Breaking News

طرز حکومت اور طرز زندگی دونوں کو بدلنا ضروری ہے

faisal rashid lehri
فیصل رشید لہڑی

اس میں دو رائے نہیں کہ خراب طرز حکومت پاکستان کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے ،اور طرز حکومت کو شفاف اور بہتر کیے بنا ہم پاکستان کو مسائل کے بھنور سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر نہیں ڈال سکتے ۔عالمی اور قومی سطح پر درپیش مسائل کا واحد حل طرز حکومت میں مثبت تبدیلی ہے۔تعلیم ،صحت ،ٹیکس نظام ،زراعت ،آبی وسائل ،معیشت ،توانائی بحران ،غرض ہر شعبہ زندگی زوال اور پستی کا شکار ہے اور ان میں بہتری لائے بغیر اب گذارہ ہی نہیں۔تاہم صرف ان مسائل کے بہتر حل کی طرف چل پڑنے سے ہم ایک بہتر قوم اور بہتر ملک کی منزل کی طرف سفر کا آغاز نہیں کر پائیں گے جب تک ہم طرز حکومت کے ساتھ ساتھ طرز زندگی میں بھی بدلاؤ نہ لائیں۔ہمارا طرز زندگی بھی ہمارے مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔لہذا نئی آنے والی حکومت اور وزیر اعظم کو نئے طرز حکومت کے ساتھ ساتھ نئے طرز زندگی کو بھی فروغ دینا ہو گا۔اس سلسلہ میں سائیکل کی سواری کو فروغ دینا ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ چین اور ترقی یافتہ مغربی دنیا میں سائیکل آج بھی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سواری ہے ،لیکن ہمارے جیسی غریب مگر نمود ونمائش کی عادی قوم سائیکل کو چھوڑ چکی ہے۔کیا نئی آنے والی حکومت کے وزیر اعظم اور وزراء پارلیمنٹ لاجز سے اسمبلی اور دفاتر تک کا راستہ سائیکل پر طے کرنا پسند کریں گے ؟ اگر ایسا ہو جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ہم قومی سطح پر ایک زبردست کام سرانجام دینے میں کامیاب ہو گے ہیں۔سائیکل سواری پیڑول کی کھپت میں کمی لا کر ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ورزش اور واک سے دور اس قوم کی صحت بھی بہتر ہو جائے گی اور حکومت سچے دل سے سکول ، کا لج اور دفاتر جانے کے لیے سائیکل سواری کی حوصلہ افرائی کرے تو ناقابل یقین بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مگر یہ صرف باتوں سے ممکن نہیں ہو گا ،وزیر اعظم ،وزراء اور اعلی افسران کو سائیکل پر آنا ہو گا۔جدید ترین اور مہنگا ترین موبائل فون کا حصول بھی ہمارا ایک اہم مسئلہ یا ذہنی بیماری ہے۔اس رحجان کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔اگر نئے وزیر اعظم پاکستان ،پاکستان میڈ موبائل فون استعمال کریں گے اور عوامی سطح پر اس کا بر ملا اظہار فر مائیں گے تو یہ ایک بہترین قو می خدمت اور قوم کی راہنمائی اور تشکیل میں اہم پیش رفت ہو گی۔افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے حکمران بھی غیر ملکی کپڑوں ،جوتوں اور گھڑیوں کے نہ صرف شوقین ہیں بلکہ با قاعدہ اس پر فخر کرتے ہیں۔جب کسی ملک کے حکمران اس قدر احساس کمتری کا شکار ہوں تو پھر عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔نئے وزیر اعظم اور وزراء اگر سادگی اختیار کرتے ہوئے پاکستانی کپڑے اور دیگر مصنوعات استعمال کریں اور عوام کو بھی سادگی کا درس دیں تو یہ بھی ایک اہم قومی خدمت ہو گی۔ہمارے طرز زندگی میں ایک اور بہت بڑی کمی کتاب سے دوری ہے ۔ہمارے حکمرانوں اور اراکین پارلیمنٹ کا کتاب بینی سے کوئی واسطہ ہی نہیں ،لہذا قوم بھی اس سلسلے میں فارغ ہے ۔کیا نئے وزیر اعظم اور وزراء ہمیں کتابیں خریدتے نظر ائیں گے ،اور پھر ان کتابوں کے حوالہ جات ان کی گفتگو کو بہتر کریں گے؟ اگر ایسا ہوا تو یقیناًحکومت کے کہنے پر عوام میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہو گا اور کس کو نہیں پتہ کہ بہتر طرز زندگی کے لیے کتاب پڑھنا کس قدر مفید ہے ۔بطور قوم ہمارا شمار ان قوموں میں ہوتا ہے جو کھانے پینے کے دلدادہ ہیں ،مگر کھانے کے آداب سے ہم یکسر نا واقف ہیں ۔ہم شادی بیاہ کے موقع پر دیکھتے ہیں کہ کھانا شروع ہوتے ہی محمودوایاز ایک طرح کے ندیدہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ہم اپنی پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا لیتے ہیں ،اور اس طرح بہت سا کھانا ضائع کر دیتے ہیں اور ہمیں اپنے اس عمل پر ذرا بھی افسوس نہیں ہوتا۔کیا نئے وزیر اعظم کو قوم کے سربراہ اور باپ کی حثیت سے اس اہم ترین ایشو پر قوم سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ؟ ان امور کے علاوہ جن کاموں سے ہمارا طرز زندگی بہتر ہو سکتا ہے ، ان میں ٹریفک رولز کی پابندی ،ہارن کا کم استعمال ۔کھانے کے آداب سیکھنا ، خوشی اور غمی کے مو قع پر بے جا اور فضول رسموں سے چھٹکارہ ،زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ،کم بچے پیدا کرنا ،شاپرز کی جگہ کپڑے کے تھیلے کا استعمال کرنا ،وال چاکنگ ختم کرنا ،سڑکوں اور گلیوں کو صاف رکھنا اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی ایف آئی آر سے اجتناب شامل ہے۔نئے وزیر اعظم کو اس سلسلہ میں قوم سے کھل کر بات کرنے اور قوم کی تر بیت کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن اس کے لیے وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کا اپنا طرز عمل کی سب سے بڑی ترغیب یا رکاوٹ ہو گا۔نئی حکومت کو بہتر طرز حکومت اور بہتر طرز زندگی دونوں کو متوازی لے کر چلنا ہو گا۔اللہ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین