Breaking News

عطائیت اور ہم

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کی طرف سے یہ اعلان ہوا ۔ کہ صوبہ بھر میں عطائیت کے خلاف پولیس کاروائی کرے۔ جس پر عمل در آمد شروع ہو چکا ہے ۔اور صوبہ بھر میں عطائیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ۔ روزانہ کئی کلینک ۔ میڈیکل سٹوراور ہسپتال سیل کئے جارہے ہیں۔یہ فیصلہ آنے سے یونین کونسل کی سطح پر ہر گاؤں محلہ میں پٹواریوں ۔ نمبردار ۔ اور چوکیداروں کے ذریعے گلی محلے میں موجود ڈاکٹرز کی مکمل تفصیلات اکٹھی کی گئیں ۔ جب یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے آیا تو عوام نے اس کو خوب سراہا ۔ مگر جب اس پر عمل در آمد شروع ہوا۔ تو عوام نے سپریم کورٹ کے اس فیصل کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔اور کسی اپنے انداز میں اس کے بارے میں کہا۔کیوں کہ جب پولیس اور محکمہ ہیلتھ کی طرف سے کاروائی کا آغاز ہوا تو گلی محلوں میں موجود عطائیوں نے اپنے اپنے کلینک بند کر دئیے ۔ جب عوام نے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ہمیں چیک کیا جارہا ہے ۔ اس لئے کلینک بند ہیں ۔ اب عوام دوا نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اور جو گورنمنٹ کے ہسپتال ہیں۔ وہاں ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں پہلے تو مریض کو ڈاکٹر ہی ہسپتال میں نہیں ملتا ۔ اور اگر ملتا بھی ہے توادویات باہر سٹور سے لکھ دی جاتی ہیں۔ اور اگر سرکاری ہسپتال میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ایک ڈسپنسر مریضوں کو چیک کر کے ادویات دے سکتا ہے تو پھر یہ(عطائی) کیوں نہیں دے سکتا ۔ عطائیت تو سرکاری ہسپتالوں میں بھی موجود ہے۔ اس پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔جب کہ جو ایم بی بی ایس ڈاکٹرز پرائیویٹ کلینک بنا کر پریکٹس کر رہے ہیں۔ ان کی چیکنک فیس 300 سے 500 روپے ہے۔ جبکہ ادویات کے پیسے اس سے الگ ہیں۔ جس کی وجہ سے مریض اپنے گلی محلے میں موجود عطائی کے پاس جانے کو ہپی ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ اس سے دوائی کم پیسوں میں مل جاتی ہے۔ اور پھر چکر بھی نہیں لگانے پڑتے ۔ ایک چھوٹا سا واقعہ کسی نے میرے ساتھ شئیر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میری والدہ بیمار ہوگئی ۔ رات کا وقت تھا۔ اور ہسپتال کا فاصلہ تقریباً 2 سے 3 میل کا تھا ۔ اس نے بتایا کہ ہمارے محلے میں ہی ایک ڈاکٹر (عطائی ) تھا ۔ اس سے رابطہ کیا تواس نے ایک گولی دی زبان کے نیچے رکھنے کے لئے اور ساتھ کہا کہ ہسپتال جانے تک ان کو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ بات کو11 سال بیت گئے ۔ اور گیارہ سال کے بعد اس کی والدہ فوت ہوگئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر وہ عطائی اس وقت موجود نہ ہوتا تو اس کی والدہ کی جان گیارہ سال پہلے ہی جا چکی ہوتی۔ وہ ایک عطائی ہی تھا جس نے اس کی جان بچائی۔ اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں۔ سپریم کورٹ فیصلہ سر آنکھوں پر مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان تمام عطائیوں کو کسی طریقہ سے اس نیٹ ورک میں لا یا جاتا اور ان کو اپنا روز گار کمانے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون عطائی ہے اور کون کوالیفائیڈ ۔ بلکہ غریب کو تو علاج سے غرض ہے ۔ اور جس سے عوام کو شفا ملتی ہے۔ عوام اسی کو اپنا مسیحا مانتی ہے۔ اور لگتا ہے PHC والوں نے پٹواریوں اور چوکیداروں کے ذریعے یہ سروئے نہیں کروایا کہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے ہسپتال میں عملہ کے کتنے لوگ عطائی ہیں۔ اور کتنے نہیں ۔ ایک لیبارٹری میں کتنے لوگ کورس کر کے ٹیسٹ کر رہے ہیں اور کتنے کام سیکھ رہے ہیں۔ اور اگر عطائیت کو ختم کرنا ہے ۔ توا س کے لئے سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کریں ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز کی چیکنگ فیس کو کم کروائیں۔
عطائیوں کے خلاف آپریشن کو پڑھے لکھے طبقہ نے تو بہت سراہا ہے مگر ہمارے ملک کی آبادی میں پڑھے لکھوں کا تناسب بہت کم ہے۔ گو کہ حکومتی سروے میں شرح خواندگی میں اضافہ بہت زیادہ ہے ۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ اور دیہاتوں میں موجود لوگوں کو اس سے غرض نہیں کہ ڈاکٹر ہے تو اس کے پاس ڈگری بھی ہے کہ نہیں ۔ بلکہ اس کو تو غرض ہے کہ اس کے درد کی دوا کرنا والا مسیحا موجود ہے
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان لوگوں کے لئے کوئی ایک ایسا نصاب بنایا جائے ۔ جس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ان کو کلینک کھولنے اور میڈیکل سٹور کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ تاکہ یہ باعزت روز گار کما سکیں ۔اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں
اور محترم ا لمقام جناب چیف جسٹس صاحب کیا تمام عطائیت صوبہ پنجاب ہی موجود ہے ۔ کیا صوبہ سندھ ۔ صوبہ بلوچستان اور صوبہ کے پی کے میں کوئی عطائیت نہیں ہے ۔ کئی ایسے سوالات ہیں جو عوام کے دماغوں میں گونج رہے ہیں۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین