Breaking News

سعودی عرب۔۔۔ متبادل بیانیہ میں حائل مشکلات


صاحبزادہ محمد امانت رسول

معاشی تحزیہ نگاروں کا کہنا ہے سعودی عرب تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس معاشی بحران کے خاتمے اورحالات پہ کنٹرول کرنے کے لئے ، سعودی حکومت چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ وہ اس کوشش میں مصروف ہے کہ داخلی اورخارجی عوامل و اسباب جو معیشت کے لئے خطرہ ہیں، ان سے جتنا جلدی ہو سکے نمٹا جائے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کا حالیہ بیان اسی کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے اقتصادی کانفرنس میں اُن خیالات کا اظہار کیاہے جو سعودی عرب میں موجود قدامت پسند طبقے کو پسند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم پہلے ایسے نہیں تھے، ہم اس جانب واپس جا رہے ہیں جیسے ہم پہلے تھے، ایسا اسلام جو کہ معتدل ہے اورجس میں دنیا اوردیگر مذاہب کے لئے جگہ ہو‘‘۔۔۔ولی عہد نے یہ بھی کہا ’’کہ ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دینگے ،ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کر دیں گے‘‘۔ ولی عہد کے اس بیان کے ساتھ ہی ان دنوں میں امام کعبہ کی تقاریر و لیکچرزکی اقتباسات اخبارات کی زینت بنے ہیں ان میں سے ایک میں امام کعبہ نے فرمایا، ’’چھوٹی چھوٹی چیزوں پہ حلال و حرام کے فتوے نہیں دینے چاہئیں‘‘۔ اسی طرح دوسرے بیان میں فرمایا، ’’دنیاوی مصلحتوں کے تحت مغرب سے تعلقات قائم کیئے جا سکتے ہیں جہاد کاحکم صرف ریاست دے سکتی ہے کوئی تنظیم نہیں ‘‘یہ بھی فرمایا’’ کسی کو کافر یا مرتد قرار دینا حکومت وقت یا عدلیہ کاکام ہے ، فردِواحد کانہیں‘‘ سعودی عرب میں حقیقتاً اقتدار کے دوستون ہیں، ایک حکومتی معاملات کو چلاتا ہے اوردوسرا مذہبی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ حالیہ بیانات انہی دونوں نمائندگان کی طرف سے آنا خوش آئند بات ہے۔
متبادل بیانیہ تبدیلی کا آغاز ہے لیکن اس شفٹنگ (Shifting) میں پیش آنے والی مشکلات غیرمعمولی ہیں ۔ غیر معمولی مشکلات میں سے اول مشکل مذہب کی وہ تشریح ہے جو سال ہاسال سے سعودی عرب کا ریاستی نظریہ بن چکی ہے ۔خواتین ،غیر مسلموں اور نظامِ عدل سے متعلق جو مخصوص تصورات پہ مشتمل ہے ۔ ولی عہد اسلام کی جس انفرادیت و خصوصیت کو بیان کر رہے ہیں وہ کافی حد تک ہمارے مسالک و فرقوں میں ناپید ہو چکی ہے ۔ اُن کے نزدیک دیگر مسلم فرقوں کو ماننے والے ،’’ غیر مسلم و مرتد‘‘ قرار پاتے ہیں۔ سعودی معاشرہ ایسی سوچ اوررویے کا سامنا کئی سالوں سے کر رہا ہے۔
غیر معمولی مشکلات میں سے ایک اور مشکل سعودی عرب کا داخلی نظام ہے جوغیر ملکیوں کے لئے تفریق و تذلیل پہ مبنی ہے ۔ جب سے معاشی بحرا ن پیدا ہوا ہے اس کا سب سے بڑا نشانہ ’’خارجی‘‘ بن رہے ہیں ۔ بے جا لگائے جانے والے ٹیکسزنے ان کی زندگیوں کو اجیرن کر کے رکھ دیا ہے۔ بہت سے خاندان اپنے اپنے ممالک میں واپس جا چکے ہیں اس سے پہلے وہ اپنی قانونی حیثیت کی وجہ سے سعودی عرب میں خوش اورمطمئن نہیں ،مزید برآں ان پہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی لا د دیا گیا ہے۔ ولی عہداصلاحات کو اس طرح اپنے ہاں نافذ کریں جیسے مغربی ممالک نے اپنے ہاں آنے والے ’’خارجیوں‘‘ کو شہریت دے کر مساوی درجہ اورحقوق دیئے ہیں۔ معیشت میں مضبوطی اور ملکی تعمیر میں غیر ملکیوں کی کوششوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ مغرب نے ان کی محنت کو تسلیم بھی کیا اورانہیں اپنے جیسے شہری حقوق بھی دیئے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
غیر معمولی مشکلات میں سے تیسری مشکل حکمرانوں کی عیاشی اور فضول خرچی ہے۔ مسلم حکمرانوں کی نفسیات مشترکہ ہے اوروہ یہ ہے کہ اپنے ’’اخراجات‘‘ کو کم کرنے کے بجائے عوام پہ ٹیکسز کابوجھ ڈالتے جانا۔ سعودی عرب کے معاشی بحران کاشکار ہونے کے باوجود، سلاطینِ سعودیہ کی طرف سے کوئی ایسا بیان یا پلان دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا جو ان کے اپنے اخراجات کو کم کرنے کے حوالے سے ہو ۔ شاہ سلمان ودیگرشخصیات روس، یورپ ودیگر ممالک کے دورے پہ جاتے ہیں تو اس کروّفرسے ہی جاتے ہیں جیسے وہ معاشی بحران سے پہلے جایا کرتے تھے جبکہ ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے جو سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ مغرب کے حکمرانوں کا معیار زندگی ان کی عوام کی خوشحالی اورآسودگی کی علامت ہے۔ وہ سادہ طرززندگی اختیار کرتے ہیں اور عوام کے پیسوں پہ عیاشی نہیں کرتے ۔معیشت کو مضبوط بنیادوں پہ قائم کرنے کے لئے فقط ایک شہر بسانا یا سیاحوں کے لئے عیاشی کامرکز بناناضروری نہیں ، اس کے لئے تعلیم ، سائنس ،جمہوری رویے ، آنیوالوں اور رہنے والوں کو ملکی حقوق مساویانہ طور پر دینا ضروری ہوتا ہے ۔
ولی عہد محمد بن سلمان نوجوان ہیں اور باصلاحیت بھی ہیں۔ وہ آج جن جدیدِ اصلاحات کی سعودی عرب میں بنیاد رکھیں گے اس کے ثمرات آنیوالی نسلیں حاصل کریں گی۔پائیدار خوشحالی اجتماعی تبدیلی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اجتماع تبدیلی ان اصلاحات پہ منحصر ہوتی ہے جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے مفادات و حقوق کاتحفظ اور ان کی بقاء ہوتی ہے ورنہ خوشحالی اورآسودگی ایک بوسیدہ عمارت کی طرح ہوتی ہے جوکسی وقت بھی اپنی بنیادوں پہ گر سکتی ہے۔

مزید کالم ، تجزیہ اور مضامین

تازہ کالم اور مضامین