Breaking News

پیام رمضان اور مقصد عید

ansar farooq mughal
ڈاکٹر انصر فاروق

رمضان المبارک کی آخری ساعتیں چل رہی ہیں اور عید کی آمد آمد ہے۔تمام مسلمانوں کے چہرے دوہری خوشی سے دمک رہے ہیں ۔ایک خوشی یہ کہ رمضان المبارک کی فضیلتوں سے بہرہ مند ہوئے ،روزے رکھے ،عبادات کی اور لیلتہ القدر کی تلاش میں آخری عشرہ کی طاق راتوں میں قیام الیل کیا۔اور دوسری خوشی یہ کہ رمضان المبارک کے فریضے کی ادائیگی کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے انعام یعنی عید الفطر بھی آ گئی ہے۔عید کی تیاریاں عروج پر ہیں ،نئے کپڑے ،نئے جوتے اور سیر و تفر یح کے پروگرامز ،دعوتیں کھانے اور کھلانے کے سلسلے بھی فائنل ہو رہے ہیں ۔یعنی خوب رونق ہو گی ،ہلا گلا ہو گا اور موج مستی ہو گی۔یقیناًبیان کردہ دونوں وجوہات خوشی کا سبب ہیں اور ان کا اظہار بھی کرنا چاہیے ۔مگر حقیقی اور پائیدار خوشی تب ہو گی ،جب ہم پیام رمضان اور مقصد عید کو صیح معنوں میں سمجھ پائیں گے ااور پھر سارا سال اس پیام اور مقصد کو لے کر زندگی گذاریں گے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اپنا مہینہ قرار دیا۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ رمضان المبارک خالق کا مہینہ ہے۔اور خالق اپنے سب سے زیادہ انعام و اکرام ،رحمتیں اسی مہینے میں نازل کرتا ہے ۔( بر سبیل تذکرہ یہ بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں ،کہ رمضان المبارک میں عطا کردہ ہمارا پیارا وطن پاکستان بھی اللہ کا خصوصی انعام اور خاص رحمت ہے ،کا ش ہم پاکستانی اس کی قدر کرنا سیکھ سکھیں ) خیر تو میں عرض کر رہا تھا کہ چونکہ خالق اس مہینے میں اپنی مخلوق پر خاص الخاص نگاہ کرم کرتا ہے ،لہذا مخلوق بھی اپنے خالق کو راضی کرنے کے لیے عبادات کا خاص اہتمام کرتی ہے ۔مگر ہمیں اللہ تعالی یعنی اپنے خالق کو راضی کرنے کے لیے سب سے آسان طریقے کے بارے میں امام زین العابدین کے قول مبارک کو یاد کرنے اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے ۔امام زین العابدین کے قول مبارک کا مفہوم ہے ،کہ جس دن لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ خالق تک جانے کا سب سے آسان راستہ ااس کی مخلوق کی خدمت ہے ،اس دن سب مسائل حل ہو جائیں گے۔اگر ہم مندرجہ بالا قول مبارک کی روشنی میں پیام رمضان کو سمجھنے کی کو شش کریں تو ہم جان پائیں گے کہ رمضان کا اصل پیام اپنے دستر خوان کو نت نئے پکوانوں سے سجانے کا نام نہیں ،بلکہ اپنے دستر خوان کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا نام ہے ۔رمضان روزہ رکھ کے خود کو آسودہ ماحول فراہم کرنے کا نام نہیں ،بلکہ روزہ رکھ کے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے اور پھر دوسروں کی زندگی سے تکالیف دور کرنے اور آسودگی لانے کے طریقوں پر غور اور اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور عمل کا نام ہے ۔پیام رمضان یہ بھی ہے کہ عبادات اور احساسات صرف تیس دنوں کے لیے نہیں ،بلکہ ان تیس دنوں میں حاصل کی گئی روشنی کو لیکر پورا سال اس روشنی سے اپنی اور دوسروں کی راہیں منور کرنا اور دوسروں کی زندگیوں سے اندھیرے دور کرنے کا نام ہے۔اسی طرح اگر ہم پیام رمضان کے بعد مقصد عید کا تذکرہ کریں تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ عید محض رنگ برنگے ملبوسات اور پکوانوں کا نام نہیں ،بلکہ مقصد عید یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی دوسرے کے آنگن میں بھی عید اترے۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو تو فیق دے رکھی ہے کہ آپ عید پر اپنے اور اپنے بچوں کے چاؤ پورے کر سکتے ہیں تو شکرانے کے طور پر کسی ایک غریب گھرانے کے بچوں کی خواہشات بھی پوری کیجیے ،انھیں ساتھ لے جا کر شاپنگ کروائیں ،کھانے پینے کا جو سامان اپنے لیے خریدیں ان کو بھی لے کر دیں ،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ،کہ آپ کو عید کا اصل مقصد ،اصل لطف سمجھ آئے گا۔اپنے بچوں کو بھی قائل کیجیے کہ وہ اپنی عیدی میں سے بچت کر کے کچھ پیسے اپنے ہم عمر غریب اور ضرورت مند بچوں پر خرچ کریں ۔اس سے نہ صرف آپ اپنے بچوں کی بہتر تربیت کر پائیں گے ،بلکہ اپنا اور اپنی اولاد کا اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط کر پائیں گے۔آسانیاں اور خوشیاں تقسیم کرنے کا یہ عمل صرف رمضان میں نہیں بلکہ سارا سال جاری رہنا چاہیے۔اللہ تعالی نے آپ کو جتنی نعمتوں سے نوازہ ہے ، ان سب نعمتوں کا الگ الگ شکر ادا کرنا واجب ہے۔اگر آپ پڑھے لکھے ہیں اور اپنے بچوں کو خود ہوم ورک کروا سکتے ہیں تو شکرانے کے طور پر محلے کے کسی ایسے بچے کو بھی پڑھائی میں مدد کریں جو ٹیوٹر کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں۔اگر آپ خوشحال ہیں اور اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کر سکتے ہیں تو شکرانے کے طور پر کسی غریب کی بیٹی کی شادی کروا دیں۔اگر آپ کے پاس محل نما مکان ہے تو لازمی ہے کہ کسی غریب کو ایک دو کمرے کا مکان بنوا دیں۔اگر آپ صحت مند ہیں تو کسی غریب مریض کے علاج میں مدد کر کے اپنی صحت کا شکر ادا کریں۔اسی طرح حاصل شدد تمام نعمتوں کا اسی طرز میں شکر ادا کریں۔اس سے آپ کے پاس موجود نعمتوں میں اضافہ ہو گا اور یہی پیام رمضان اور مقصد عید ہے ۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین