Breaking News

قومی دن اور ہم

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

دوستوقومی دنوں کی اہمیت ہمارے لئے ایسے ہی ہے جیسے روح و جسم کی ہوتی ہے۔ دل اور دھڑکن کی ہوتی ہے۔ 23 ۔مارچ افواج پاکستان کی پریڈ کافی عر صہ کے بعد دیکھی۔بڑی ہی جوش اور جذبہ تھا۔ ایک خوشی تھی اور ان خوشی کی جذبات میں دل بھی بھر آیا کہ اے اللہ پاک تیرا شکر ہے۔ کہ آج ہمارہ پاک نے دہشت گردی کے اس ماحول میں ایک نیا ولولہ ایک نیا جوش ایک نیا جذبہ اس عوام کی رگ رگ میں بھر دیا ہے۔ اور دہشت گردی کی وجہ سے جو میری ارض پاک کی فضاؤں میں اک گھٹن ۔ اک خوف۔ اک اداسی سی چھائی تھی۔ وہ آج ختم ہوگئی ہے۔ او ر اس میں اوفواج پاکستان کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ اور اس کے ساتھ ان تما م کامیابیوں کا سہرا سابقہ جنرل راحیل شریف کے سر ہے۔اور میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو بھی سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ جنہوں ضرب عضب کے بند ہونے قصیدے پڑھنے والوں اور یہ نوید سنانے والوں کے منہ بند کد ئیے کہ اب دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اب جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوگیا ہے۔ بلکہ کئی نے تو اندورن خانہ مٹھائیاں میں تقسیم کیں ۔ان میں ہمارے کئی نام نہاد سیاست ۔ مذہبی رہنما۔ بیوروکریٹ۔ میڈیا پرسن وغیرہ بھی شامل ہیں۔ مگر آفرین ہے اور صد آفریں ہے کہ جنرل قمر باجود نے آپریش رد الفساد کا اعلان کر کے ان سب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اور یہی نہیں بلکہ ساتھ یہ بھی اعلان کر دیا کہ یہ آپریشن بلا امیتاز ہوگا۔ اور اس میں تمام سہولت کاروں کو بھی پکڑا جائے۔ اس کے نتائج آپ سب دیکھ بھی چکے ہیں۔ اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ ہماری پاک فوج کا مقابلہ دنیا کی کوئی فوج نہیں کر سکتی۔ اور میں تما م شہدا ء کے لواحقین کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ پاک آرمی جو شہدا ء ان اَن دیکھے دشمنوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ان میں میری سر زمین پاک گجرات کا ان قوی جوان بہادری کی داستان رقم کرتے ہوئے شہادت کے رُتبہ سے سر فراز ہوا۔ وہ ایک سید گھرانے کا چشم چراغ تھا۔ کیپٹن سید جنید علی ارشد کھاریاں کے نواحی گاؤں حسام رسول پور سیداں ہے۔ سیند جنید علی شہید ہوکر اپنی منزل پا لی اور اپنے علاقے کو ایک پہچان بھی دے دی ۔ جو کام 1965 ء میں میجر عزیز بھٹی شہید نے کیا تھا۔ عزیز بھٹی کی شہادت کے بعد ان کے گاؤں کی پہچان پوری دنیا ہوئی۔ اور اب کیپٹن سید جنید علی ارشد کی شہادت کے بعد ان کے گاؤں حسام رسولپور کی پہچان پوری دنیا میں ہوئی۔
ایک طرف پاک افواج پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے۔ اور دوسری طرف عوام 23 ۔ مارچ کے حوالے سے تقاریب و سیمینارز کا اہتمام کرتی ہے۔ حکومت سطع پر بھی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ شہداے کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد ہم جیسے تھے والی حالت میں لوٹ جاتے ہیں۔ علامہ اقبال کی برسی بھی گزر گئی ۔ ہم میں سے کئی نے اس کو اہمیت دی کئی نے نہیں دی۔ کچھ نے با امر مجبوری سرکاری حکم پر منائی ۔اور کچھ نے باامر محبت و عقیدت منائی۔ ہر دو طرف سے علامہ اقبال کی خدمات کو سراہا گیا۔ اور ان کی شاعری کو مسلمانوں کے خون کو گرامنے کا ذریعہ قرار دیاگیا۔ ان کو افکار کی تعریف کئی گئی۔ الغرض ہر لحاظ سے ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ان کو رہبر اور رہنما کہا گیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر ہم زندگی اس کے اُلٹ گزار رہے ہیں۔ اس طرح 14۔ اگست ۔ 6 ستمبر ۔ 25 دسمبر بھی ہم مناتے ہیں۔ اور ان دنوں کی یاد مناتے ہوئے ہم جو تقاریر کرتے ہیں ۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے محب وطن ہیں۔ اور ہم کو اپنے ان قومی ہیروز کے ساتھ اور ان قومی دنوں کے ساتھ کتنی محبت ہے۔ مگر ہماری تمام باتیں جو ہم کرتے ہیں۔ عملاً اس کے اُلٹ ہوتے ہیں۔ 23 ۔مارچ مناتے ہیں۔ 6 ستمبر مناتے ہیں۔ 14 ۔ اگست مناتے ہیں۔ اس میں افواج پاکستان اور ان کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مگر اس کے بعد ہم اسی فوج کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔اس قائد اعظم کو جس کو ہم بانی پاکستان کا لقب دیتے ہیں۔ اس کو ہم گالی نکالتے ہیں۔ اس قائد اعظم کافر بھی کہنے والے اور بنانے والے موجود ہیں۔ اس اس قائد اعظم کے پاکستان بنانے کے کام بہت بڑی غلطی بھی کہا جاتا ہے۔ اس ملک میں علامہ اقبال کو شرابی کا لقب دینے والے بھی موجود ہیں۔ 14۔اگست کو ہم گھروں میں جھنڈیا ں لگاتے ہیں۔ قومی پر چم سر بلند کرتے ہیں۔ مگر اسی کاغذ سے بنے ہوئے جھنڈے کو ہم اپنے پیروں تلے روندتے بھی ہیں۔ جب کہ ہمیں پتہ بھی ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کا پر چم ہے۔ اس طرح کاغذوں پر قائد اعظم اور علامہ اقبال تصوہر بنی ہوتی ہیں۔ ہم جانتے بھی ہیں کہ یہ ہمارے قومی ہیروز ہپیں۔ مگر ہم ان کو اُٹھا کر کوڑے دان میں گندگی کے ڈھیروں پر پھینک دیتے ہیں۔ یہی حشر ہم افواج پاکستان کے ان شہداء کی تصویروں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ جن کی شہادتوں کی وجہ سے ہمیں یہ ملک پاکستان ملا۔ اور اس کی آزاد فضاؤں میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ الغرض اور تو اور ہم اس قرآن پاک کے اوراق کو بھی اللہ معاف کرے ۔ ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیتے ہیں۔ نام محمد ؐ کے ساتھ نام اللہ کے ساتھ بھی ہمارا یہ رویہ ہوتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ۔ اور اس نے ہمیں یعنی پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ہم اس کے ساتھ ہر وقت جنگ کی کیفیت رہتے ہیں۔اور وہ پاکستان کو کمزرو کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ اور اس نے پاک وطن میں دہشت گدری کا جو بیج بویا ہوا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے ٹی وی چینل یہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا کے ڈراموں اور پروگرام کی برکت جب تک ہمارے چینل میں نہیں ہوگی۔ وہ نہیں چلے گا۔ یہاں تک کہ کچھ چینلز نے انڈین ثقافت کو پاکستان میں پھیلانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ اور تو اور ہمارے چینلز اس کے باوجود کہ انیڈین چینلز اور فلمیں پاکستان میں بین ہیں۔ وہ پھر بھی ان کو دیکھنے سے نہیں کتراتے۔ اور الا ماء شاء اللہ ہمارا پیمرا کہنے کو تو ایک ادراہ ان سب کو مانیٹر کرنے والاْ مگر وہ بھی اپنی مرضی سے ہی کوئی کام کرتا ہے۔ جو اس کو سارے آنکھوں ست بہاتا ہے ۔ اس کو وہ کہتا ہے شاباش بیٹا شاباش لگے رہو۔ اور جو ا سکو ایک آنکھ نہیں بہاتا اس کو کہتا ہے ذرا ٹھہرا جا میں تجھے بین کرتا ہوں ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہمارا اپنا نصاب تعلیم ہونا چاہئے ۔ا ور وہ کبھی تھا بھی کوئی 20 ۔25 سال پہلے جب واقعی اس کو پڑھ کر ایک محب وطن سکول و کالج اور یونیورسٹی سے نکلتا تھا۔ جس کو پتہ ہوتا تھا کہ میں پاکستانی ہوں۔ اور یہ پاکستان بنانے والے کون تھے۔ اور اس پاکستان کو بنانے کی تحریک چلانے والے کون تھے۔ مگر آج کے اس نصاب میں ایسٹ انڈیا کمپنی والی صورت حاہل پیدا ہوچکی ہے۔ نہ ہمارا نصاب ہے۔ اور نہ ہی ہمارا بچہ پاکستان کے بارے میں جانتا ہے۔ اور نہ ہی اس کو پتہ ہے کہ ہمارے قومی ہیروز کون تھے۔ نشان حیدر پانے والے جری اور قوی بہادر کون تھے۔ ان کو نشان حیدر کیوں دیا گیا۔ اور نشان حیدر کا اعزاز ہے کیا۔ اور تو اور ان کو یہ بھی بھی پتہ نہیں کہ صحابہ اکرام کون تھے۔ قرآن کیا ہے ۔ آج ہمارے گھروں سے تلاوت کی نہیں گانے اور کارٹونوں کی آوازیں ہیں۔ آج ہم بچے کو قرآن پاک نہیں میوزک اور ڈانس کی تعلیم دینا چاہتے ہیں۔ آج ہم اس کو عربی ۔ اُردو۔ اور مادری زبان کی نہیں انگریزی کی تعلیم دینا چاہتے ہیں۔ آج ہم ٖفخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ انگریزی سکو ل میں جائے ۔ جہاں میوزک اور ڈانس کی تعلیم دی جائے۔ مگر قرآن کی تعلیم نہیں ۔ ہم اس بات پر ہی خوش ہوتے ہیں کہ اور کچھ آئے نہ آئے بس اس کو انگریزی آنی چائیے۔ اور دوسری طرف ہم یہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ اس کو والدین کا ادب بھی آئے۔ وہ ملک اور قوم کا سرمایہ بھی بنے ۔ تو ایسا کرنے سے وہ بچہ سوائے سرمایہ اکٹھے کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا ۔ اگر ہمیں دشمن سے مقابلہ کر نا ہے تو ہمیں اپنے بچوں اپنی ثقافت و افکار سے روشناس کروانا ہوگا۔ ہماری ایک تاریخ ہے ۔ ہمارا ایک کردار ہے۔ جو تاریخ مسلمانوں کی جو ثقافت اسلام کی ہے ۔ اور جو ثقافت پاکستان کی ہے وہ نہ کسی کی ہے۔ نہ تھی اور نہ ہوسکے گی۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ ہم ہنس ہو کے کوے کی چا ل چل رہے ہیں۔ اس اس چال میں ہم خود کو بھول چکے ہیں اور کوئے بھی نہ رہے اور ہنس بھی نہ رہے۔ ضرروت ہماری کوڈ کی سوچ کو بدلنا ہے۔ صرف قومی دنوں کی یاد یں منانے سے کوئی قومی زندہ نہیں رہتی ۔ جبک تک کہ اس کو اپنے قومی دن کی اہمیت اور چاشنی کا پتہ نہ ہو۔
اگر اس موجودہ دور کو دیکھا جائے تو ٓج ہمارے لیڈر وہ ہے جو کسی جلسے میں جائیں ۔ تو پمپر پہن کر جاتے ہیں۔ انجکشن لگوا کر جاتے ہیں۔ کہ راستہ میں کہیں پیشاب ہی نہ نکل جائے۔ اور پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزاہ سرائی کرتے ہیں۔ اور جمہوریت کے را�آلاپتے ہیں ۔ کونسی جمہوریت وہ جمہوریت نہیں جس پر یہ ملک قائم ہوا تھا۔ بلکہ وہ جمہوریت جس میں مشتاق رئیسانی84 ارب۔ شرجیل میمن 426 ارب ۔ ڈاکٹر عاصم 480 ارب اور اب اکیلا احمد چیمہ 1850 ارب کی کرپشن کرتے ہیں ۔ اور جب ان سے 2840 ارب روپے کی رقم واپس مانگو تو ان کی جمہوریت خطرے میں پڑھ جاتی ہے۔ کیا 23 مارچ یوم پاکستان اسی جمہوریت کے لئے منا یا جاتا ہے
کاش میرے ملک کی عوام اندھی تقلید چھوڑ کر مجرم کو مجرم سمجھ کر اس کا ساتھ چھوڑ دے اور حق اور سچ کا ساتھ دے ۔۔۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین