Breaking News

پی پی169کی سیاسی صورتحال


امتیاز علی شاکر

صدرمملکت کی جانب سے 25جولائی کے دن عام انتخابات منعقدکروانے کے حتمی اعلان کے بعد ملک بھرمیں عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔راقم نے گزشتہ عام انتخابات میں زمینی حقائق کوسمجھتے ہوئے این اے 129اورپی پی159سے میاں شہبازشریف کی باآسانی کامیابی اوروفاق سمیت پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے کاخیال ظاہرکیاتھاجووقت آنے پراللہ تعالیٰ کے حکم سے سچ ثابت ہوا ۔ملکی یاصوبائی صورتحال پربھی وقت آنے پربات کروں گا۔آج اپنے قارئین کے سامنے کاہنہ کے نواحی علاقوں پرمشتمل پی پی169کی سیاسی صورتحال پرروشنی ڈالنے کی کوشش کرنے جارہاہوں۔پی پی169گجومتہ،نشترکالونی،دلوخورد،یوحناآباد،گلکسوٹاؤن ،آصف ٹاؤن،جٹھول گاؤں،بلٹرگاؤں،کمہاں گاؤں کاپچاس فیصدعلاقہ،خالق نگر،گلشن منیرکالونی،عیسی نگر،کاچھاگاؤں،لیل گاؤں اوردیگرگنجان آبادعلاقوں پرمشتمل صوبہ پنجاب کاسیاسی لحاظ سے انتہائی اہم حلقہ ہے۔الیکشن2018ء کیلئے ہونے والی نئی حلقہ بندیوں سے قبل یہ حلقہ پی پی159اورپی پی160کاحصہ تھا۔پی پی169شہرلاہورکے دیہاتی علاقوں پرمشتمل ہے ۔ماضی میں ان علاقوں سے مسلم لیگ،پیپلزپارٹی اورمشرف دورمیں ن لیگ اور ق لیگ کے امیدوارکامیاب ہوتے رہے ہیں۔پنجاب کے دیگرحلقوں کی طرح یہا ں بھی برادریاں اُمیدوارکی کامیابی میں اہم کرداراداکرتی ہیں۔پہلے نمبرپرمسیح برادری،دوسرے نمبر پرمیؤ،جٹ،ملک،رحمانی،آرائیں اورراجپوت اس حلقے کی بڑی برادریاں سمجھی جاتی ہیں۔صوبہ پنجاب کے دیگرحلقوں کی طرح یہاں بھی اس بارمقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن اورپاکستان تحریک انصاف کے اُمیدواروں کے درمیان متوقع ہے۔پیپلزپارٹی اورآزاداُمیدواریہاں زیادہ مزاحمت کرتے نظرنہیں آتے البتہ تحریک لبیک پاکستان ،ملی مسلم لیگ ،لبیک اسلام اورایم ایم اے کے اُمیدوارتاحال سامنے نہیں آئے البتہ ان جماعتوں کے اُمیدواراپنے اپنے مخصوص ووٹ حاصل کریں گے۔2013ء کے عام انتخابات میں پی پی 159سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف نے پاکستان تحریک انصاف کے امتیاز وڑائچ کوشکست دے کرباآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔الیکشن 2018ء میں پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 25مئی تھی۔حلقہ پی پی 169سے ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے جن امیدواروں نے فارم جمع کرواے ان میں اصغرمجید(گجومتہ)راناجعفر،سابق ٹکٹ ہولڈر،راناخالدقادری،چیئرمین نشترکالونی،ملک طاہراعوان،سابق ناظم یوسی کاہنہ،محمدرمضان المعروف مستانہ،راناراشد اوراخترحسین بادشاہ کے نام شامل ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جونام سامنے آئے ہیں اُن میں علی مرتضی اورحاجی رفیق شامل ہیں۔اس حلقے کامزاج بتاتاہے کہ یہاں پاکستان مسلم لیگ ن نے بہتراُمیدوارکوٹکٹ دیاتوکامیابی یقینی ہوجائے گی۔یہاں پاکستان مسلم لیگ ن کے کچھ ورکررانامبشراقبال کے گروپ میں اورکچھ افضل کھوکھرخاندان کی حمایت کرتے ہیں۔رانامبشراقبال پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمااورپارٹی قیادت کے انتہائی قریب ہیں اس لئے اس حلقے میں ٹکٹ جاری کرتے وقت پارٹی قیادت ممکنہ طورپررانامبشراقبال کی رائے لے سکتی ہے اوراس بات کاقوی امکان ہے کہ رانامبشراقبال اصغرمجید(گجومتہ) کے حق میں رائے دیں۔افضل کھوکھرخاندان ممکنہ طورپرراناخالدقادری کوسپورٹ کرسکتاہے،کھوکھرخاندان بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت کاحصہ اورشریف فیملی کے انتہائی قریب ہے۔راناخالدقادری متعددبارچیئرمین اورمشرف دورمیں پی پی 159سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرق لیگ کے چوہدری منشاء سندھو کے ہاتھوں بری طرح الیکشن ہارچکے ہیں۔ملک طاہراعوان نشترکالونی یوسی سے آزادحیثیت میں چیئرمین کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے تھے ان کے متعلق اہل حلقہ کی اکثریت کی رائے ہے کہ وہ چیئرمین کی حد تک تو ٹھیک ہیں جبکہ ایم پی اے کیلئے نامناسب اُمیدوارہوں گے۔رمضان مستانہ کاہنہ یوسی سے دومرتبہ ناظم منتخب ہوچکے ہیں جبکہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ پرآزاداُمیدوارحاجی بشارت علی رحمانی سے شکست ان کا مقدر بنی۔ راناجعفرحسین بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ پروائس چیئرمین کے الیکشن ہارچکے ہیں۔اخترحسین بادشاہ پاکستان مسلم لیگ ن کے پرانے اورمخلص کارکن کے طورپرجانے جاتے ہیں۔انہوں نے پی پی 168اورپی پی169دوحلقوں سے ٹکٹ کے حصول کیلئے فارم جمع کروائے ہیں۔بنیادی طورپراخترحسین بادشاہ کاتعلق پی پی 168سے ہے جہاں وہ زیادہ موثراُمیدوارثابت ہوسکتے ہیں،راناراشد کونہ توراقم ذاتی طورپرجانتاہے اورنہ ہی عوام جانتے ہیں لہٰذااُن کے متعلق کوئی رائے قائم کرنانامناسب ہوگا۔جہاں تک بات ہے نظریاتی ووٹرزکی تووہ اپنی پارٹی قیادت کے فیصلے کااحترام کرتے ہوئے کسی بھی ٹکٹ ہولڈرکے حق میں ووٹ کاسٹ کریں گے پرجب بات آتی ہے برادریوں کی توبڑی برداریاں شائد اُس طرح تمام اُمیدواروں کوسپورٹ نہ کریں۔جس طرح اصغرمجید گجومتہ کاساتھ دیتی نظرآتی ہیں۔اصغرمجیدن لیگ کے سرگرم کارکن اورحلقہ کی مسیح برادری کے بعد سب سے بڑی میؤبرادری کے فرزندہونے کیساتھ ساتھ ملک،جٹ،آرائیں،راجپوت،رحمانی اورمسیح برادری کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں۔اصغرمجید مشرف دورمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ڈٹ کرکھڑے رہنے والے کارکنوں میں سے ایک ہیں جبکہ گجومتہ جوکہ پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق پی پی160کاحصہ تھاوہاں سے مشرف دورکے الیکشن 2002میں ملک افضل کھوکھرایم پی اے کے اُمیدوار تھے یہ وہ دورتھاجب زیادہ لوگ ن لیگ کوچھوڑکرق لیگ میں شامل ہوچکے۔اصغرمجیدتب بھی ملک افضل کھوکھرکی الیکشن مہم زورشورکے ساتھ چلاتے رہے یہاں تک کہ ملک افضل کھوکھرالیکشن جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ الیکشن 2008میں یہاں سے پاکستان مسلم لیگ کے رانامبشراقبال ن لیگ کے اُمیدوارتھے ۔یہ ق لیگ کادورحکومت تھااورتمام ن لیگی ق لیگ کوپیارے ہوچکے تھے اُس وقت بھی اصغرمجید رانامبشراقبال کاسپوٹرتھا،رانامبشراقبال الیکشن2008ء میں یہاں سے ایم پی اے منتخب ہوئے اوراُن کے استعفے کے بعد ن لیگ کے ہی ملک سیف الملوک کھوکھرکامیاب ہوئے تھے۔2013ء کے الیکشن میں پی پی159اوراین اے129سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کامیاب ہوئے ۔ماضی میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ حلقہ پاکستان مسلم لیگ ن کاگڑھ ہے تاہم آئندہ الیکشن میں یہاں کون سی پارٹی الیکشن میں کامیابی حاصل کرے گی اس بات کافیصلہ حلقے کے عوام نے کرناہے جووقت آنے پرہی معلوم ہوگااورکون سی پارٹی اپنے کس اُمیدوارکے حق میں فیصلہ کرتی یہ بھی آنے والاوقت ہی بتائے گاالبتہ یہ بات زمینی حقائق پرمبنی ہے کہ درست اُمیدوارکاانتخاب کسی بھی پارٹی کی کامیابی کاضامن ہوگا

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین