Breaking News

مقصدیت سے عاری ،عوامی رابطہ مہم

faisal rashid lehri
فیصل رشید لہڑی

الیکشن2018کی آمد آمد ہے ۔الیکشن بر وقت ہوں گے یا نہیں ،اس خدشے کے با وجود تمام جماعتیں بھرپور عوامی مہم کا آغاز کر چکی ہیں۔علاقائی ،صوبائی اور قومی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی طاقت کو دیکھانے اور بڑھانے کے لیے جلسے جلوس کا اہتمام کر رہی ہیں۔خاص کر ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں ،پاکستان مسلم لیگ (ن) ،پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔نواز شریف ،شہباز شریف ،مریم نواز ،آصف زرداری ،بلاول بھٹو اور عمران خان تقریبا روزانہ ہی کسی نہ کسی جگہ پر عوامی اجتماع سے مخاطب ہوتے ہیں۔اگر ہم ان سب راہنماؤں کے خطابات کو سنیں ( جس کے لیے بہت زیادہ حوصلہ چاہیے) تو ہم دیکھیں گے کہ ان سب راہنماؤں کے خطابات اور تقاریر کا مرکزی خیال ایک ہی ہے ،مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ۔اور اس کام کے لیے یہ سب جن الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں وہ اس قدر سطحی ہوتے ہیں کہ میں انھیں دوبارہ تحریر کر کے آپکے ذوق مطالعہ کو آزمانا نہیں چاہوں گا۔آپ کو مجھ سے اختلاف کا حق حاصل ہے مگر میرے خیال میں یہ جو نعرہ ہم لگاتے ہیں یا سنتے ہیں ،کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ،یہ ایک محسور کن نعرے کے علاوہ کچھ نہیں۔یہ سچ ہے کہ ہم ملک کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی قدرتی آفت آ جائے تو بطور قوم ہم ان لوگوں کی بھر پور مدد کرتے ہیں۔ایک بھی ایک خوبصورت سچ ہے کہ ہم پی ۔ایس۔ایل فائنل کے سارے ٹکٹس ایک گھنٹے میں خرید لیتے ہیں۔مگر تلخ حقیت یہ ہے کہ کسی قوم کی زندہ دلی کو ماپنے کے پیمانے اس کے علاوہ بہت سے ہیں۔اور اگر ہم خود کو ان پیمانوں پر پر کھیں تو ہم ایک زندہ دل نہیں بلکہ ایک تماش بین قوم ہیں۔زندگی اور زندگی کی بہترین نمو کے لیے کون سے لوازمات درکار ہیں ،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔دور اندیشی ہمیں چھو کر نہیں گذری اور کو ہ تا اندیشی میں ہمارا کو ئی ثانی نہیں۔ایک ہجوم کو قوم میں بدلنے کا سفر کس طرح طے ہو گا،ہم اس منزل کے راہی ہی نہیں ،اسی لیے آزادی کے ستر سالوں بعد بھی ہمیں اپنی منزل کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔صف اول کی سیاسی قیادت آج کل جس طرح کے خطابات کر رہی ہے اور ان خطابات پر بطور قوم جس طرح ہم بھنگڑے ڈال رہے ہیں ،تو بھروسہ رکھیں کہ کسی دشمن کو ہمارے خلاف سازش کرنے کی زحمت فرمانے کی ضرورت ہی نہیں۔کیا ہماری قومی قیادت قومی مسائل کا ادراک رکھتی ہے ۔کیا قسمت کی ستم ظریفی سے جو راہنما ہمیں میسر ہیں وہ اس قابل ہیں کہ قوم کی راہنمائی کر سکیں کہ پاکستان کے پہاڑ جیسے قر ضے کس طرح ادا ہوں گے۔ٹیکس نظام کس طرح بہتر کیا جائے گا۔یورپ ،امریکہ اور دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کیا مسائل ہیں اور یہ مسائل عزت نفس اور خود مختاری پر سمجھوتہ کیے بنا کس طرح حل کیے جائیں گے۔مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی تفریق اور لڑائیوں میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور مستقبل میں مسلم امہ کو پیش آنے والے چیلنجز میں پاکستان کا کردار کیا ہو گا۔قومی اداروں کی تشکیل نو کس طرح ہو گی۔خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے والوں کا میعار زندگی کس طرح بلند کیا جائے گا۔علاقائی ،صوبائی اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے ہمارا قومی منشور کیا ہو گا۔یکساں نظام تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع کس طرح فراہم کیے جائیں گے۔کس طرح اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملکی سرمایہ دار اور بیرونی سرمایہ کا ر زیادہ سے زیادہ پاکستان کے اندر کاروبار کریں اور لوگوں کو روزگار مہیا کریں۔اور ہمارے ذہین ترین لوگ جو پاکستان کے نظام سے مایوس ہو کر دوسرے ممالک کو اپنی صلاحیتوں سے ترقی دے رہے ہیں ،یہ ذہین ترین لوگ اپنے پاکستان کا مقدر بدلیں ،اس کے لیے کون سے ہنگامی اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔قانون کی حکمرانی کس طرح قائم ہو گی۔ہمسایہ ممالک خصوصا بھارت کے ساتھ تعلقات کا صیح رخ کس طرح طے کیا جا سکتاہے ۔اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم اور بہترین بلدیاتی نظام کس طرح تشکیل پائے گا۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور جنسی بے راہ روی کا تدارک کس طرح ہوگا۔خواتین کس طرح ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گی۔قوم کی تر بیت کن خطوط پر کی جائے گی ،کہ بائیس کروڑ کا یہ ہجوم (جس پر قوم ہونے کی تہمت ہے ) صیح معنوں میں ایک قوم بن سکے۔اور سب سے اہم بات کے سی ۔پیک کیا ہے ؟ اس سے پاکستان کس طرح زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکے گا اور سی ۔پیک کے متعلق جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ،ان خدشات اور اس کے مضمرات سے کس طرح بچا جائے گا۔یہ ہیں کچھ اہم مسائل جن پر اس قوم کو راہنمائی درکار ہے ۔مگر کاتب تقدیر نے جو راہنما ہماری قسمت میں لکھے ہیں انھیں ان سب چیزوں کا نہ تو شعوروادراک ہے اور نہ ہی انھوں نے کبھی اس بات کو اہم جانا۔خیر اس میں ان راہنماؤں کا بھی قصور نہیں کیونکہ وہ جلسوں میں قوم کو وہی کچھ سنا رہے ہیں ،جو یہ قوم سننا چاہتی ہے۔اتنے سالوں بعد مجھے اب سمجھ آئی کہ مولا جٹ ٹائپ فلمیں اور سلطان راہی جیسے کردار اتنے مقبول کیوں تھے ؟ کیونکہ وہ شریکوں (مخالفین ) کو کاٹ کے رکھ دیتے تھے۔بھڑک اچھی مارتے تھے۔قانون کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اب جو قوم سلطان راہی مرحوم کی گنڈاسہ مار فلمز پر کھڑی توڑ رش دے ، وہ قوم ایسے ہی خطابات سننا چاہے گی ،جس طرح کے خطابات آج کل ہماری سیاسی قیادت کر رہی ہے۔کیونکہ یہ تو ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جس طرح کا دودھ ویسا مکھن ،جیسی روح ویسے فرشتے۔پس چونکہ بطور قوم ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ،لہذا ہمیں جو سیاسی قیادت میسر ہے وہ بھی نہیں بدلے گی۔لہذا اس صورت حال میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ،لگے رہو منا بھائی

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین