Breaking News

اسلام کا بنیادی حکم ،بیٹی کی تعلیم

faisal rashid lehri
فیصل رشید لہڑی

تعلیم کسی بھی فرد کا بنیادی حق ہوتا ہے اور ہمارا مذہب حصول تعلیم کو فرض کا درجہ دیتا ہے۔آج کل کے والدین اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنے بچوں کے لئے بہترین تعلیم و تر بیت کا انتظام کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔مگر یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ والدین اپنے وسائل کا زیادہ تر استعمال اپنے بیٹوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ان کے نزدیک چونکہ بیٹا ہی خاندان کا وارث ہوتا ہے ،لہذا اسے تعلیم کے لیے بہترین مواقع اور سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین تر جیح ہوتی ہے۔شہری علاقوں میں بیٹے کی تعلیم کو بیٹی کی تعلیم پر تر جیح دینے کی شرح کم ہے مگر دیہی علاقوں میں یہ تقسیم ایک واضع فرق کے ساتھ موجود ہے ۔دیہی علاقوں میں آج بھی بیٹے پر کیا گیا خرچ بہترین سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس کی کامیابی کا فائدہ اپنے گھر اور خاندان کو ہو گا۔اور یہ سطحی سوچ ابھی بھی اپنے گہرے اثرات رکھتی ہے ،کہ بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں۔لہذا انھیں گھر گرہستی سکھا کر اور واجبی تعلیم دے کر جلد از جلد رخصت کر دینا چا ہیے ۔جب تک ہم اس ناکارہ سوچ سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرتے اور بیٹی کی تعلیم کو بھی بیٹے کی تعلیم کے مساوی اہمیت نہیں دیتے ،ہم کبھی بھی ایک متوازن معاشرہ یا ایک ترقی یا فتہ قوم نہیں بن سکتے۔صرف یہی نہیں ،بلکہ جب تک ہم بیٹیوں کی تعلیم کو اولین تر جیح نہیں ویتے ،در حقیقت اس وقت تک ہم اسلام کے بنیادی فلسفے اور روشن تعلیمات سے بھی دور رہیں گے۔اگر ہم اسلام کی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ اور مشاہدہ کریں ،تو ہم دیکھیں گے کہ دین فطرت اسلام نے سب سے بڑا اور واضع فرق عورت کی زندگی پر ڈالا ہے۔اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے کا اگر ہم جائزہ لیتے ہیں ،تو ہم دیکھتے ہیں کہ عرب آمد اسلام سے پہلے بھی بہادر ،جرات مند اور جری تھے۔مگر یہ بہادری ذاتی غرور اور شان کے اظہار کے لیے استعمال ہوتی تھی۔اسی لیے کبھی وہ پانی پلانے اور کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پر نسل در نسل جھگڑتے تھے۔تاہم اسلام نے آ کر ان کی اس بہادری کی صفت کو سیدھی راہ دکھائی اور وہ لوگ اپنی ذات کی بجائے اسلام اور حق کے لیے جوانمردی سے لڑے۔اسی طرح وہ اسلام سے پہلے بھی مہمان نواز اور ماہر ابلاغ تھے ،اسلام نے آکر ان کی ان دونوں خوبیوں کو پاکیزگی اور سچائی کا رنگ دیا۔تاہم جو دو چیزیں عرب معاشرے میں بالکل بھی نہیں تھیں وہ اسلام نے آ کر پیدا کی ۔وہ یہ تھیں اول وہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون رکھتے تھے،دوم یہ کہ وہ عورت کی بالکل بھی عزت نہیں کرتے تھے اور اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔تاہم آمد اسلام کے بعد قانون کی نظر میں سب برابر ٹھہرے اور عورت کو محترم ترین مقام عطا ہوا۔میرا آج کا مو ضوع چونکہ بیٹی سے متعلق ہے ،لہذا میں صرف اس کے متعلق عرض کرنا چا ہوں گا۔اسلام نے آکر عورت کو عزت دی ۔آپ ﷺ نے تعلیم کو عورت کے لیے ویسے ہی فرض قرار دیا جیسا کہ مرد کے لیے۔آپ ﷺ نے اپنے عمل سے عورت کے ہر روپ کو عزت اور مر تبہ عطا فرمایا۔آپ ﷺ ہمیشہ عورتوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی فرمائی۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ جیسا کہ حضرت عائشہؓ اور بیٹی حضرت فاطمہؓ علم کے بلند ترین درجات پر فائز تھیں۔مگر مقام افسوس ہے کہ ہم نے اسلام کی بنیادی تعلیم اور حکم فراموش کر دیا ہے۔آج بھی جنوبی پنجاب ،اندرون سندھ ،بلوچستان اور کے پی کے میں عورتوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ان علاقوں میں عورتوں کی اکثریت قابل رحم زندگی گذار رہی ہے۔اور شاید تعلیم کے نام سے بھی نا آشنا ہے۔تاہم ان علاقوں میں سفاکانہ رسم ورواج کی بھینٹ ہمیشہ عورت چڑھتی ہے۔ایک ایسی قوم جو اپنی آدھے سے زیادہ آبادی کی تعلیم کے متعلق اس قدر بے حس ہو اورخواب دیکھے جدید دنیا کے ساتھ چلنے کے ،تو احمقوں کی جنت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے آباد ہے۔بدقسمتی سے عورتوں کی سو فیصد تعلیم کا حصول کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کا منشور نہیں۔ووٹ کی عزت ،نیا پاکستان ،عدل کی بحالی ،روٹی کپڑا اور مکان ،اور نظام محمدی ﷺ کا نعرہ اس وقت تک صرف سیاسی نعرہ ہی سمجھا جائے گا ،جب تک یہ نعرہ لگانے والی جماعتیں سو فیصد تعلیم برائے خواتین کو اپنے منشور میں سر فہرست نہیں رکھتی۔معاشرے کے تمام افعال طبقات کو عورتوں کی تعلیم کو اولین تر جیح بنانا ہو گا۔اور عورتوں کی تعلیم کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہو ں گے۔ورنہ معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی پستی کا جو سفر جاری ہے ،وہ رک نہیں پائے گا۔ایک خوبصورت ،اعتدال پسند اور روشن پاکستان صرف ارو صرف پڑھی لکھی بیٹیوں کے مرہون منت ہے۔اپنی بیٹی کے ساتھ محبت کا بہترین اظہار اسے زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ایک متوازن معاشرے کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ عورت اس معاشرے میں وقار ،عزت اور احساس تحفط کے ساتھ اپنی تعلیم کو بروئے کا ر لاتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔اور یقین جانیے کہ اسلام کی سب سے خو بصورت تشر یح یہی ہے۔اس کے بنا بہتر پاکستان کا خواب تو دیکھا جا سکتا ہے مگر تعبیر ممکن نہیں

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین