا مذاق اُرائیں گے۔ اور ہمارے بچے کو مولوی کہیں گے۔ اور اگر ہم نے ویلنٹائن ڈے نہ منایا تو سب ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔اور ہم کو دقیانوسی بولیں گے۔ مگر کبھی نہیں سوچا کہ وہ فرنگی جسکے مذ ہب میں ہر برائی اچھائی ہے۔ اور غیر مسلم کا مذہب ہر اس کام کی اجازت اس کو دیتا ہے۔ جس سے اسلام روکتا ہے۔ اور وہ اپنے مذہب کے مطابق ہر کام کرتا ہے۔ اگر کوئی ہٹا ہے اپنے مذہب کے راستے سے تو وہ صرف اور
صرف مسلمان ہے۔ جو رحمن کا راستہ چھوڑ کر شیطان کا راستہ اختیار کر چکا ہے۔ اور دوسری طرف غیر مسلم ہے ۔ جو رحمن کے بتائے ہوئے راستے کی نفی کرتا ہے۔ اور شیطان کے راستہ کو اپنائے ہوئے ہے۔ میں تمام مسلمان والدین ، اساتذہ ۔ علماء کرام ۔ مفتی حضرات ۔ہرادارے کے سربراہ ۔ پروفیسر صاحبان اور میڈیا کے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خود کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچائیں۔اور اپنا اپنا کردار ادا کریں۔جو کر رہے ہیں ۔ میں ان کو صمیم قلب سے نہ سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ اور ان کو مبارکباد دیتا ہوں۔اور ان کو مشکور بھی ہوں کہ وہ جہاد کر رہے ہیں۔مسلمان کو اس کا اصل یادلانے کے لئے۔ خدارا اپنے بچوں کو بتائیں کہ ویلنٹائن ڈے ہمارا نہیں ہے۔بلکہ اسلام حیا کا درس دیتا ہے۔ اور اگر منانا ہی ہے ۔ تو اس دن کو مسلمان حیا ڈے کے طور پر منائیں ۔ تاکہ ماس معاشرے میں جو بے راروی ہے ۔ ان کو احساس ہو کہ ہمارا اصل ویلنٹائن ڈے نہیں ۔ بلکہ حیا ڈے ہے۔ویلنٹائن ڈے اور اس کو منانا بھی گناہ ہے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ بچ جائیں گے۔ اس دن شرمندگی سے جس دن اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ اور اللہ آپ سے آپ کی اولاد کے بارے سوال کرے گا۔ کیونکہ ہر بڑے سے اس کے چھوٹے کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ بتا توں نے اس کو برے کام سے کیوں نہ روکا۔ا ور ویلنٹائن ڈے منانے والے مسلمان بچے اور بچیاں بھی یاد رکھیں ۔ کہ خود کو جہنم میں نہ ڈالیں۔ کل روز قیامت یہ سینٹ ویلنٹائن آپ کا ایندھن ہوگا۔ اور آپکوجلانے کے کام آئے گا۔ اس وقت اگر کوئی محبت کا پھول ۔ محبت کی کلی آپ کے کام آئے گی۔ تو وہ صرف اور صرف مصطفی کریم ﷺ سے محبت کا پھول اور کلی ہوگی۔ تو اے نوجواں مسلم کبھی تدبر بھی کیا کر بلکہ کر لے ۔ اور اپنے اند ر مرے ہوئے مسلمان کے احساس کو جگا لے جگالے ۔ اللہ ہم سب پر اپنا کرم اور فضل اور رحمت و برکت کر ے امین

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین